مولاناسمیع الحق شہید۔۔۔ سعادت کی زندگی، شہادت کی موت

مولاناسمیع الحق شہید۔۔۔ سعادت کی زندگی، شہادت کی موت
مولاناسمیع الحق شہید۔۔۔ سعادت کی زندگی، شہادت کی موت

  



موت۔۔۔ ایک اٹل حقیقت اورابدی سچائی ہے۔ موت ۔۔۔ سے انکار اور فرارممکن نہیں، ہر آنے والا جانے کے لئے آتاہے اور ہرآنے والے کے دنیا میں رہنے سہنے اور زندگی گزارنے کے انداز و اطوار مختلف ہوتے ہیں۔ جس طرح کی انسان دنیامیں زندگی گزارتا ہے اسی طرح اس کاانجام ہوتاہے۔کچھ ایسے ہوتے ہیں جو دنیامیں آتے، لیکن زمین کابوجھ بن جاتے ہیں۔ ان کی مثال خارداردرخت کی سی ہوتی ہے جس کے پاس سے گزرنے والااس کے کانٹوں سے الجھ جاتا ہے، اس کے کپڑے پھٹ جاتے اورجسم لہولہان ہو جاتا ہے۔کچھ لوگ ابربہاراورشجرسایہ دارکی طرح ہوتے ہیں، ان کی چھاؤں سے اپنے بیگانے سبھی مستفید ہوتے ہیں۔

وہ خیر، نیکی، بھلائی کا منبع، سچائی، صداقت اور حریت فکرکے پیامبر ہوتے ہیں۔ مولاناسمیع الحق بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھے، ابر بہار اور شجرسایہ دار۔ اسلام کے سچے شیدائی، جرأتمند، بہادر اور جذبہء حب الوطنی سے سرشار، وہ قیادت، سیادت، صحافت اور خطابت کے اوصاف سے متصف ہونے کے ساتھ ساتھ مجاہدانہ کردارکے مالک بھی تھے۔ مولانا سمیع الحق کے آباواجداد کا تعلق سرزمین افغانستان کے علاقہ غزنی سے تھا ۔

ان کے آباواجداد سلطان محمودغزنوی کے جہادی لشکرکے ساتھ بغرض جہاد ہندوستان آئے اور اس کے بعدوہ مستقل اکوڑہ خٹک میں رہائش پذیر ہو گئے۔ پہاڑوں کی سرزمین کے اپنے ہی اثرات ہوتے ہیں جیساکہ شاعرمشرق علامہ محمداقبال کہتے ہیں۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی

یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی

یہ اثرات مولاناسمیع الحق کی شخصیت پربھی غالب تھے۔ وہ خلوص کا بحر بیکراں، بلند عزم، بلند حوصلہ، جہاد، خطابت،علم اورمسندتدریس کے شہسوار تھے ۔جب رزمِ حق وباطل ہوتی تووہ شمشیربرہنہ ہوتے،جب حلقہ یاراں ہوتاوہ بریشم کی طرح نرم ہوتے۔وہ جہادی میدانوں کے داعی تھے تو مسند تدریس کے بھی راہرو تھے۔

انہوں نے درس وتدریس کاسلسلہ اپنے والد گرامی مولاناعبدالحق کی زندگی میں ہی شروع کر دیا تھا۔ اسی طرح سیاست کے اسرارورموزبھی انہوں نے اپنے والدگرامی سے سیکھے اورسمجھے۔وہ نرم دم گفتگوگرم دم جستجو کی زندہ مثال تھے۔

مولاناسمیع الحق متحرک وفعال شخصیت کے مالک تھے۔ ان کادل اسلام،جہاداورپاکستان سے محبت کے جذبات سے لبریزتھایہی وجہ تھی کہ انہوں نے اسلام کی سربلندی اور پاکستان کے دفاع کے لئے چلنے والی ہرتحریک میں بھرپور حصہ لیا۔

