طبقاتی نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا!

طبقاتی نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا!

  



گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مَیں نے ا س سکول کے سربراہ کا چارج سنبھالتے ہوئے یہ عزم کیا تھا کہ سکول کی شاندارروایات کی نشاۃثانیہ کے لئے کام کروں گا۔ یہ سکول اعلیٰ تعلیمی وتدریسی ماحول، ہم نصابی و غیر نصابی سر گرمیوں اور نظم و ضبط کی شاندار روایات کا حامل ہے۔ اس سکول سے نہ صرف بعض نامور اساتذہ وابستہ رہے ہیں، بلکہ اس سکول کے کئی طالب علم بھی مختلف شعبوں میں شہرت اور ناموری حاصل کرچکے ہیں۔

بحیثیت پرنسپل مَیں نے اس سکول کی تعمیرو ترقی کے لئے جو اہداف مقرر کئے تھے ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بتدریج پورے ہو رہے ہیں۔ ان میں،سکول کے تعلیمی و تدریسی ماحول کو مزید بہتر بنا کر سکول کے نظام الا وقات کے مطابق ہر سطح کی کلاسز کا انعقاد بروقت اور یقینی بنانا،سکول میں نظم و ضبط کو فروغ دینا ،سکول میں ہم نصابی سرگرمیوں مثلاً تقریری مقابلوں ، مباحثوں، شعری مقابلوں، اہم موضوعات پر سیمینارز اور سپورٹس کو فروغ دینا۔

انہوں نے کہا کہ سکول کی مسلسل یہ کوشش رہی ہے کہ یہاں ایسا ماحول فراہم کیا جائے ، جس میں نہ صرف اعلیٰ اور معیاری تعلیم و تدریس کا عمل بلارکاوٹ جاری رہے، بلکہ انہیں ہم نصابی سر گرمیوں مثلاََ ذہنی آزمائش کے مقابلوں اورتحقیقی و معلوماتی سیمنارز میں بھی بھرپور شرکت کا موقع ملے۔ اس سلسلے میں وہ تمام اقدامات کئے جاتے ہیں، جن سے طلباء کی ذہنی اور تعلیمی ترقی ممکن ہوسکے اور اس کے پہلو بہ پہلو انہیں کھیلوں میں شرکت کا بھی موقع مل سکے۔ چاند با غ سکول کو کھیلوں میں خصوصی امتیاز حاصل ہے۔ اس امتیاز کو برقرار رکھنے کے لئے کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ طلباء کو علم دوست بنانے کے لئے سکول لائبریری میں مقبول و مروج مضامین سے متعلق طلباء اور اساتذہ کیلئے کم و بیش تمام ضروری کتب موجود ہیں۔ ان میں وقت اورضرورت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ تازہ ترین اخبارات اور تحقیقی رسائل کتب خانے کے اوقات کے دوران میں استفادہ کے لئے موجود رہتے ہیں۔

مستقبل میں نئے منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ 2019ء میں کالج کلاسز کا اجراء کیا جائیگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بورڈنگ میں رہنے والے بچوں کی زیادہ اچھی تربیت ہوتی ہے، بچے میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے، بورڈنگ میں بچہ کم عمری میں ہی سروائیو کرنا سیکھ لیتا ہے، زندگی کے چیلنجز کو قبول کرتا ہے۔ یہ تربیت اُس کی آنے والی زندگی میں مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاند باغ سکول میں بہترین اور کوالیفائیڈ اساتذہ کی زیرنگرانی علم وفنون کے فروغ کا عمل جاری ہے۔ سکول کے معیار کو بلند کرنے اور اعلیٰ ومعیاری تعلیم کے فروغ کویقینی بناتے ہوئے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے علاوہ برٹش کونسل اورکیمرج کے ساتھ بھی اس کا الحاق ہے۔

ملکی تعلیمی صورتِ حال پر اُن کا کہنا تھا کہ معیاری تعلیم کے فروغ میں نجی تعلیمی ادارے، سرکاری سکولوں سے کہیں آگے ہیں، جس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کوالفائیڈ نہیں یا پھر ان کا طریقہ تعلیم ٹھیک نہیں بلکہ سرکاری سکولوں میں محکمہ تعلیم کی حکمت علمی تذبذب کا شکار ہے، جس کا نزلہ معصوم طالبعلموں پر گر رہا ہے ،مگر دوسری جانب خوشی اس بات کی بھی ہے کہ نجی تعلیمی سیکٹر نے تعلیم کے حوالے سے اپنی قومی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا اور نبھا رہا ہے، جو علم وفنون کے معیاری فروغ کی صورت میں عام ہورہا ہے۔ جس کی ایک مثال چاند باغ سکول ہے جس نے انتہائی قلیل عرصے میں بین الاقوامی معیار کے مطابق اعلیٰ ومعیاری تعلیم کے فروغ کویقینی بنا کر اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔

