نئے پاکستان میں کھلی کچہری کے پرانے ڈرامے

نئے پاکستان میں کھلی کچہری کے پرانے ڈرامے
نئے پاکستان میں کھلی کچہری کے پرانے ڈرامے

  



پاکستان میں بیوروکریسی بھی کیا غضب کی شے ہے، سرکار کسی کی بھی ہو، سکہ اسی کا چلتا ہے، بڑی بڑی بڑھکیں مارنے کا دعویٰ کرنے والے حکمران بھی اس بیوروکریسی کے ہاتھوں چاروں شانے چت ہوجاتے ہیں اور آخر کار انہیں بھی اسے مرشد مان کر اپنا دورِ حکمرانی گزارنا پڑتا ہے۔ حکومت کے سو دن پورے ہوگئے ہیں، بڑے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہم نے 71سال بعد ملک کی نئی سمت متعین کر دی ہے۔ چلو جی سب باتیں ٹھیک ہیں، مگر یہ اوپن ڈور پالیسی کے نام پر کھلی کچہریوں کا ڈرامہ پھرکیوں شروع کرا دیا گیا، کھولنے تو بیوروکریسی کے بند دروازے تھے، انہیں کھولنے کی بجائے عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح کھلی کچہریوں میں بلاکر گھنٹوں ذلیل کرنے کا سلسلہ کیا معنی رکھتا ہے، کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیوروکریسی جیت گئی ہے اور اس نے تبدیلی کی علمبردار حکومت کو بھی وہی گھسے پٹے فارمولے آزمانے پر مجبور کردیا ہے۔

ہمارے ملتان کے کمشنر اور آر پی او بھی کھلی کچہریاں کرتے پھر رہے ہیں، شجاع آباد میں تو کھلی کچہری کے بعد اُن کی دستار بندی بھی کی گئی اور دونوں صاحبان نے بڑی خوشدلی سے وہ دستار بندی کرائی، جیسے انہوں نے کوئی کامیاب جلسہ کیا ہو اور عوام نے اُن کی دستار بندی کرکے اُن پرمحبت نچھاور کی ہو۔

میری صحافتی عمر کو تقریباً چالیس برس ہونے کو آئے ہیں، ان چالیس برسوں میں مَیں نے کھلی کچہریوں سے بدتر کوئی عمل نہیں دیکھا، جب افسران اپنے دفتروں میں بیٹھ کر عوام کے مسائل حل کرنا نہیں چاہتے اور انہیں اپنے دفاتر سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو حکومت کو کھلی کچہریاں منعقد کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

جو حکومت عام طور پر مان لیتی ہے اور لگتا ہے موجودہ حکومت بھی اس دامِ ہمرنگِ زمین میں پھنس گئی ہے۔یہ مغلیہ دور کی بدترین شکل ہے کہ ایک دن بادشاہ سلامت آئیں گے اور آپ سب اُن کے دربار میں حاضر ہوجائیں، وہ فریاد یں سن کر موقع پر ہی فیصلے کریں گے، اس کے بعد اُن کی شکل تک دیکھنا عوام کو نصیب نہیں ہوگا۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار لگتا ہے، بیوروکریسی کے حربوں کو سمجھ نہیں سکے یا پھر وہ اچھے خاصے لائی لگ ہیں، انہوں نے اقتدار میں آتے ہی ایک بہت اچھا فیصلہ کیا تھا، میں نے اُس پر ایک کالم بھی لکھا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اس پر اگر پوری سچائی کے ساتھ عمل ہوا تو عوام کے آدھے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔

فیصلہ یہ تھا کہ اب کسی سرکاری افسر کے دفتر میں جانے کے لئے چٹ سسٹم کی ضرورت نہیں ہوگی، دروازے ہر وقت عوام کے لئے کھلے ہوں گے اور وہ بلا روک ٹوک سرکاری افسر سے مل کر اپنا مسئلہ حل کرا سکیں گے۔