1974ء کی تحریک ختم نبوت کی کامیابی میں ان کا بہت بڑا حصہ تھا۔ ان کی کتاب ''قادیانیت، ملت اسلامیہ کا موقف'' اور دوسری کتاب ''قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ'' قادیانیت پران کے وسیع مطالعہ کاثبوت ہے۔ بعدازاں1977ء میں جب تحریک نظام مصطفی چلی تو اس میں بھی انہوں نے قائدانہ ومجاہدانہ کرداراداکیاجس کی پاداش میں کئی ماہ تک ہری پورجیل میں قیدوبند کی صعوبتیں خندہ پیشانی سے برداشت کیں اوران کے پائے استقلال میں ذرہ بھرلغزش نہ آئی۔

مولاناعبدالحق تین دفعہ قومی اسمبلی کے ممبرمنتخب ہوئے، مولانا سمیع الحق نے لائق اورہونہار فرزندکی طرح اپنے والدگرامی کی سیاسی مہم میں بھی بھرپورکرداراداکیا ۔جنرل محمدضیا الحق مرحوم کے دورمیں آپ کو وفاقی مجلس شوری کا ممبر نامزد کیا گیا تو زکوٰۃ وعشر، حدود، قصاص ودیت اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کانفاذ، آئین میں بے شمار اسلامی شقوں اور دفعات کا شمول آپ ہی کی شبانہ روز جدوجہد کی بدولت ممکن ہوا۔

جب آپ 1985ء میں سینیٹ آف پاکستان کے ممبر بنے توآٹھ سال کی طویل تاریخ ساز جدوجہدکے بعدسینیٹ سے شریعت بل منظور کروایا۔

علاوہ ازیں انہوں نے خودبھی بے شمار تحریکوں اور اتحادوں کی بنیاد رکھی، انہیں منطقی انجام تک پہنچایا اور کامیابیاں حاصل کیں۔اسلامی جمہوری اتحاد قائم کیا جس میں نوسیاسی ومذہبی جماعتیں شامل ہوئیں اورمتفقہ طور پر آپ کو اس اتحادکاسنیئرنائب صدرمنتخب کیاگیا۔

1988ء میں متحدہ علما کونسل کے پلیٹ فارم پرتمام مکاتب فکر کے علما اوراکابرین کوجمع کیا۔ 1993ء میں متحدہ دینی محاذ تشکیل دیا۔یکم جنوری 1995ء کوتمام مکاتب فکر کے علما اور ارباب مدارس کو جمع کر کے ’’تحریک تحفظ مدارسِ دینیہ‘‘کی بنیادرکھی۔1996ء میں جب پاکستان فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا تھا، بم دھماکے ہورہے تھے،مختلف مکاتب فکرکی مساجد کو نشانہ بنایاجارہاتھاتب تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کوایک پلیٹ فارم پرجمع کرکے ملی یکجہتی کونسل قائم کی۔

ملی یکجہتی کونسل کافرقہ واریت کی آگ کوبجھانے اوربین المسالک ہم آہنگی کی فضاپیداکرنے میں اہم کردار رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مولاناسمیع الحق ہرسیاسی ،مذہبی محاذکے سرخیل اورسالارتھے۔

دینی مدارس پرافتادآتی تووہ پیش پیش ہوتے، قادیانیت کامسئلہ کھڑا ہوتا تو وہ صف اول میں نظرآتے،اسلام پرکوئی حملہ آورہوتاتووہ اسلام کادفاع کرنے والوں کی قیادت کرتے نظر آتے، پاکستان کے دفاع کی بات ہوتی تو وہ سپہ سالار کا کردار ادا کرتے نظرآتے۔

جب امریکہ افغانستان پرحملہ آور ہوا تو پاکستان میں اس حملہ کے خلاف جو موثر آوازیں اٹھیں ان میں ایک آواز مولاناسمیع الحق کی تھی۔اس موقع پر مولانا سمیع الحق نے پروفیسرحافظ محمدسعیدکی معیت میں ’’دفاع افغانستان وپاکستان کونسل‘‘قائم کی۔