طبقاتی نظام تعلیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو یکجا کیاجائے اور ایک قوم بننے کے لیے طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کردیا جائے، معاشرتی برائیوں اور ناانصافیوں کی جڑ طبقاتی نظام ہے، ہمیں ایک ہوکر نئی نسل کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، چاند باغ سکول کا ایک ہی عزم ہے کہ ہم نئی نسل کو وہ تمام علوم اور اخلاقی قدریں یاد کروائیں، جو وہ کسی بھی وجہ سے بھلا بیٹھے ہیں اورمحض کتابی کیڑے بن کر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ہم تعلیم کے ان دونوں پہلوؤں کو برابری کی سطح پر فروغ کا بھرپور عزم رکھتے ہیں، جو نہ صرف ملک وقوم کی ضرورت بلکہ جدت پسندی کی علامت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے سکول میں دورجدید کے مطابق تمام تر تعلیمی سہولتیں فراہم کررکھی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے نظام تعلیم کو ناقص حکمت عملی کے تحت الجھا دیا گیا ہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ ہر کوئی اپنی مرضی کا نظام تعلیم رائج کیے ہوئے ہے، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم سب مل کر ایک ایسا نظام تعلیم رائج کریں جو قومی تقاضوں، امنگوں، جذبوں، ضروریات کو پورا کرے اور بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم شدہ ہو، جس کے لئے ملک بھر میں خواہ سرکاری ادارے ہوں یا نجی تعلیمی ادارے، سب میں یک نکاتی ایجنڈے کے تحت یکساں نصاب اور نظام تعلیم رائج کیا جائے۔ اگر ہم نے حقیقی معنوں میں اپنی قومی حیثیت کو بحال کرنا ہے تو طبقاتی نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا کیونکہ ہمارے تمام مسائل اور بحرانوں کا حل قومی یکجہتی میں پوشیدہ ہے جس کے لیے تعلیم وتربیت کا فروغ ایک نکتے پر مرکوز کرنا ہوگا۔ اس نکتے کے تحت حب الوطنی، اچھے مسلمان اور اچھے پاکستانی کی صورت میں نئی نسل پروان چڑھے گی جس سے قومی تشخص اور وقار بلند ہوگا اور ہم دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام کا علم وفنون میں بھی مقابلہ کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت کو فروغ دینے کے لیے ہم نے اپنے سکول میں خاص طریقہ تعلیم اختیار کررکھا ہے جس کے تحت نئی نسل کو محب وطن بنانے کے ساتھ ایک بہترین مسلمان اور پاکستانی بنایا جارہا ہے اوران کے کردار کی تعمیر کو بہترین تعلیم کی فراہمی کی صورت میں یقینی بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ہماری تربیت ٹھیک نہیں ہوگی، ہمارے معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کے ہونہاروں کو ہر وہ تعلیمی سہولت اور تربیت فراہم کی جائے جو ہماری اقدار کا حصہ ہیں جس کے لیے چاند باغ سکول تن، من،دھن سے کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاند باغ سکول میں طالب علموں کو گھر جیسا ماحول دیا جاتا ہے۔ یہاں خوبصورت بلڈنگز پر مشتمل آٹھ ہاؤسز ہیں۔ جہاں طلباء کو تعلیم سے لے کر کھیل تک ہر طرح کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ چاند باغ سکول ایک ایسا تعلیمی ادارہ جہاں بچوں کو ، رنگ ونسل تعصب اور فرقہ واریت سے سے بالا تر ہو کر تعلیم دی جاتی ہے۔ طلباء کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیب بھی کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاند باغ میں فیکلٹی ڈیویلپمنٹ پر بہت کام کیا گیا ہے اور ٹیچرز ٹریننگ ورکشاپس کا بھی اہتما م کیا جاتا ہے۔ یہاں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سائنس لیبز اور کمپیوٹر لیبز موجود ہیں۔ لائبریری، میڈیکل ہیلتھ سینٹر موجود ہے، ایک میل و فی میل ڈاکٹر مستقل یہاں موجود رہتے ہیں، طلباء کی گائڈنس اور کونسلنگ کی جاتی ہے اور سیمیناز کا انعقاد ہوتا ہے۔تعلیمی و تفریحی دورے بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔ آرٹ، میوزک، سپورٹس طلباء کی ذہنی و جسمانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے پاس لیڈیز ٹیچرز کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے، سٹاف ممبرز کو بھی تمام رہائشی سہولتیں میسر ہیں۔ بورڈنگ سکول کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک سے بچے پڑھنے آتے ہیں۔سکول چاہتا ہے کہ اس کے طلباء دنیا کے کسی بھی ملک کے طلباء سے مقابلہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں تعلیمی ادارے دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں ، دشمن طاقتیں تعلیم کی طرف سے بد گمان کرکے ملک کو کمزور کرنے کے در پے ہیں، کچھ ایسے عناصر بھی ملک میں موجود ہیں جو اپنی سرداری، چودھراہٹ، جاگیرداری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، یہ بھی ایک قسم کی تعلیم دشمنی ہے ،جس کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کے مقاصد کو واضح کریں اور اصل مرض کی طرف توجہ دیں۔روایات اور تعلیمی معیار کے حوالے سے چاند باغ کا نام ہمیشہ روشن رہا ہے۔ افراطِ زر میں روز افزوں اضافے کے باعث معیاری تعلیم عام آدمی کی دسترس سے نکلتی جارہی تھی۔ چاند باغ سکول میں مناسب فیس سٹرکچر ہے ،جو بچے تعلیمی اخراجات ادا نہیں کر سکتے اور پڑھنا چاہتے ہیں، داخلے کے بعد ایسے طلباء کی ہر ممکن مدد کی جاتی ہے۔ ادارہ کسی سے کوئی امداد نہیں لیتا، سکول کا ہر شعبہ اپنے بجٹ کا انتہائی منصفانہ استعمال کرتا ہے اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سکول کا ایک ایک روپیہ طلباء کی فلاح بہبود پر خرچ ہو۔ اس بچت سے حاصل ہونے والی رقم مستحق طلباء کے لئے سکا لر شپس پر خرچ کی جاتی ہے۔مَیں یہ بات فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ ادارہ تعلیم دوست پالیسیوں کو شفاف طریقے سے روبہ عمل لاتا ہے۔

