’جہنم کے دروازے ‘کی سیر کرنےوالے دنیا کے واحد آدمی نے اندر کا حال بتا دیا

’جہنم کے دروازے ‘کی سیر کرنےوالے دنیا کے واحد آدمی نے اندر کا حال بتا دیا
’جہنم کے دروازے ‘کی سیر کرنےوالے دنیا کے واحد آدمی نے اندر کا حال بتا دیا

  

اشگبت(مانیٹرنگ ڈیسک) آج ہم آپ کو متعارف کروائیں گے ایسی جگہ سے، جسے ”دنیا میں جہنم کا دروازہ“ کہا جاتا ہے۔ترکمانستان میں واقع ایک قدرتی گڑھے میں زمین سے گیس کے اخراج کے باعث گزشتہ 45سال سے آگ جل رہی ہے، اس گڑھے کا درجہ حرارت 1000ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے۔ 44سالہ عالمی شہرت یافتہ مہم جو جارج کورونس نے اس گڑھے کی سیر کرنے کے بعد دنیا کو اصل حقیقت سے آگاہ کیا ہے۔

مزیدپڑھیں:سعودی عرب نے ایئرلائنز کی موجیں لگادیں،اہم فیصلے کا اعلان

جارج اس گڑھے میں 100فٹ نیچے تک گیا اور اس کی سطح پر کچھ دیر تک چلتا بھی رہا، اس نے تپش سے بچانے والا لباس پہن رکھا تھا اور ماسک کے ذریعے آکسیجن لیتا رہا۔ جارج دنیا کا پہلا شخص ہے جس نے اس گڑھے کی سیر کی، وہ گڑھے میں تقریباً 15منٹ تک گھومتا رہااور اس نے وہاں سے مٹی کے کچھ نمونے بھی اکٹھے کیے جن کے تجزیئے سے ایک حیران کن انکشاف ہوا کہ اتنے زیادہ درجہ حرارت کے باوجود اس جگہ پر بیکٹیریا موجود تھے۔جارج نے کہا کہ گڑھے میں جانے سے پہلے سب کچھ غیر یقینی تھا اور کئی طرح کے سوال تھے کہ یہ گڑھا پیندے میں کتنا گرم ہو گا؟ وہاں موجود ہوا سانس لینے کے قابل ہے یا نہیں؟ جن رسیوں کی مدد سے لٹک کر اندر جائیں گے کیا وہ تپش برداشت کر پائیں گی؟اگر رسیاں گرمی برداشت نہ کر سکیں تو نیچے جانے والا شخص کیا کرے گا؟کسی کے پاس بھی ان سوالوں کے جوابات نہیں تھے۔جب میں نے گڑھے کی سطح پر قدم رکھا تو ایک عجیب سا احساس تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی خلائی مخلوق کے سیارے پر آ گیا ہوں۔میں ایک ایسی جگہ پر آ گیا تھا جہاں کبھی کوئی انسان نہیں آیا۔یہ بہت جذباتی کردینے والا کام تھااور خطرناک بھی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -