ادارہ تعلیم وتحقیق ،جامعہ پنجاب میں چھٹی بین الاقوامی کانفرنس

ادارہ تعلیم وتحقیق ،جامعہ پنجاب میں چھٹی بین الاقوامی کانفرنس

  



نظامِ تعلیم کی تخلیق و ترویج اور اسکی بہتری کے بارے میں ملک کے ممتاز ماہرین تعلیم اوردانشور وقتاً فوقتاًاپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی امر واقع ہے کہ کسی بھی ملک کی تقدیر اور ترقی کا راز اور اسکے شاندار مستقبل کی ضمانت اسکے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے معیار کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ تعلیم نوجوان ذہنوں میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے کا نام ہے۔ اور تعلیم ہی معاشرے میں ترقی کی راہیں متعین کرنے کا کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اسکا تعلق نہ صرف علوم و فنون اور سائنس اور ٹیکنالوجی سے ہے بلکہ معلومات کے بحر بیکراں سے بھی ہے۔ ادارہ تعلیم وتحقیق، جامعہ پنجاب 1960میں بننے والا واحد ادارہ ہے جو پچھلی کئی دھائیوں سے اس ضمن میں ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے انتظام و انصرام اور تدریس کے لئے افرادی قوت تیار کر رہا ہے۔ یہ ادارہ قدیم اورمعیاری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ملک بھر میں ہونے والی تعلیمی سر گرمیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر کانفراسز ، سیمناز اور ورکشاپس کا انعقاد اسکا طرء امتیاز رہا ہے۔ ادارہ ہر سال ایک قومی اور ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کرتا ہے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد تدریس میں پیش آنے والے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ تخلیق علم کے فرض کی ادائیگی بھی ہے۔ ادارہ قومی وبین الاقوامی سطح پر اساتذہ اور ماہرین کو پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے تا کہ وہ آپس میں تحقیقی بنیادوں پر مذاکرہ کر سکیں۔

امسال تین روزہ انٹرنیشنل کا نفرنس برائے تعلیمی تحقیق(ICORE۔2018) 20تا 22 نومبر کو ادارہ تعلیم وتحقیق میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیرتعلیم جناب ڈاکٹر مراد راس تھے۔ رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے صدارت فرمائی۔ سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصر مہمان اعزاز تھے۔پروفیسر ڈاکٹر رفاقت علی اکبر ڈائیریکٹر ادارہ تعلیم وتحقیق کانفرنس کے چیئرمین تھے۔

جبکہ کانفرنس سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر محمد شاہد فاروق ایسوسی ایٹ پروفیسر ادارہ ھذا نے ادا کئے۔

کانفرنس سیکرٹری نے بتایا کہ یہ کانفرنس پاکستان کی سب سے بڑی کانفرنس ہے جو کہ 2014 میں پہلی بار انعقاد پذیر ہوئی۔ اور امسال یہ چھٹی بین الاقوامی کانفرنس ہے۔ اس مرتبہ ملک بھر کے تمام صوبوں کی جامعات سے محققین کی نمائندگی ہے۔ اور بین الاقوامی مہمانوں میں امریکہ، ملائشیاء ، فرانس، سویڈن، آسٹریلیاء ، فلپائن، برطانیہ، سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ، ساوتھ کور یا، نائجیریا، موریسش اور فجی سے مندوبین تشریف لائے۔ کانفرنس سے پہلے دو روزہ چار تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔ جن میں تقریباً 250 افراد نے حصہ لیا۔ اور ملکی وبین الاقوامی ماہرین کے زیر سایہ تربیت حاصل کی۔

کانفرنس میں مجموعی طور پر ملک بھر سے آنے والے شرکا تقریباً 1200 کے قریب تھے اور 240 مقالاجات پیش کئے گئے۔ کانفرنس کے تین روز میں 5 پلیزی سیشن (Plenary Sessions) اور 45 کنکرنٹ سیشن (Concurrent Sessions)ہوئے۔ یہ کانفرنس تعلیم وتدریس کی دنیا میں اپنا نمایاں مقام رکھتی ہے اور اب یہ ایک برینڈ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

افتتاحی تقریب میں وزیر تعلیم نے معیار تعلیم اور نئی اصلاحات کے بارے میں گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ معیار کے بغیر تعلیم بے معنی ہو جاتی ہے اور تربیت یا فتہ اساتذہ کے بغیر یہ خواب ادھورا ہی رہتا ہے۔ انھوں نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے پر حکومتی عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے پنجاب حکومت اور ادارہ تعلیم وتحقیق کے مل کر کام کرنے پر زور دیا۔

کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ تعلیم وتحقیق جامعہ پنجاب ہمیشہ سے اپنا کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔اور یہ کانفرنس اسی سلسلہ کا ایک سنگ میل ہے انھوں نے کہا کہ یہ کانفرنس جہاں تعلیم وتدریس کے مسائل پر سیر حاصل بحث کا موقع فراہم کرے گی وہاں یہ نصاب تعلیم اور کوالٹی ایجوکیشن کیلئے صوبائی اور قومی سطح پر سفارشات دینے کا فریضہ بھی ادا کرئے گی انھوں نے کہا جامعہ پنجاب انشااللہ بین الاقوامی رینکینگ میں جلد دنیا کی پہلی 200 یونیورسٹیوں کی صف میں اپنا مقام حاصل کرئے گی۔