یہ وہ وقت تھا جب جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل نے امریکہ کے افغانستان پر حملہ کے اصل مقاصدسے پردہ ہٹاتے ہوئے مبنی برحقائق ایک تاریخی جملہ بولاتھاکہ افغانستان پرحملہ بہانہ ہے جبکہ پاکستان اصل نشانہ ہے بعدکے حالات نے ثابت کر دکھایاکہ جنرل حمیدگل کایہ تجزیہ بالکل درست تھا۔امریکہ نے مسلسل پاکستان کونشانے پررکھ لیا،ڈرون حملے کئے جاتے،جن میں سویلین اورفوجی تنصیبات کونشانہ بنایا جاتا۔

بالخصوص نومبر 2011ء میں جب نیٹوافواج نے سلالہ چیک پوسٹ پرحملہ کیاتواس جارحیت کے ردعمل میں چالیس مذہبی جماعتوں پرمشتمل دفاع پاکستان کونسل کاقیام عمل میں لایاگیا۔

مولاناسمیع الحق تاحیات اس کے چیئرمین تھے۔مولاناسمیع الحق نے اس ذمہ داری کواس طور نبھایاکہ بیماری اورضعف کے باوجودملک میں جہاں بھی دفاع پاکستان کونسل کا پروگرام ہوتاوہ خود پروگرام میں پہنچتے۔ اپنے ولولہ اور پرجوش خطاب کے ذریعے دشمنوں کو للکارتے، ان کی سازشوں کے تاروپود بکھیرتے اور قوم کوحوصلہ دیتے تھے۔

مولاناسمیع الحق کی قیادت میں اورجماعۃ الدعوۃ کے امیرپروفیسرحافظ محمدسعیدکی رہنمائی میں دفاع پاکستان کونسل نے۔۔۔ پاکستان کے دفاع، استحکام، اسلام کی سربلندی، امریکہ وبھارت کے پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم کوناکام بنانے کے لئے ملک بھرمیں بڑے بڑے جلسے کئے،عظیم معرکے لڑے، کارہائے نمایاں انجام دیے، امریکہ اوربھارت کی اسلام، پاکستان اورافواج پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازشوں اور پراپیگنڈے کوبے نقاب کیا،قوم کو متحد و متفق کیا۔

اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ مستقبل کامورخ جب بھی پاکستان کے دفاع اوراستحکام کے حوالے سے قلم اٹھائے گا،حالات وواقعات کو قلمبند کرے گا تووہ دفاع پاکستان کونسل، مولاناسمیع الحق اور پروفیسرحافظ محمدسعید کاتذکرہ کئے بغیرنہیں رہے گا۔

مولانا سمیع الحق کی پاکستان کے دفاع کے لئے کیاخدمات تھیں، اس کااندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولاناسمیع الحق کی شہادت پربھارت میں اور افغانستان میں جشن منائے گئے، خوشی ومسرت کے شادیانے بجائے گئے ۔خاص کربھارتی میڈیاکی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔

جن بھارتی چینلزپربہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا گیا ان میں ’’را‘‘ کی سرپرستی میں چلنے والاچینل ڈی این اے نیوزپیش پیش تھا۔اس چینل نے مولاناسمیع الحق کی شہادت کوایک بڑے دشمن کی موت قراردیتے ہوئے کہا کہ مولانا سمیع الحق افغانستان میں بھارت کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے ایک بڑے منصوبہ ساز تھے۔

افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس نے کھلے لفظوں میں ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیاکہ ہم نے مولاناسمیع الحق کی شہادت سے اپنے کمانڈرجنرل عبدالرزاق کے قتل کابدلہ لے لیاہے۔واضح رہے کہ جنرل عبدالرازق پاکستان کے بدترین دشمن تھے ۔۔۔ وہ کہاکرتے تھے کہ جب تک جسم میں جان ہے، رگوں میں خون ہے، ہاتھ ہلانے کی سکت ہے، پاکستان کے خلاف لڑتارہوں گا۔

