روس کے بعد ایک اور ملک نے ترکی پر سنگین ترین الزام لگا دیا، نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا

روس کے بعد ایک اور ملک نے ترکی پر سنگین ترین الزام لگا دیا، نیا تنازعہ کھڑا ہو ...
روس کے بعد ایک اور ملک نے ترکی پر سنگین ترین الزام لگا دیا، نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی کی طرف سے روس کا جنگی طیارہ گرائے جانے کے بعد ایک اور تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اب کی بار شام نے ترکی پر الزام عائد کر دیا ہے کہ اس کی حدود سے شامی فوج کے ٹھکانوں پر درجنوں مارٹر گولے پھینکے گئے ہیں۔ شامی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی میحوب نے ایک پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ترک فوج نے براہ راست شامی فوج کو نشانہ بنایا ہے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ”شام اور ترکی کا بارڈر دہشت گردوں کے قبضے میں ہے اور ترکی اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اسلحہ و گولہ بارود سمیت ہر طرح کی امداد فراہم کر رہا ہے۔

علی میحوب کا کہنا تھا کہ ترکی اس اسلحے و دیگر مدد کے عوض دہشت گردوں سے انتہائی کم قیمت پر تیل اور شام اور عراق کے عجائب گھروں سے لوٹے گئے نوادرات خرید رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے ترکی کے ساتھ ملحق شامی سرحد کو سیل کر رکھا ہے اس کے لیے ترکی کے ٹرک اور گاڑیاں آسانی سے شام کے اس سرحدی علاقے میں آ سکتی ہیں۔انہوں نے اعتراف کیا کہ شامی افواج کا اس بارڈر پر کوئی کنٹرول نہیں۔

دوسری طرف جس طرح طیارہ گرائے جانے پر روسی صدر نے ترکی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں اسی طرح اس واقعے پر شامی فوج کے کمانڈر انچیف نے ترکی کو وارننگ دی ہے کہ ایسے اقدامات کا خطرناک نتیجہ نکلے گا۔

مزید :

بین الاقوامی -