ڈائیریکٹر ادارہ تعلیم وتحقیق پروفیسر ڈاکٹر رفاقت علی اکبر نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ چھٹی کا بین الاقوامی کانفرنس ملک میں تعلیم وتحقیق کی دنیا میں ایک انقلاب پربا کرنے کا سبب بنے گی۔ اسمیں قومی وبین الاقوامی ماہرین کی موجودگی نہ صرف طلباء وطالبات کیلئے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنے گی بلکہ ملک میں تحقیق کی نئی جہتیں بھی متعین ہوں گی۔ انھوں نے تربیت اساتذہ اور تحقیقی معیار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادارہ جہاں تربیت اساتذہ کے لئے کوشش کر رہا ہے وہیں اسکے ساتھ ساتھ ریسرچ کے معیار کو بھی بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ ادارہ ملکی وبین الاقوامی سطح پر کئی ایک ریسرچ پر اجیکٹس پر کام کر چکا ہے۔ ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر ممتاز اختر نے کانفرنس کے انتظامات کرنے والے اور اندرون وبیرون ملک سےآنے والے مندوبین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آمد تعلیم وتحقیق میں ان کی دلچسپی کا مظہر ہے۔ مہمان اعزاز متحدہ عرب امارات سے تشریف لانے والے سابق وائس چانسلرجامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصر نے فرمایا کہ کانفرنس اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے جس میں ہمیشہ بین الاقوامی نمائندگی کانفرنس کو ممتاز بناتی ہے۔ اس سال 12 ملکوں سے مندو بین کا آنا اور انتہائی منظم انداز میں اسکا انعقاد پذیر ہونا قابل تعریف ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ معیار تعلیم کے بغیرتعلیمی عمل بے معنی ہوتا ہے۔ ادارہ تعلیم وتحقیق اپنے اس فرض سے بخوبی آگاہ ہے اور ہر سال باقاعدگی سے بین الاقوامی اور قومی سطح کی کانفرنس کا انعقاد ادارہ کو ملک بھر میں نمایا ں بنا دیتا ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ صوبائی وقومی حکومتوں کو تحقیقی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے اپنے اداروں کو دنیا کے صف اول کے اداروں کی صف میں کھڑاکرنے کیلئے ادارہ تعلیم وتحقیق سے مستفید ہونا چاہیے۔

کانفرنس میں شریک ملکی وبین الاقوامی ماہرین تعلیم نے کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ولئے کثیر الجہتی تحقیق پر زور دیا ۔ تا کہ ابتدائی تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم کے اداروں تک کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔کانفرنس کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے وائس چانسلر جناب پروفیسر ڈاکٹر روف اعظم تھے۔ انھوں نے بھی ملک بھر میں ایسے افراد جو تعلیمی سفر میں شریک نہیں ہو سکے ان تک پہنچنے کے عنوان پر کانفرنس کے انعقاد کو ملک بھر کے پسے ہوئے طبقا ت کیلئے روشنی کی ایک کرن قرار دیا۔ انھوں نے کہا با مقصدتعلیم ہی ملکی تقدیر کو بدلنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس ضمن میں افرادی قوت کی تیاری ایک مقدس فریضہ ہے۔ جو ادارہ تعلیم وتحقیق احسن انداز میں ادا کر رہا ہے۔ کانفرنس میں درج دیل سفارشات پیش کی گئیں۔

1۔ طلباوطالبات کو با مقصد شہری بنانے کیلئے اْنہیں اکیسویں صدی کے چیلنجز سے متعارف کرواتے ہوئے ان کے ص کے لئے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

2۔تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے کیلئے تا کہ کوئی بھی فرد تعلیم حاصل کرنے سے محروم نہ رہے ، حکومتوں کو تعلیمی پالیسی میں تبدیلی، تربیت اساتذہ کے پروگرامز میں بہتری اور شمولیاتی طر زتعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

3۔محروم طبقات کی ضروریات اور مسائل کے حل کیلئے سیاسی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

4۔ تعلیمی پالیسیوں سے ثمرات حاصل کرنے کیلئے ان پر صحیح معنوں میں عملددرآمد کو یقینی بنانے کیلئے حکومتوں کو عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

5۔ تعلیمی اداروں اور انڈسٹری کا آپس میں گہرا تعلق استوار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کو اپنی اپنی سطح پر اسکے لیے کوشاں رہنا ہو گا۔

6۔ نجی تعلیمی اداروں کو بھی معیاری تعلیم دینے کا پابند کرنا ہو گا تا کہ تعلیم کاروبار کی بجائے مقدس عمل کا درجہ حاصل کر سکے۔

7۔اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔ جبکہ دیگر بین الاقوامی زبانوں کا سیکھنا بھی لازمی امر ہونا چاہیے۔

8۔اداروں کو طلباوطالبات کی کردار سازی پرتوجہ دینا ہوگی اور نصاب میں اخلاقیات اور سیرت نبویؐ پر خصوصی مواد شامل کرنا ہو گا۔

9۔یکساں نظام تعلیم ہی ملک میں باہمی بھائی چارہ اور برداشت کا کلچر پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس ضمن میں پبلشرز اور ٹیکسٹ بک بورڈز پر توجہ دینا ہو گی۔

10۔ بچوں کو سکول میں داخلہ اور پھر سکول چھوڑنے سے بچانے کیلئے تعلیمی اداروں میں موجودسہولیات کو مزید بہتر بتانا ہو گا۔

11۔ہر سطح پر طلباء وطالبات میں سماجی رویوں کی بہتری اور زندگی گذارنے کی مہارتوں کو فروغ دینا ہو گا۔

12۔ پاکستان کی نظریاتی اساس کو مستحکم رکھنے کے لیے نصاب میں خصوصی اقدامات کرنے ہوں گے۔

***

مزید : ایڈیشن 1


loading...