ان آنکھوں نے جو کچھ دیکھا

ان آنکھوں نے جو کچھ دیکھا
ان آنکھوں نے جو کچھ دیکھا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دھرنا ختم ہوا دھرنے والے اٹھ گئے – لیکن ایک ڈر سا ہے جو دل میں بیٹھ گیا ہے۔شہری جو ایک عذاب میں مبتلا تھے اس کے اثر سی باہر آرہے ہیں – سکول کھل گئے بچے اپنی تعلیم گاہوں کو جا رہے ہیں – اب ان محرکات کا ذکر ہو رہا ہے کہ بات یہاں تک پہنچی – اپنے تئیں ہر کوئی خود کو  بے گناہ ثابت کرنے کے لئے  دوسرے پہ الزام لگا رہا ہے اور میں سوچ رہا ہوں  کہ اب میں کیا لکھوں ۔ کس کا دفاع کروں ۔ کیا امید دلاؤں ۔ کس سے گلہ کروں ۔ کہوں تو کیا کہوں ۔ لکھوں تو کیا لکھوں ۔ دل درد سے بوجھل ہے تو زبان اظہار سے قاصر ۔ کاش جو آنکھوں نے دیکھا وہ نہ دیکھا ہوتا ۔ کسے مورد الزام ٹھہراوں کیا توجیہہ پیش کروں ۔ میں آج کینوس پہ ابھرے ہر نقش کی ایک بھیانک تصویر دیکھ کر ڈر گیا ہوں ۔ گذرے حالات و واقعات کو جانچتا ہوں تو شطرنج کی بازی اور پھر سجے مہرے دیکھتا ہوں ۔ کھیلنے والوں کے چہروں پر بچوں کی سی ضد ہے ، بچوں کا سا کھیل اور سپورٹس مین شپ سے عاری کھلاڑی ، جب دلی تمناؤں کے حسب منشا نتائج  نہیں پاتے تو بساط ہی الٹ دیتے ہیں ۔ ان کا یہ عزم ہے کہ نہ کھیلیں  گے اور نہ کھیلنے ہی دیں گے ۔ کیا کہوں اس کو ۔ کیا نام دوں اس کو۔ کیا کسی قوم کے بڑے یوں بھی کبھی  کیا کرتے ہیں کہ نادان کے ساتھ نادان بن جائیں ۔ یہ تو ان کا شعار نہیں ہوتا ۔ جوش میں ہوش کی باتیں کرنے اور جذبات کی رو میں بہہ جانے کی بجائے عقل و دانش کا دامن تھام لینا ہی کسی لیڈرشپ کا طرہ ءامتیاز ہوتا ہے ۔ کانٹوں سے دامن بچا کے پھولوں کی سیج سجانا ہی راہنماؤں کا وطیرہ ہوتا ہے ۔ کسی چیز کو کاٹ پھیکنا بہت آسان ہے اور کاٹے ہوئے کو اصل حالت میں جوڑنا شاید نا ممکن ۔ آج جو رشتہ جو تعلق ہم نے کاٹ پھینکا ہے تاریخ اسے کیا کہے گی ۔ کیا لکھے گی ۔ کیا میرے وطن کی تاریخ اپنے باسیوں اپنے پوتوں پہ فخر کر سکے گی ۔کیا یہ زخم رفو بھی ہو سکیں گے ۔ کیا دامن کے لگے یہ داغ کبھی مندمل بھی ہوں گے ۔ کیا یہ آہیں ۔ یہ سوگ ۔ یہ آگ ۔ یہ دھواں کبھی آنکھوں سے بہتے پانیوں کو بھی خشک کر سکے گا ۔ کیا یہ نفرتیں یہ کدورتیں ختم ہو کر کبھی محبتوں کے پیام بنیں گی ۔ اعتماد ۔ رشتہ ۔ بھروسہ اور دل جیتنے کو ایک عمر چاہیئے ۔ جتنی کوشش سے بھی یہ پیار سینچا جائے کچے دھاگے کی طرح نازک ہی تو ہوتا ہے یہ سب کچھ ۔ چند ثانیے ہی تو لگتے ہیں الفتوں کو تہہ و بالا کرنے میں ۔ رشتے توڑ دینے میں ۔ کیا بعد کی لگی گرہیں بھی کبھی خوبصورت دکھائی دی ہیں ۔ کیا یہ آپس کا ملاپ سروں پہ ٹوٹا ہی نہیں  نظر نہیں آیا کرتا ۔درمیان میں لگی گانٹھ یہ بتاتی ہے کہ یہ رسی ٹوٹ بھی سکتی ہے اور توڑی جا بھی چکی ہے ۔ گرہ لگی ڈور   ہو  ،لگے  پیچ کے امتحان  ہوں  یا زندگی  کے نشیب و فراز سب سے پہلے گرہ ہی کٹتی ہے ۔طرفین میں سے کسی نے بھی کچھ نہ سوچا ۔ امن کے مذہب میں بربریت کہاں سے عود آئی ۔ سلامتی ، امن و آتشی کو ماننے والے کیوں ایک دوسرے پہ چڑھ دوڑے ۔ ہم تو ان کی قوم ہیں جنہوں نے سدا درس التفت ہی دیا  ہے -وہ جن کے پاؤں لہو لہان لیکن لب پہ رحمتوں کی دعائیں ہی رہیں ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو دو عالم کی رحمت ہیں جنہوں نے برسوں کے دشمن گلے لگائے ۔ جنہوں نےصدیوں کے بر سر پیکار شیر و شکر کیے ۔ ان کے پیروکار ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوں تو کیا یہ  ان کے نقش قدم پر چلنا ہے یا ان سب تعلیمات کی منافی ہے جس کے لئے انہوں نے پتھر کھائے ۔ سختیاں جھیلیں اور اپنے بد ترین مخالف کو عفو و درگذر کی صفات سے سدا کے لئے رام کر لیا ۔ ان کے خلق اور حسن سلوک کی ہر کوئی مثال دے ۔جن کی چلمن سے نفرتوں کے سوا کچھ نہ پایا انہی کے در و دیوار کو امن و سلامتی کا گہوارہ قرار دے دیا فتح مکہ کیا ہماری اسلامی تاریخ نہیں ہے ۔ کیا ہندہ سے بھی رحمت اللعالمین کی نظر میں کوئی اور بڑا عدو تھا کہ جس نے میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا رلایا کہ دامن تر ہوگیا اتنا رنجیدہ کیا کہ آپ کے لئے درد سہنا بھی مشکل ہو گیا لیکن جب بدلہ لینے کا وقت آیا تو اس کے دولت خانہ میں پناہ لینے والے کی قسمت میں پناہ ہی پناہ لکھ دی ۔ 

آج سڑکیں بند ۔ گلی کوچے بند ۔ کاروبار بند ۔ دکانیں بند غرض ہر چیز بند یا شاید عقل کے در بھی بند کہ اپنی ہی املاک ۔ اپنے ہی شہر اور اپنے ہی گھر کو نظر آتش کرتے ہوئے ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ کس کا نقصان کر رہے ہیں ۔ اپنے دست و پا تو کوئی نہیں کاٹتا ۔ اپنوں پہ تو کوئی چرند پرند درند بھی وار نہیں کرتا ۔ دکھتے اعضا کو کون ہاتھ کا چھالا بنا کے نہیں رکھتا ۔اگر نہیں تو پھر مذہب پہ ہوتی ہوئی سیاست کیا ہے اور ہم پہ جو ہنستی ہوئی دنیا انگلیاں اٹھا اٹھا کر ہمیں دہشت گرد منوانے میں جتی ہوئی ہے کیا ہم اس کی تسکین قلب کا باعث تو نہیں بن رہے ۔ کیا ہم اس کے ایجنڈے اور سازش کو تقویت تو نہیں پہنچا رہے ۔ کیا ہم اپنے مفادات پہ دشمن کے حملوں کو کوئی دعوت تو نہیں دے رہے ۔ سرحدیں تو غیر محفوظ ہی تھیں ہم نے اپنے شہر ۔ بستیاں بھی خون میں تج دیں ۔کیا مسلمانوں اور مسلم دنیا پہ صیہونی طاقتوں کے ظلم ہی کچھ کم تھے جو ہم نے بھی ایک دوسرے کا گلہ کاٹنا شروع کر دیا ہے ۔ اس رسی کے ہی درپے ہوگئے ہیں جس کو مضبوطی سے تھام لینے کا حکم تھا ۔ حشر اٹھا دینے والو کیا روز حشر اپنے اعمال کا حساب دے سکو گے ۔ کیا ان سے آنکھیں ملا سکو گے جنہوں نے گالیاں سن کر دعائیں دیں ۔ اگر کوئی راہ حق سے بھٹک جائے تو اسے سمجھاتے ہیں ۔ غصہ تو حرام ہے پھر آپ میں اتنی خفگی اتنا غصہ کیوں ۔ غصہ تھوک دینا ہی عین اسلام ہے ۔ اپنے مسلمان بھائی کو گلے لگا لینا ہی اس کی تعلیم ہے ۔ابھی بھی مل بیٹھنے کا وقت ہے ۔ ابھی بھی واپسی کا ہر رستہ کھلا ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس غصہ کی حالت میں ہم اتنا نقصان کر بیٹھیں کہ جو نا قابل تلافی ہو اور یوم حساب ہماری شرمندگی ہی شرمندگی لکھے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : بلاگ