قومی مفاد ہر حال میں مقدم

قومی مفاد ہر حال میں مقدم
قومی مفاد ہر حال میں مقدم

  



جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں، انہوں نے پاکستان مخالف بیانات داغنا شروع کررکھے ہیں، سمجھ سے بالا تر ہے کہ آخر وہ چاہتے کیا ہیں۔کیا وہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان فاصلے بڑھانا چاہتے ہیں یا پاکستان کے کسی دشمن کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو جتنا بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اس سے ایک عالم واقف ہے۔

اس حقیقت سے روگردانی کرتے ہوئے حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ اور ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں پھر پاکستان مخالف بیانات دئیے ہیں جن میں انہوں نے یہ کہا ہے: ’’پاکستان نے اربوں ڈالر لینے کے باوجود اسامہ بن لادن کے پاکستان میں قیام کے بارے میں امریکہ کو نہیں بتایا‘‘ ۔۔۔جس کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : ’’وہ یہ بتائیں کہ اس کے کس اتحادی نے پاکستان جتنی قربانیاں دی ہیں؟انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے 75ہزار قربانیاں دیں اور 16482 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کیا اور اب جو بھی ہوگا وہ پاکستان کے مفاد میں ہوگا‘‘۔ 

یہ کھرا سچ ہے کہ پاکستان کودئیے جانے والے 20ارب ڈالر پاکستان کو ہونے والے نقصان کے مقابلے میں مونگ پھلی نہیں، بلکہ اس کے چھلکے کے برابر بھی نہیں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا امریکی صدر کو دیا گیا جوابی بیان نہ صرف حقائق پر مبنی ہے، بلکہ عوامی امنگوں کا ترجمان بھی ہے،یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی حکومت کے کسی سربراہ نے امریکی صدر کے بیان پر ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے، اب امریکہ کو باور کرنا چاہیے کہ پاکستان کوئی بنانا (BANANA) ریاست نہیں ہے، بلکہ پاکستان کے قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تاریخی کاوشوں کی بدولت ایک ناقابل تسخیر ایٹمی ملک ہے،جسے عمران خان جیسی پاکستانیت سے بھرپور قیادت بھی حاصل ہے۔

امریکہ کی یہ ہمیشہ پالیسی رہی ہے کہ جب بھی کبھی اسے کسی عالمی مسئلے میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ’’بندر کی بلا طویلے کے سر‘‘ کے مصداق اپنی ناکامی چھپانے کے لیے اپنے ہی اتحادیوں پر الزام تراشی پر اتر آتا ہے، یہی کچھ وہ اب پاکستان سے بھی روا رکھے ہوئے ہے جو کسی بھی طور پر دانشمندانہ اقدام نہیں ہے جس سے یہ امر بھی عیاں ہوتا ہے کہ امریکہ کے موجودہ صدر ہمیشہ کی طرح ابھی تک سنجیدگی اور سیاسی بالیدگی سے عاری نظر آتے ہیں جو خود امریکہ کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔

افغان جنگ میں پاکستان کا جانی نقصان خود امریکہ، برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، جرمنی ، سپین، ڈنمارک ، سوئیڈن ، ناروے ، جاپان، آسٹریلیا ، کینیڈا سمیت نیٹو کے درجنوں ممالک کے جانی نقصان سے دس گنا زیادہ ہے۔

پاکستان امریکہ کی افغان جنگ کا ہر اول دستہ بنا۔ پاکستان کی مالی اور جانی قربانیوں کو صرف نظر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پاکستان کے جس دشمن ملک کو خوش کرنے کی ناقابل فہم کوشش کررہے ہیں، وہ کسی بھی طرح پاکستانی عوام کے لئے قابل قبول نہیں۔

ان کو علم ہونا چاہیے اگر پاکستان 9/11کے بعد کراچی کا اولڈ ائیر پورٹ امریکی کو استعمال کرنے کی سہولت فراہم نہ کرتا تو امریکہ ٹینک، توپیں، جنگی ہتھیار اور جہاز بلوچستان کے راستے افغانستان میں داخل نہ ہوسکتے۔

یہ افغانستان میں امریکی اور افغان جارحیت ہی تھی جس کے باعث پاکستان میں دہشت گردی نے جنم لیا، علاوہ ازیں آج بھی امریکی جنگی کارروائیوں کی وجہ سے لاکھوں افغانی جو گھر بار چھوڑنے پرمجبور ہوئے اور پاکستان میں پناہ لی، پاکستان اب بھی ان کا بوجھ برداشت کررہا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاک فوج نے جو بے شمار اور بے مثال قربانیاں دیں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔

ہمارے ہزاروں فوجی، پولیس آفیسرز اور جوانوں نے دلیری سے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا او راس سے کئی گنا زیادہ زندگی بھر کے لیے اپاہج ہوئے، فوج اور پولیس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں عام شہری، جن میں بچے ، بوڑھے ، جوان ، خواتین اور طلبہ شامل ہیں، دہشت گردی کا نشانہ بنے۔

یہ پاکستان کی جنگ نہیں تھی، یہ کلیتاً افغانستان میں امریکی جارحیت تھی جس کے لئے قربانیاں پاکستانی فوج، پولیس اور امن پسند پاکستانی عوام نے دیں۔ اب وہ وقت رخصت ہوا جب کولن پاول کی ایک کال پر نام نہاد کمانڈو اور رنگیلے ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے ہتھیار ڈال دئیے اور بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈالروں کی چمک میں پوری پاکستانی قوم اور وطن عزیز کو داؤ پر لگا دیا اور پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ہی سابق وزیر خارجہ محترمہ ہنری کلنٹن کا 2009ء میں دیا گیا ان کا ایک بیان ہی دیکھ لیں جو ان کی آنکھیں کھول دے گا۔ اپنے اس بیان میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا: ’’دہشت گردی کو خاتمے تک پہنچانے والے ہراول ملک پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے بعد تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے طنزاً کہا کہ پاکستان جیسے اس جنگ میں کامیاب کردار ادا کرنے والے اتحادی پر ناروا پابندیاں عائد کر دی گئیں جو درست اقدام نہیں تھا‘‘۔ صدر امریکہ یہ کوئی پاکستانی نہیں کہہ رہا یہ آپ کے ملک کی سابق وزیر خارجہ کہہ رہی ہیں۔

امریکہ کو اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہ پاکستان کی قیادت عمران خان جیسے محبِ وطن، دلیراور نڈر لیڈر کے ہاتھوں میں ہے اب حکومت،فوج، عدلیہ اور دیگر عسکری و قومی ادارے ایک پیج پر ہیں اور وہ کسی بھی قیمت پر پاکستان کی بے حرمتی برداشت نہیں کریں گے۔ پاکستانی قوم ایک غیور، باہمت اور وطن پرست قوم ہے جو کسی طور پر یہ نہیں چاہیے گی کہ ان کے شہیدوں کی دہشت گردی میں دی جانے والی عظیم قربانیوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔۔۔’’عمران خان قدم بڑھاؤ پوری قوم آپ کے ساتھ ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ سمیت پوری دنیا کو بتا دیا جائے کہ پاکستانی قوم ایک زندہ قوم ہے‘‘۔۔۔ عمران حضرت علیؓ کا ایک اور نام نامی بھی ہے جو شجاعت اور دلیری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور یہ نام بہادری کی علامت بھی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان آپ کا نام بھی عمران ہے اور آپ رسول اکرمؐ کے بھی نام لیوا ہیں ۔آپ محمدمصطفیؐ اور حضرت علیؓ کا اتباع کرتے ہوئے دلیری سے پاکستان کی توقیر اور عظمت کے لیے سینہ سپر رہیں۔ قوم آپ کی آواز پر لبیک کہے گی۔ پاکستان زندہ باد ۔

مزید : رائے /کالم


loading...