مہمند ،گورنر ماڈل سکول غلنئی ومامد گٹ کے استاتذہ کا احتجاج اور بائیکاٹ

مہمند ،گورنر ماڈل سکول غلنئی ومامد گٹ کے استاتذہ کا احتجاج اور بائیکاٹ

  



مہمند ( نمائندہ پاکستان) ضلع مہمند میں گورنر ماڈل سکول غلنئی و مامد گٹ کے تنخواہوں کی عدم آدائیگی اور ریگولرائزیشن تاخیر کے خلاف کلاسوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ قبائلی اضلاع میں تعلیمی ایمرجنسی نہیں بلکہ تعلیمی نظام کو تباہی کی طرف لے جانا ہے۔ اعلیٰ حکام فوری نوٹس لیکر مسئلے کا حل نکالے۔ ان خیالات کا اظہار گورنر ماڈل سکولز غلنئی و مامد گٹ کے جملہ اساتذہ کرام نے مہمند پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام سے پہلے ہماری تنخواہیں پولیٹیکل فنڈ سے مل رہے تھے مگر انضمام کے بعد چار ماہ گزرنے کے بعد ہماری تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے کوئی ٹھوس حل نہیں نکالا گیا ہے۔ جس سے ہمارے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ اور ہمارے بال بچوں اور والدین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہم نے بچوں کو بہترین مستقبل دینے کیلئے ہر قسم کی کوشش کی ہے تاکہ بچوں کو ایک پر امن ، بہترین اور پاکستان کے وفادار اور باصلاحیت طالب علم بنانے کیلئے حتی الوسع کوشش کی ہے۔ اورضلع مہمند میں گورنر ماڈل سکولز کے طلباء و طالبات کو ایک بہترمستقبل دیا ہے۔ مگر افسوس کہ چار ماہ گزرنے کے باؤجود بھی ہماری تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے کوئی ٹھوس حل نہیں نکالا گیا ہے۔ جو یہاں کے عوام کے ساتھ سراسر ظلم و نا انصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ اور پاڑاچنار گورنر ماڈل سکولز کو سرکاری سکولوں کا درجہ دیا گیا ہے۔ مگر ہمارے سٹاف کے ریگولرائزیشن کو ابھی تک روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلاسوں سے ہمارا بائیکاٹ اُس وقت تک جاری رہیگا جب تک ہمیں چار ماہ کی تنخواہوں کی آدائیگی اور مستقلی نہ کی جائے۔ یاد رہے کہ مذکورہ سکولوں میں پرائمری سے میٹرک تک ایک ہزار تک طلباء و طالبات پڑھ رہے ہیں۔ جس سے ان کا مستقبل خطرے میں پڑھ گیا ہے۔ جس سے طلباء کے والدین بھی پریشان ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...