کرتارپور راہداری میں بھارتی رہنماؤں کو مدعو کرنے سے پاکستان کا مؤقف کمزور ثابت ہوا،حکومت ہر معاملے میں جلد بازی کرتی ہے:سینیٹر جاوید عباسی

کرتارپور راہداری میں بھارتی رہنماؤں کو مدعو کرنے سے پاکستان کا مؤقف کمزور ...
کرتارپور راہداری میں بھارتی رہنماؤں کو مدعو کرنے سے پاکستان کا مؤقف کمزور ثابت ہوا،حکومت ہر معاملے میں جلد بازی کرتی ہے:سینیٹر جاوید عباسی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے  سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں بھارتی رہنماؤں کو مدعو کرنے سے پاکستان کا مؤقف کمزور ثابت ہوا ہے،بھارت کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح پاکستان کو نیچا دکھا سکے اور اسی لیے وہ ہمارا سچ بھی دنیا کے سامنے جھوٹ کے طور پر پیش کرتا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ حکومت کو کچھ سمجھنا چاہئے تھا ،میں سمجھتا ہوں کہ حکومت بعض معاملات میں جلد بازی کا شکار ہو جاتی ہے،چند روز قبل چائینہ قونصلیٹ پر ہونے والے حملے میں بی ایل اے کا تو نام لے رہے ہیں لیکن اس کے سارے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں،سی پیک کا جب معاملہ ہو رہا تھا تو مودی سرکار نے پرائم منسٹر ہاؤس میں  ایک سیل کھولا تھا جسے 400 ملین ڈالر دیتے ہوئے ٹاسک دیا گیا تھا کہ ہر صورت سی پیک کو ناکام بنانا ہے ،انہیں پتا تھا کہ یہ اتنی بڑی انویسٹمنٹ ہے کہ اگر یہ پاکستان میں چلی گئی اور پاکستان کی اکانومی بہتر ہو گئی تو یہ بات کسی صورت بھارت کو برداشت نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے ایک دم انہیں دعوت دے دی کہ آپ آئیں ،اس طرح دعوت دینے سے پاکستان کا امیج کمزور ہوا ہے،مودی کو تو امریکہ ویزہ نہیں دیتا تھا ،وہ ٹرمپ سے بھی 20 گنا آگے بڑھ کر مسلمانوں کے خلاف کام کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہمیشہ پالیسی رہی ہے کہ ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے جائیں،انڈیا ایک خاص سوچ کے ساتھ پاکستان کے ساتھ تعلقات نہیں رکھتا ،کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا ،بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی ہر آفر کو ہماری کمزوری سمجھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے یو این او میں پاکستان کا کیس اچھا لڑا تھا ،دنیا جس طرف جا رہی ہے وہاں ان ممالک کی بات سنی جاتی ہے جن کی اکانومی مضبوط ہو ،اس میں شک نہیں ہے کہ بھارت کی اکانومی اس وقت بہتر جا رہی ہے لیکن اس بات کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ جب تک ہماری اکانومی درست نہ ہو ہم دنیا میں اپنی بات ہی نہ کریں۔

مزید : قومی