پاک بھارت تعلقات، نیا موڑ!

پاک بھارت تعلقات، نیا موڑ!
پاک بھارت تعلقات، نیا موڑ!

  



پاکستان اور بھارت ایسے دو ہمسایہ ممالک ہیں جو ایک ہی خطے سے دو بنے،انگریز سے آزادی کی جدوجہد مشترکہ تھی،تاہم ہندو کی روایتی چالاکی اور انگریز کی ’’حکمتِ عملی‘‘ نے جب رنگ دکھانا شروع کیا تو مسلمانانِ ہند نے اسے بھانپ لیا، خصوصاً قائداعظم محمد علی جناحؒ نے1935ء کے بعد ہی فیصلہ کر لیا کہ آزادی مل گئی تو ہندو کے ساتھ رہنا مشکل ہو جائے گا،اِس لئے مسلم لیگ نے علیحدہ ملک کے حصول کا فیصلہ کر لیا،جس کی شکل ابتدا میں شاید خود مختار ریاستوں کی تھی تاہم یہاں بھی دور اندیشی کام آئی اور1940ء کی ابتدائی قرارداد میں ترمیم کر کے پاکستان کا مطالبہ کیا گیا اور قریباً چھ ساڑھے چھ سال کی جدوجہد کے نتیجے میں فیصلہ حق میں ہوا، برصغیر کی تقسیم طے پا گئی۔

ابتدا بہتر تھی تاہم پھر چالاکی، عیاری اور اس کے بعد جنون اور وحشت کا دور آ گیا۔یہ عرض کر چکا کہ گورداسپور کو کس طرح لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سازش سے پاکستان کے حصے سے کاٹ کر بھارت میں شامل کیا گیا اور واہگہ/ اٹاری سرحد بنا دی گئی،اس کے بعد جنون اور وحشت کا جو دور ماسٹر تارا سنگھ کی تلوار سے شروع ہوا اس نے ایسا منظر دکھایا کہ آج بھی یاد آئے تو دِل خون کے آنسو روتا ہے،اس کا اندازہ حال ہی میں ننکانہ صاحب میں ہونے والے ایک واقعہ سے لگا لیں، جب دو بہنوں نے اپنے بچھڑے ہوئے بھائی کو71برسوں بعد تلاش کیا،جو بھارت سے یاتری کے طور پر آیا تھا،ان بہنوں نے اسے گلے لگایا، اُس نے ان کو چمٹا لیا اور یوں چھوٹا بھائی بڑی بہنوں کو ملا تو آنسو روکنا مشکل ہی تھا۔ ان بہنوں کے مطابق وہ تو قافلے کے ساتھ پاکستان پہنچ گئیں، چھوٹا بھائی وہیں رہ گیا، تلاش ختم ہوئی تو وہ سکھ کی صورت میں ملا اور ایک بہن کا اب تک پتہ نہیں چلا،یہ بھائی زندہ رہا تو سکھ دھرم والوں نے اپنا کر بیٹا ہی نہیں بنایا دھرم بھی دے دیا۔

یہ ایک مثال ہے ایسے حادثات دونوں طرف ہوئے اور بہت خون بہا،اغوا اور مجرمانہ حملے کے واقعات ہوئے،خون کے دریا کو عبور کر کے پاکستان حاصل کیا گیا۔وقت گزرتا، زخم بھرتے رہے، کسک باقی تھی جو اب بھی ہے۔ بہرحال ہمسایوں کے طور پر رہنا قبول کیا گیا تو اس وقت کی قیادت نے کئی اہم فیصلے کئے، ابتدا کے زخم خوردہ بھی سنبھلے اور پھر نہرو لیاقت معاہدہ بھی عمل میں آیا۔

بہرحال ابتدا ایسی ہی تھی، بعدازاں دو ممالک کے تعلقات کی نوعیت یہ تھی کہ لاہور کا شہری پرمٹ لے کر امرتسر جاتا اور وہاں فلم دیکھ کر رات کو لوٹ آتا تھا،امرتسر کے شہری بھی جواباً لاہور آتے اور ڈیرہ صاحب(سمادھی مہاراجہ رنجیت سنگھ) پر متھا ٹیک کر واپس چلے جاتے اور انار کلی کا بھی چکر لگا لیتے تھے، پھر وہی ہوا کہ بنئے نے کام دکھانا شروع کر دیا، پرمٹ کا نظام ختم اور پاسپورٹ ویزا کا شروع ہو گیا، بالآخر نوبت 1965ء ستمبر کی بھارت پاک جنگ تک آ گئی، جو مقبوضہ کشمیر پر قبضہ برقرار کھنے کی خواہش اور عمل کے نتیجے میں ہوئی اور اس سترہ روزہ جنگ میں پاک فوج کے بہادروں نے اپنے مُلک کے دفاع کا حق ادا کیا۔

یوں تعلقات خراب ہوئے،جنگ بندی اور معاہدہ تاشقند کے بعد حالات نے نئی کروٹ لی، بتدریج جوش پر ہوش غالب آیا اور تعلقات پھر بہتر ہوئے، جو1971ء میں دوبارہ خراب ہو گئے کہ بھارت کے نیتاؤں نے طویل سازش کے بعد مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوانے میں کامیابی حاصل کر لی۔