بھلا یہ ’’ذلت‘‘ بیوروکریسی کو کہاں منظور تھی کہ ہر وقت عوام کی دسترس میں رہے، اچھوت عوام کو رسائی تو صرف کھلی کچہریوں میں دی جاسکتی ہے، جہاں وہ کھلی جگہ پر جانوروں کے ریوڑ کی طرح بیٹھے ہوتے ہیں، انہیں افسروں کے کمروں میں کرسیوں پر بٹھانے کی ذلت کون اُٹھائے، سو سب نے دیکھا کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اپنا یہ حکم بھول گئے یا بھولنے پر مجبور کر دیئے گئے، افسروں کو آزاد چھوڑ دیا، انہوں نے پھر وہی پرانا نسخہ استعمال کیا کہ اوپن ڈور پالیسی کے نام پر کھلی کچہریاں لگانے کا حکم جاری کیا جائے، سو اب یہ ڈرامہ پورے پنجاب میں پورے زور شور سے جاری ہے۔

کھلی کچہریاں لگ رہی ہیں، اُن کے ٹینٹوں کا خرچ الگ برداشت کرنا پڑ رہا ہے، افسران چند گھنٹوں کے لئے وہاں دیدارِ عام کے لئے آتے ہیں، درخواستوں پر اپنے ہی اہلکاروں کے نام حکم جاری کرتے ہیں، دستار بندی کراکے واپس اپنے شاہانہ بنگلوں اور بکتر بند دفتروں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔

ہم سب تو مانا عقل کے اندھے ہیں، کوئی عقل والا بتائے کہ دنیاکی جو بڑی جمہوریتیں ہیں کیا وہاں بھی یہ ڈرامہ سٹیج کیا جاتا ہے؟ اگر کھلی کچہری کا یہ نظام اتنا ہی مفید ہے تو پھر لندن، نیویارک، ٹورنٹو، کوالمپور، حتیٰ کہ دہلی میں بھی کھلی کچہریاں کیوں نہیں لگتیں۔

کیا ہم ثابت کر رہے ہیں کہ پتھر کے زمانے میں زندہ ہیں، ہمارا کوئی نظام ہے اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی سے کوئی رابطہ۔ برسوں بعد جب افسر داد رسی کے لئے کھلی کچہری لگانے آئے گا، تب ہی مسائل حل ہوں گے۔ یہ جو اربوں روپے کا بجٹ سارے دفتری نظام پرخرچ کیا جانا ہے، اس کا کیا فائدہ ہے، اگر مسئلے کھلی کچہری میں حل ہونے ہیں تو یہ کروڑوں میں پڑنے والے سفید ہاتھی جیسے افسران کس مرض کی دوا ہیں؟ اگر اپنے دفتر میں بیٹھ کر عوام کی دادرسی نہیں کر سکتے،آخر وہ دن کب آئے گا جب خود کار نظام کے تحت ملک چلے گا۔

تحریک انصاف نے تو نظام بدلنے کے دعوے کئے تھے۔نظام تو تبھی بدل سکتا ہے، جب کوئی نظام ہو، یہاں تو ہر افسر کا اپنا نظام ہے، اپنے صوابدیدی اختیارات ہیں۔ اربوں کھربوں روپے کی کرپشن کرکے بھی بیورو کریسی اپنے دامن پر کوئی داغ نہیں لگنے دیتی اور سارا نزلہ سیاستدانوں پر گر جاتا۔ کھلی کچہریوں میں جو ہزاروں افراد آتے ہیں ، وہ اس بات کی گواہی دے رہے ہوتے ہیں کہ ملک میں سب اچھا نہیں، بلکہ خلقِ خدا کو اذیت میں ڈالنے کا ایک مکروہ دھندہ ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ جس افسر یااہلکار کے خلاف کھلی کچہری میں سب سے زیادہ شکایات موصول ہوں ، اسے اسی وقت معطل کرکے نیا افسر تعینات کیا جائے، تاکہ وہ لوگوں کے مسائل حل کر سکے۔

اس کی بجائے ایسی تمام درخواستیں انہی کرپٹ اہلکاروں کو بھجوا دی جاتی ہیں، جو سارے فساد کی جڑ ہیں۔ آپ کو ایسے سینکڑوں لوگ مل جائیں گے جو کھلی کچہری میں افسروں سے اپنی درخواستوں پر آرڈر لکھوانے کے بعد کچہری یا پولیس و انتظامیہ کے دفاتر میں مارے مارے پھر رہے ہوں گے۔