اسی طرح افغان حکومت کے سابق میڈیاڈائریکٹر صدیق صدیقی جو۔۔۔اب موجودہ حکومت کے ترجمان ہیں ۔۔۔نے مولاناسمیع الحق کوسب سے بڑادشمن قراردیتے ہوئے کہااس شخص (سمیع الحق) کے کردارکوبھولناہمارے لئے ممکن نہیں،یہ ہمارے سب سے بڑے دشمن تھے،ان کی وجہ سے ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے۔افغان خفیہ ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر رحمت اللہ جواس وقت افغان صدراشرف غنی کے حفاظتی دستہ کی سربراہی کے اہم ترین عہدہ پرفائزہیں ۔۔۔ نے اپنے دل کے پھپھولے ان الفاظ میں پھوڑے ۔۔۔ مولانا سمیع الحق آئی ایس آئی کاایک بڑااثاثہ اورہمارے سب سے بڑے دشمن تھے۔ 

یہ توتھے پاکستان کے دشمنوں کے ان کے بارے میں جذبات واحساسات۔ جہاں تک دوستوں کاتعلق ہے، دوستوں کے لئے وہ ابریشم کی طرح نرم تھے۔ہنس مکھ، خوش اخلاق،خوش خصال اورخوش گفتار، ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ وہ وسیع الظرف انسان تھے۔ پاکستان کی تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کے قائدین سے ان کے خصوصی تعلقات تھے۔ یہی وجہ تھی وہ پاکستان کی تمام سیاسی ومذ ہبی جماعتوں میں انتہائی محبت اور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

مولاناسمیع الحق کویہ اعزازحاصل ہے کہ وہ پاکستان کے ایک بڑے دینی ادارے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم رہے۔ انہوں نے اپنے والدگرامی کاجانشین اور دارالعلوم حقانیہ کا مہتمم ہونے کاحق اداکیا۔ جس انداز سے اپنے والد کے بعد ادارے کو چلایا، سجایا اور آگے بڑھایا، یہ بھی ان کی قائدانہ صلاحیتوں کاثبوت ہے۔مولاناسمیع الحق کی زندگی ۔۔۔ سعادت کی زندگی اور موت ۔۔۔ شہادت کی موت تھی۔ ان کی شہادت پورے ملک کو سوگوار کر گئی، عام آدمی سے لے کر اعلیٰ حکومتی ذمہ داران اورتمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کے قائدین وکارکنان تک سب ہی رنجیدہ و افسردہ تھے۔مولاناسمیع الحق کوشہیدپاکستان کہاجائے تو بے جانہ ہوگا۔

ان کاجنازہ غالباً پاکستان کی تاریخ کاسب سے بڑاجنازہ تھاجوسات کلومیٹرپرمحیط تھا جس میں بلاتفریق تمام مسالک کے جید علما، طلبہ اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔جماعۃ الدعوۃ نے ان کے بارے میں ایک دستاویزی فلم جاری کی جس میں ان کی حیات،پاکستان،اسلام اور کشمیر کاز کے لئے خدمات کاذکرکیاگیاہے۔

مولاناسمیع الحق آسیہ مسیح کی رہائی کے سلسلہ میں اسلام آبادمیں ہونے والے جلسہ میں شرکت کے لئے آئے اور راولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ پرٹھہرے ہوئے تھے کہ نامعلوم افرادکے ہاتھوں جام شہادت نوش کر گئے۔ گویامولاناسمیع الحق نے اپنی زندگی کاآخری سفر بھی اسلام اورپیغمبراسلام کی عزت وناموس کی خاطر کیا اور اسی راہ میں زبان حال سے یہ کہتے ہوئے جان۔۔۔ جانِ آفریں کے سپردکردی

یہ جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

صدافسوس مولاناسمیع الحق شہیدکے قاتل تاحال گرفتارنہیں ہوسکے جوکہ ایک المیہ ہے۔عمران خان پاکستان کے وزیراعظم ہی نہیں وزیرداخلہ بھی ہیں، اس لئے قاتلوں کی گرفتاری براہ راست عمران خان کی ذمہ داری ہے۔

پاکستانی عوام کامتفقہ مطالبہ ہے کہ مولاناسمیع الحق کے قاتل جلدازجلدگرفتارکئے جائیں اوران کوقرارواقعی سزادی جائے تاکہ آئندہ پاکستان کی سالمیت سے کھیلنے کی کوئی جرأت نہ کرسکے۔

مزید : رائے /کالم