برائلر کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤکے اسباب اور ان کا سد باب

برائلر کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤکے اسباب اور ان کا سد باب
برائلر کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤکے اسباب اور ان کا سد باب

  

 ہر جنس کی قیمتوں میں کمی بیشی اور اتار چڑھاؤ ملکی و بین الاقوامی سطح پر ایک معمول کا مشاہدہ ہے۔ صارفین ہر سطح پر قیمتیں بڑھنے کی صورت میں ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں اور اگر اضافہ کچھ زیادہ ہو جائے تو صارفین کے ساتھ انضباطی کارروائیاں کرنے والے ادارے بھی حرکت میں آ جاتے ہیں۔

بظاہر تو یہ سارا کچھ ایک قدرتی رد عمل کا حصہ لگتا ہے مگراکثر صورت حال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے سے غماز برتا جاتا ہے جو جزوی طور پر مناسب روّیہ نہیں ہوتا۔

جزوی طور پر اس لئے کہ کسی بھی چیز کی قیمت کا تعلق رسد اور طلب کے ساتھ سب سے زیادہ جڑا ہوتا ہے، لیکن پیداوار میں شامل افراد، کاروبار اور اداروں کے پیداواری اخراجات کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر قیمتوں میں اضافے پر نا واجب حد تک رد عمل ظاہر کرنا اور جارحانہ روّیہ اختیار کرنا اس عمل کا بہت حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کا متقاضی ہے۔

بجلی کی غیر مسلسل اور غیر معیاری فراہمی سے لے کر بنیادی زرعی اجناس جس میں گندم ، چاول کا ٹوٹا اور مکئی کی قیمتوں کی بے اعتدالی تک کے عوامل برائلر مرغی کے گوشت کی پیداواری لاگت کو بے حد متاثر کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا اجزاء وہ ہیں جو صرف مقامی ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں ۔

ان اجزاء کی قیمتوں میں بے اعتدالی کے اسباب اپنی جگہ پر ہیں جن کا ہم الگ کسی مقالہ میں ذکر کریں گے۔ مذکورہ اجزاء برائلر مرغی کی خوراک کی پیداواری لاگت کا تقریباً30 فیصد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً40 سے 50 فیصد اجزاء کا تعلق بین الاقوامی مصنوعات سے ہوتا ہے جن میں سویا بین اور اس سے مقامی طور پر تیار شدہ بین الاقوامی معیار کا سویا بین مِیل شامل ہے۔

سویا بین مِیل کے علاوہ سن فلاور مِیل اور کینولا مِیل بھی بین الاقوامی درآمدی مصنوعات میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بہت قلیل مقدار میں لیکن بہت مہنگے اجزاء، جن میں ادویات اور نمکیات شامل ہوتے ہیں وہ بھی درآمدی مصنوعات میں شامل ہیں۔

تمام درآمدی مصنوعات بین الاقوامی عوامل سے براہ راست اور بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں جن میں بحری جہاز اور ہوائی جہاز کا کرایہ ، زر مبادلہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ۔

برآمد کنندگان ممالک کی مالیاتی حکمت عملی ، موسم اور کئی دیگر عوامل بہت زیادہ شدت کے ساتھ متاثر کرتے ہیں ، جو مشینری مرغیوں کی خوراک بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے اس کا بھی بیشتر حصہ درآمد کیا جاتا ہے اور اس پر بھی مذکرہ بالا تمام عوامل اسی طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں۔

ان تمام عوامل کا قدرے تفصیل سے ذکر کرنے کا مقصد صارفین اور انضباطی کارروائیوں کے ذمہ دار محکموں اور افراد کے سامنے یہ وضاحت کرنا مقصود ہے کہ مرغی کا پیداواری عمل بہت سادہ بھی نہیں ہے۔ اس میں بہت زیادہ سرمایہ کاری، دماغ سوزی، منصوبہ بندی اور محنت درکار ہے اور ان تمام چیزوں کا ذہن میں واضح ہونا بہت مناسب ہوگا۔بیان شدہ عوامل کے علاوہ ایک بہت اہم جزو اخراجات کا اور بھی ہے جو صارفین اور انضباطی اداروں کی نظروں سے بسا اوقات اوجھل رہتا ہے۔

جس میں عملے کی تنخواہیں، عمارت کے اندر اور باہر کی صفائی، حفاظتی ادویات اور کرائے کے فارم جو مجموعی صنعت کا نصف ہیں ، کے اخراجات کا اثر عام طور پر 15 سے 20 روپے فی کلو گرام آ جاتا ہے۔ قیمتوں کے تعین یا قیمتوں پر رائے زنی کرتے وقت ہمیں یہ اخراجات بھی مد نظر رکھنے چاہئیں۔

بجلی کی غیر معیاری اور غیر مسلسل فراہمی اور زیادہ نرخ ہونے کا اثر براہ راست صرف مرغی خانے کے بجلی کے استعمال تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ مذکورہ مقامی اجزاء گندم چاول کا ٹوٹا اور مکئی کی پیداواری لاگت بھی بجلی کے نرخوں پر منحصر ہے۔

مرغی کا گوشت جو ساری دنیا میں تسلیم شدہ حقیقت کے طور پر لحمیات کے چند بہترین ذرائع میں سے ایک ہے ، ہمیں لحمیات کے اس انتہائی اچھے ذریعے کی قیمتوں کے بارے میں سارے عوامل ذہن میں رکھتے ہوئے کسی بھی قسم کا رد عمل ظاہر کرنا چاہیے مرغبانی سے منسلک افراد اور اداروں کو بھی چاہیے کہ صارفین میں اپنی پیداواری لاگت کو حقیقت پسندانہ روّیے کے ساتھ پہنچایا جائے ، یہ پیداواری لاگت انتہائی احتیاط اور مناسب منافع رکھ کر بنانی چاہیے اور ایک مربوط نظام وضع کرنا چاہیے جس میں صارفین اور مرغبان حضرات کے درمیان ایک خوشگوار اور اعتماد کی فضا قائم ہو سکے۔

مزید :

رائے -کالم -