بھارت بھی پاکستانی مسلمانوں کے لئے سرہند شریف تک کوریڈور بنائے 

بھارت بھی پاکستانی مسلمانوں کے لئے سرہند شریف تک کوریڈور بنائے 

  



وزیراعظم عمران خان نے نارووال میں کرتار پور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھ دیا،جس کی تعمیر چھ ماہ میں مکمل ہو گی۔ تقریب میں بھارتی وفد بھی شریک ہوا۔کرتار پور میں دربار صاحب کا گوردوارہ سرحد کے قریب واقع ہے، راہداری کا کچھ حصہ پاکستان تعمیر کرے گا، جس کا سنگِ بنیاد آج رکھا گیا، جبکہ بھارتی علاقے میں تعمیر ہونے والی راہداری کے سنگِ بنیاد کی تقریب دو روز پہلے ہو چکی ہے، سکھوں کے مطابق سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک1522ء میں کرتار پور گئے تھے اور انہوں نے زندگی کے اٹھارہ برس وہیں گزارے اور اِسی جگہ انتقال کیا۔گوردوارہ بھی اِسی مقام پر تعمیر کیا گیا ہے،پاکستان کے دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ بھارت میں مقیم سکھوں کو بغیر ویزہ گوردوارہ تک آمدورفت کی اجازت ہو گی۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ آنے والے سکھوں کے پاس بین الاقوامی پاسپورٹ ہو گا یا کسی دوسری قسم کی سفری دستاویزات ہوں گی، جیسا کہ آزادی کے فوراً بعد دونوں ممالک میں آمدورفت کے لئے پرمٹ سسٹم رائج تھا۔

مشرقی پنجاب کے سکھ سیاست دان اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، جو ایک ٹیلی ویژن چینل پر کامیڈی شو کے میزبان بھی ہیں، بڑی باغ و بہار شخصیت ہیں، کرکٹر ہونے کے ناتے اُن کے وزیراعظم عمران خان سے قریبی تعلقات ہیں اِسی حوالے سے اُنہیں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور وہ اس میں شریک ہوئے۔ ایک تقریب میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب کرتارپور تک کوریڈور بنانے کی تجویز پیش کی تھی تو سدھو نے اس پر فوری اظہارِ مسرت کے طور پر انہیں جپھّی ڈال دی تھی،لیکن یہ ایک جپھّی سدھو کے ہم وطنوں کو آج تک ہضم نہیں ہو رہی اور اُنہیں کئی بار ہدفِ تنقید و ملامت بھی بنایا گیا اُن کے متعلق سخت ست الفاظ بھی استعمال کئے گئے، اب بھارت کی مرکزی حکومت نے یہ تجویز مان کر راہداری کی تعمیر کا آغاز تو کر دیا ہے،لیکن قطرے پر گہر ہونے تک کیا گزرتی ہے اس کا انحصار آنے والے حالات پر ہی ہو گا، بھارت میں اس وقت بی جے پی کی حکومت ہے،جس کا کانگریس کے ساتھ اِٹ کھڑکا چلتا رہتا ہے، اگلے برس چونکہ عام انتخابات ہونے والے ہیں،اِس لئے عین ممکن ہے مودی نے سکھوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے راہداری کی تجویز منظور کر کے شاطرانہ چال چلی ہو، کیونکہ پنجاب میں بی جے پی اور کانگرس کے حامیوں کا براہِ راست انتخابی مقابلہ ہوتا ہے۔

سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو یہ حق بہرحال حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقدامات کے ذریعے پوائنٹ سکورنگ کرتی ہیں،بی جے پی اگر بھارت میں اس اقدام کو اپنے حق میں جنرل انتخاب میں جیت کے لئے استعمال کر رہی ہے تو پاکستان میں بھی اُن لوگوں کی کمی نہیں،جن کا یہ خیال ہے کہ اب دونوں ممالک میں دوستی کی شاہراہ کشادہ ہو جائے گی۔امید تو اچھے حالات کی ضرور رکھنی چاہئے،لیکن دونوں مُلک تلخی اور کشیدگی کا جو ملبہ اُٹھا کر آگے بڑھ رہے ہیں اس کے باوجود یہ امکان بالکل ردّ نہیں کیا جا سکتا کہ تمام تر نیک خواہشات اِس ملبے میں دب کر رہ جائیں اور پھر اس ڈھیر میں سے دوستی اور امن برآمد کرنے کے لئے برسوں، بلکہ عشروں لگ جائیں۔ تاہم بہتری کی امید تو رکھی جانی چاہئے۔

مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان دونوں علاقوں کی مقامی زرعی پیداوار کو ایک دوسرے حصے میں پہنچانے کے لئے کئی سال قبل ٹرکوں کے ذریعے تجارت شروع کی گئی تھی،لیکن یہ سلسلہ رُک رُک کر ہی آگے بڑھتا ہے اور ہر چند ہفتوں کے بعد طویل عرصے کے لئے تجارت کا یہ سلسلہ رُک جاتا ہے اور پھل و سبزیاں ٹرکوں پر لدی لدائی خراب ہو جاتی ہیں، پھر اس میں قباحت یہ بھی ہے کہ یہ پھل اور سبزیاں بنیادی طور پر تو آزاد کشمیر میں فروخت کے لئے لائی جاتی ہیں،لیکن جب مقامی طور پر فروخت نہیں ہو پاتیں یا تاجروں کو اُن کی اچھی اور توقعات کے مطابق قیمت نہیں ملتی، تو ان اشیاء کو آزاد کشمیر سے آگے راولپنڈی اور لاہور تک بھی غیر قانونی طور پر فروخت کے لئے لایا جاتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام تر تجارت بہت ہی ناپائیدار بنیادوں پر ہو رہی ہے اور اچانک ہی تعطل کا شکار ہو جاتی ہے،اِس لئے تجارتی تعلقات کے لئے بہتر ہمسایوں کا طرزِ عمل بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔اب جبکہ سکھوں کے لئے کرتارپور راہداری کھولنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں پاکستان میں بعض حلقے بجا طور پر یہ پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان نے ستر سال بعد اگر خیر سگالی کا ایک بڑا اقدام کیا ہے تو اس کے جواب میں بھارت کی جانب سے بھی کسی خیر سگالی کا اظہار تو ہونا چاہئے اور اگر زیادہ نہیں تو اس سے ملتا جلتا کوئی اقدام تو کیا جا سکتا ہے،جس سے یہ پیغام ملتا ہو کہ پاکستان خیر سگالی کا یہ اظہار یکطرفہ طور پر نہیں کر رہا، جس طرح سکھوں اور ہندوؤں کے مقدس مقامات پاکستان میں ہیں اسی طرح مسلمانوں کے بھی ہزاروں مقدس مقامات بھارت میں موجود ہیں،کیونکہ مسلمانوں نے سینکڑوں برس تک پورے برصغیر پر حکومت کی تھی اور اس عرصے میں چپے چپے پر مسلمانوں کی تہذیب کے نشانات ثبت کئے تھے۔ بھارت کے اندر مسلمانوں کے قائم کئے ہوئے تعلیمی ادارے ہیں،بزرگوں کی خانقاہیں ہیں ایسے مزارات ہیں جہاں صرف مسلمان ہی نہیں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی حاضری دینا باعث سعادت سمجھتے ہیں۔دہلی کی جامع مسجد میں کروڑوں مسلمانوں کے سجدوں کے نشان ثبت ہیں۔ دہلی میں خواجہ نظام الدین اولیا کا مزار مرجع خلائق ہے،اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ آسودہ خاک ہیں، جہاں دِن رات خلقِ خدا اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کرتی ہے۔ سرہند شریف میں امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی ؒ محو استراحت ہیں،جنہیں علامہ اقبالؒ نے ’’ہند میں سرمایۂ ملت کا نگہبان‘‘ قرار دیا تھا۔ مسلمانوں کا دِل بھی چاہتا ہے کہ وہ ان مقامات کی زیارت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں۔

حضرت مجدد الف ثانی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُن کی تعلیمات اور مساعی کے طفیل دین الٰہی ایجاد کرنے والے اکبر بادشاہ کی نسل سے اورنگزیب عالمگیر پیدا ہوا،جس نے ہندوستان کی سرزمین سے کفر و شرک کے اندھیروں کو دور کرنے میں اپنی صلاحیتیں صرف کر دیں۔ تمدنِ ہند پر مسلمانوں کے اثرات ہمہ گیر اور انمٹ ہیں اور ہندوستان کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں مسلمانوں نے اپنی عظمت کے یاد گار نقوش ثبت نہ کئے ہوں۔فراخ دِل ہندو مورخین نے مسلمانوں کا یہ کردار اپنی کتب تاریخ میں تسلیم کیا ہے۔پاکستان کے مسلمانوں کی یہ خواہش بھی ہے کہ جس طرح سکھوں کے لئے کرتارپور تک ایک کوریڈور تعمیر کیا جا رہا ہے اُسی طرح بھارت کی حکومت سرہند شریف تک مسلمانوں کے لئے ایک کوریڈور تعمیر کرنے کی اجازت دے کر جوابی خیر سگالی کا مظاہرہ کرے تاکہ ہم مسلمان بھی یہ محسوس کریں کہ پاکستان خیر سگالی کے مظاہرے یکطرفہ نہیں کر رہا، بھارت بھی جواب میں اسی طرزِ عمل کا اظہار کر رہا ہے۔ ابتدائی طور پر سرہند شریف تک مسلمانوں کے لئے اس طرح کی راہداری کھولی جا سکتی ہے،جیسی پاکستان کے اندر کرتارپور کوریڈور کی شکل میں کھولی جا رہی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...