اپوزیشن ریاست کے انتظامی مشاورتی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی : پنجاب حکومت

اپوزیشن ریاست کے انتظامی مشاورتی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی : پنجاب حکومت
 اپوزیشن ریاست کے انتظامی مشاورتی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی : پنجاب حکومت

  


لاہور( خبر نگار خصوصی ) پنجاب اسمبلی میں سانحہ راولپنڈی پر بحث حکومت اور اپوزیشن میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں بدل گئی جس دوران حکومت کی طرف سے اپوزیشن پر بالواسطہ پر واضح کردیا گیا کہ اپوزیشن کے منتخب نمائندوں کو ریاست کے انتظامی امور میں مشاورتی عمل کا حصہ نہیںبنایا جاسکتا ، اس عمل میں شامل ہونے کیلئے اپوزیشن کو حکومت کا حصہ بننا ہوگا بصورتِ دیگر اپوزیشن صرف اپوزیشن کا کردار ادا کرے ۔ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے فیصلے کے مطابق سانحہ راولپنڈی پر مفصل بحث کیلئے ایک دن مختص کیا گیا تھا لیکن تحریک انصاف نے جمعہ کی شب ہی یہ معامہ زیرِ بحث لانے کا مطالبہ کردیا جس دوران اپوزیشن کی طرف سے اس سانحہ کو حکومتی اورر ریاستی مشینری کی ناکامی قراردیکر تنقید کی گئی اور جذباتی تقریریں کی گئیں جس سے ایوان کا ماحول تلخ ہوگیا تاہم سپیکر نے صورتحال کنٹرول کرلی ۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم اس ایوان میں صوبے کے عوام کی بات کرنے کیلئے آئے ہیں ،اگر بات نہیں ہونی تو آنے کا کیا فائدہ ؟ جبکہ سانحہ راولپنڈی حکومتی ناکامی کے باعث پیش آیا جس کا وزیر قانون نے پریس کانفرنس میں اعتراف کیا تھا کہ اعلیٰ پولیس افسر سانحہ کے دوگھنٹے بعد پہنچے ،ان کا کہنا تھا کہ اگر مناسب حکمتِ عملی تیار کی گئی ہوتی اور پولیس کے دس بارہ لوگ بھی بروقت کارروائی کرتے تو جانیں بچ سکتی تھیں ۔راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رکن عارف عباسی نے انتہائی جذباتی انداز میںبات کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی کو پنجاب کا حصہ سمجھا جائے اور اس سانحہ پر بات کی جائے ،وہاں جانیں گئی ہیں قیمتی املاک جلائی گئی ہیں اور لوگوں چیخیں نکل گئی ہیں ، اس سارے معاملے میں حکومتی مشینری ناکام رہی ۔ وہاں کے معاملات میں منتخب نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی حالت کی بہتری و عوام کی اشک شوئی کیلئے ان سے مشاورت کی گئی ۔ ان کی تقریر کے دوران حکومتی بنچوں سے فقرے چست کئے گئے جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیااور جب وزیر قانون نے جواب دیا تو اپوزیشن کی جانب سے بھی شوروغل سنا گیا ۔ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن نے حکومت کے انتظامی معاملات اور اختیارت استعمال کرنے کی خواہش پوری کرنی ہے تو اسے حکومت کا حصہ بن جانا چاہئے ورنہ اپوزیشن اپنا کردار سمجھے اور وہی کردار ادا کرے اس مقصد کیلئے ایک دن بحث مختص کرکے بحث ہونا چاہئے کہ اپوزیشن کا کیا کردار ہے ۔ انہوں نے ایوان کو یقین دہانی کروائی کہ فیکٹ فائنڈنگ اور جوڈیشل نکوائری کی روشنی میں قصور واروں اور ذمہ داروں کیخلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی ۔

مزید : لاہور