میں نے تو اس وقت بھی کالم لکھتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نے اپنے پاس جو شکایت سیل بنایا ہے، وہ ڈھاک کے تین پات ثابت ہو گا، اگر دادرسی کا کوئی موثر نظام نہ بنایا گیا۔ اب یہ خبریں آنے لگی ہیں کہ یہ شکایت سیل بھی ایک ڈاک خانہ بن گیا ہے، جو آنے والی درخواستوں کو متعلقہ محکموں میں بھیج دیتا ہے اور پھر جواب کا انتظار کرتا ہے، جو بھی جواب آتا ہے، اس کی بنیاد پر سائل کو چٹھی لکھ دیتا ہے کہ یہ جواب آیا ہے، اسی پر صبر شکر کرو۔ایسے تو کئی محکمے پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔

وفاقی محتسب کا ادارہ ہو یا پنجاب کا، وہاں بھی عوام درخواستیں دیتے ہیں، وہ متعلقہ اداروں کو بھیج کر جواب مانگتے ہیں جواب ہمیشہ سائل کے خلاف ہوتا ہے۔ کوئی کارروائی کرنے کی بجائے محکمے کے دیئے ہوئے جواب پر ہی سائل کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی بتائے کہ جب آر پی او کھلی کچہری لگاتے ہیں تو کتنے کرپٹ پولیس والوں کو موقع پر سزا دیتے ہیں؟ لوگ دہائی دیتے ہیں کہ ایس ایچ او نے جھوٹا پرچہ درج کر لیا ہے یا بااثر ملزموں کے ایما پر مقدمہ درج نہیں کر رہا۔

آر پی او ایسی درخواستوں کو ماتحت افسران کے نام انکوائری کے لئے مارک کر دیتے ہیں، یعنی بے چارے درخواست دہندہ کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا، بلکہ اس کے لئے دھکے کھانے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آر پی او یا کوئی بھی دوسرا افسر جو کام کھلی کچہری میں آ کر کرتے ہیں، وہ اپنے دفاتر میں بیٹھ کر کیوں نہیں کر سکتے؟کیا دفاتر میں صرف وقت گزارنے کے لئے آتے ہیں؟ پھر وہ افسر ہی کیا ہے، جس کے محکمے سے ستائے ہوئے سینکڑوں لوگ کھلی کچہری میں پہنچ جائیں۔ سب سے پہلے تو اس کا احتساب ہونا چاہئے کہ اس کے نیچے کیسا ظلم کا بازار گرم ہے اور اسے کچھ علم نہیں۔ لگتا ہے بیورو کریسی کو لگام ڈالنے والا کوئی مائی کا لعل پیدا ہی نہیں ہوا، چاہے وہ عمران خان ہی کیوں نہ ہو۔

جہاں یہ عالم ہو کہ وزیر اعظم بیورو کریٹس کی میٹنگ بلا کر تعاون کی درخواست کریں، وہاں اس خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں کہ ملک کا اصل حاکم منتخب وزیر اعظم ہے، اصل حکمرانی تو نوکر شاہی کی ہے، جو بڑے بڑوں کو اپنے پیچھے لگا لیتی ہے۔ تحریک انصاف کے سو دن تو گزر گئے ہیں، حکومت مضبوط ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں، لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت نے عوام کو بھی مطمئن کیا ہے۔

حکومت عوام کے ستر فیصد مسائل بغیر کچھ خرچ کئے صرف گڈ گورننس سے حل کر سکتی ہے، مگر اس کے لئے نظام کو بدلنا ہوگا۔ احتساب صرف مالی کرپشن پر ہی نہیں، بُری افسری پر ہونا چاہئے، عوام کے مسائل حل نہ کرنے والے بھی اتنے ہی بڑے ظالم ہیں، جتنا بڑا ظالم ملک کو لوٹنے والا ہے، اگر حکومت بیورو کریسی کے کھلی کچہری جیسے ڈراموں پر اکتفا کر لیتی ہے تو اسے ماضی کی حکومتوں کا حال بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم