کھڑی کپاس میں گندم کی کاشت کی جدید ٹیکنالوجی متعارف

کھڑی کپاس میں گندم کی کاشت کی جدید ٹیکنالوجی متعارف

  



فیصل آباد(بیورورپورٹ )ماہرین زراعت نے گندم کی کمی سے بچنے کیلئے کھڑی کپاس میں گندم کی کاشت کی جدید ٹیکنالوجی متعار ف کروا دی ہے جس کے ذریعے کھڑی کپا س میں گندم کا شت کر نے سے کاشت میں غیر معمولی تاخیر سے بچا جا سکتا ہے اور ساتھ ساتھ کپاس کی فصل کی مکمل چنائیاں بھی حاصل کی جا سکتی ہیں ۔ انہوں نے بتایاکہ پنجاب میں بڑے رقبے پر ایک سال میں کپاس،گندم ، دھان،کماد کی کاشت کا کراپنگ سسٹم موجود ہے جہاں دھان کی باسمتی اقسام یا کپاس کی فصل کے لمبے دورانیے کی وجہ سے گندم اپنے بہترین وقت پر کاشت نہیں ہو پاتی۔

اورچونکہ گندم کی کاشت کا بہترین وقت 15نومبر تک ہوتا ہے لیکن اس دوران کپاس خصوصاً بی ٹی اقسام بھرپور پھل کے ساتھ کھیت میں موجود ہوتی ہیں لہٰذا اس وقت پر کاشتکارکیلئے کپاس کی فصل کی مکمل برداشت ممکن نہیں ہوتی اور اگر کاشتکار کپاس کی فصل کی برداشت کا انتظار کرتا ہے تو گندم کی فصل کی کاشت میں غیر معمولی تاخیر ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے گندم کی فصل کو مکمل دورانیہ نہ ملنے کی وجہ سے پیداوار میں بہت بڑی کمی واقع ہوجاتی ہے۔اس طرح اس وقت گندم کی بجا ئی میں تاخیر اور گندم کے زیر کاشت رقبہ میں ہر سال کمی سے ہمارے ملک کیلئے غذائی تحفظ کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں جسے مد نظر رکھتے ہوئے ایک ٹیکنا لو جی متعارف کروائی گئی ہے جس میں کھڑی کپا س میں گندم کی کا شت کیلئے کسان مو قع پر تیا ر پھٹی کی چنا ئی کو مکمل کرکے اس کے بعد کپاس کی کھیلیوں میں پا نی لگا دے۔ اسی آبپاشی کی وجہ سے مو قع پر درکا ر چنا ئی کو مکمل کرلینا ضروری ہے تا کہ تیار چنائی لیٹ نہ ہو اور ضائع ہونے کا خد شہ بھی نہ رہے۔ انہوں نے بتایاکہ اسی دوران گندم کی کا شت کیلئے فی ایکڑ 60 کلوگرام درکار بیج کو کسی ٹب کے اندر پانی میں 8سے 10گھنٹے کیلئے بھگو نے کے بعد اس بیج کو کھیلیوں کے اندر کھڑے کم مقدار پانی میں چھٹہ دے نیزبیج کے چھٹہ کے اگلے دس دن کھیلیوں کو گیلا رکھنا ضروری ہے تا کہ گندم کے چھٹہ کر دہ بیج کا اگا ؤ بہتر ہو سکے۔

مزید : کامرس


loading...