پاکستانی لڑکیوں سے شادی، افغان مہاجرین مشکلات کا شکار
وزیرستان (ویب ڈیسک) جب سے حکومت پاکستان نے یہاں سے غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان مہاجرین کو نکالنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے تو اس کے ساتھ ہی ہزاروں افغان مہاجرین نے گرفتاری سے بچنے کیلئے اپنے ملک افغانستان کا رُخ کردیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اب تک پاکستان سے 33 ہزار افغان مہاجرین اپنے اپنے علاقوں کو چلے گئے ہیں لیکن ان افغان مہاجرین میں ایسے بہت سے افغان مہاجرین بھی ہیں جنہوں نے پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ شادیاں کی ہیں جبکہ ایسے بھی بہت سے پاکستانی ہیں جنہوں نے افغان لڑکیوں کے ساتھ شادیاں کی ہیں لیکن وہ والدین کی بیٹیوں کی شادیاں افغان مہاجرین کے لڑکوں کے ساتھ ہوئی ہیں۔
اپنی بیٹیوں کو افغانستان اپنے شوہروں کے ساتھ جانے پر خوش نہیں ہیں کیونکہ پھر ان کے اپنے بیٹیوں کے ساتھ ملنے کے لئے افغانستان جانے کے لئے پاسپورٹ اور ویزہ کی ضرورت ہوگی جو کہ ایک مشکل کام ہوگا اور اس طرح اُن والدین کے لئے بھی ایسی ہی مشکلات کا سامنا ہوگا جن کی بیٹیوں کی شادیاں پاکستانی لڑکوں کے ساتھ ہوئی ہیں کیونکہ ان کو بھی پھر پاکستان آنے کے لئے ویزہ اور پاسپورٹ درکار ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں ممالک کے سسرال اس صورت حال سے پریشان ہوگئے ہیں۔