ملکی تعلیمی صورتِ حال میں بہتری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو سامنے رکھ کر ہمیں ایسا تعلیمی نظام وضع کرنا چاہیے جو ہمارے افراد اور معاشرے کے درمیان پْل کا کام انجام دے سکیں۔ اس کے بعد ہی ہم اس نتیجے پر پہنچ سکیں گے کہ ہم نے اس ملک اور قوم کی خدمت کی ہے۔ایک طالبعلم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے سے پورے خاندان کی تقدیر بدل جاتی ہے۔میرے نزدیک سب سے بڑی نیکی کسی کو پڑھانا یا تعلیم کے میدان میں کسی کی مدد کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان تھک انتظامی، تدریسی اور ہم نصابی مجالس اپنی تعمیری سرگرمیاں ہمیشہ جاری رکھتی ہیں۔ دفتری عملہ بھی اپنے فرائض بحسن و خوبی انجام دیتا ہے۔اس ادارے کے فارغ التحصیل طلباء نے علم و ادب، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی کامیابیوں کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ یہ بات بلاتامل کہی جاسکتی ہے کہ اس سکول کو تعلیمی، ہم نصابی اور کھیلوں میں جو شاندار کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، وہ سکول انتظامیہ اور اساتذہ کی شب و روز محنت کا ثمر ہیں۔مجھے امید ہے کہ میرے عزیز طلباء، میرے عزیز رفقائے کار:اساتذہ کرام اور دفتری عملے کے دیگر ارکان اس سکول کی ترقی اور بہتری کے لئے مجھ سے بھرپور تعاون کریں گے اور ہم سب مل کر اس سکول کی شاندار روایات میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ اور میں یقین دلاتا ہوں کہ جو طلباء اس وقت ہمارے ساتھ موجود ہیں اور جو مستقبل میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے ان کے لئے سی بی ایس ایک روشن کیریئر اور کامیاب زندگی کا صحیح انتخاب ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...