بہرحال ایک بار پھر امن کی باتیں ہوئیں، ماضی کو دفن کر کے مستقبل پر نظریں لگائی گئیں، تعلقات میں بہتری آنا شروع ہوئی، اس دوران کئی بار ایسے موڑ آئے کہ پابندیاں لگائی گئیں، پھر سہولت دی گئی اور یوں چلتے چلتے جب ’’ممبئی سازش‘‘ ہوئی (اب آشکار ہو چکی) تو بھارتی متعصب حضرات نے نیا طوفان اُٹھایا اور نہ صرف بھارت کے اندر مسلمانوں کو دبانا اور مارنا شروع کیا،بلکہ سرحدوں پر حالات خراب کرنے کے بعد کشمیر میں بھی ظلم بڑھا دیا کہ کشمیری حقِ خود ارادیت کے حصول کی خاطر میدان میں اُتر آئے تھے، شیو سینا کی وجہ سے واجپائی کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں،اعلان لاہور بھی ضائع ہوا، پھر جنرل (ر) پرویز مشرف کا دورہ بھی بے کار گیا، بھارتی کسی اصول پر تیار نہ ہوئے، مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد تو کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا جانے لگا،اب ہر روز شہید اور مضروب کئے جا رہے ہیں،اس کو دُنیا کی نظروں سے اُوجھل رکھنے کے لئے تعلقات کو زیادہ بگاڑ دیا گیا، آمدو رفت رُک گئی، پاکستانیوں کو ویزے دینا بند کر دیئے گئے، کنٹرول لائن پر حالات کشیدہ تر اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم بڑھا دیا گیا۔

ان حالات میں نئے پاکستان والوں نے قدم بڑھا دیا ہے،جسے جزوی طور پر ہی قبول کیا گیا، نوجوت سنگھ سدھو نے وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی اور کرتارپور سرحد کھولنے کی اپیل کر دی۔ یہ منظور بھی کر لی گئی اور گزشتہ روز شکر گڑھ (نارروال) میں کرتار پور کے مقام پر راہداری کا سنگِ بنیاد بھی رکھ دیا گیا۔

اس تقریب میں بھارت سے بھی مہمان آئے۔پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں زیادہ بہتر سلوک کا مظاہرہ کیا گیا، ہم نے طویل عرصہ بعد دیکھا کہ بھارت کی طرف سے میڈیا سے تعلق رکھنے والے حضرات کو کھلے دِل سے مدعوکیا اور اجازت دی گئی، چنانچہ جہاں نوجوت سنگھ سدھو آئے وہاں یہ پیشہ صحافت سے منسلک دوست اور بھارتی وزراء بھی آ گئے، ان کا کھلے دِل سے استقبال کیا گیا، میڈیا کے قریباً سبھی لوگ دِلی والے تھے، پنجاب حکومت نے پُرجوش استقبال کا اہتمام کیا۔ سدھو تو ہیرو بن ہی گئے،لیکن میڈیا والے یقیناًحیران ہوئے کہ ان کو یہاں اپنے ہمیشہ ہم پیشہ حضرات سے بھی گرم جوشی ملی۔

حتیٰ کہ ایک خواہش پر ہمارے لاہور پریس کلب کی انتظامیہ نے صدر اعظم چودھری کی کوشش سے سدھو سمیت ان حضرات کا لاہور پریس کلب میں بھی استقبال کیا ۔

حکومت پنجاب نے مہمانوں کے لئے ایک عشایئے کا اہتمام کیا، جو شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد کے درمیان معروف حضوری باغ میں تھا۔ یہاں سخت حفاظتی انتظامات میں محدود مہمانوں کے درمیان سدھو، وزراء اور بھارتی صحافیوں کو خوش آمدید کہا گیا، ایسا محسوس ہوا کہ وقت کی قلت اور سو دِنوں کے گزرے دِنوں کی کارکردگی کی تیاری نے کچھ زیادہ تیاری اور وقت نہ دیا،چنانچہ تقریب کا دورانیہ بھی مختصر تھا، مہمانوں کے لئے خوراک ( ویجی ٹیرین) تھی جبکہ بار بی کیو بھی تھا، اس سے بھی بعض بھارتی دوست محظوظ ہوئے کہ چکن تو عام کھا لیتے ہیں،ہم تو اس کو بھی غنیمت جانتے ہیں، ہمارے بھائی کو جائز شکوہ ہے تاہم در گذر بہت بہتر ہوتا ہے۔ ہم چندی گڑھ والے دوستوں کی تلاش میں تھے۔

بہرحال ان میں سے کوئی نہیں آیا، لوگ دِلی سے، ہمارے جاننے والا کوئی نہیں تھا، ہم نے جب این ڈی(ٹی وی) کی دو ٹیموں کو دیکھا تو اطمینان ہوا کہ مخالف ذہن والے نظر انداز نہیں ہوئے اور ہماری حکومت کی طرف سے ویزے میں رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔اگر ٹربیون والے چندی گڑھ پریس کلب کے سابق صدر نوین ایس گریوال بھی ہوتے تو ہمیں خوشی ہوتی۔بہرحال یہ دوست بھی بہت مطمئن اور خوش تھے اور کرید کرید کر حالات بھی پوچھ رہے تھے۔ یقیناًکچھ تو اچھا تاثر بنے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...