چینی پر سبسڈی کی مد میں 16ارب روپے ادا نہیں کئے گئے ، پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن

چینی پر سبسڈی کی مد میں 16ارب روپے ادا نہیں کئے گئے ، پاکستان شوگر ملز ایسوسی ...

  



لاہور (اے پی پی) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ چینی کی برآمد پر سبسڈی فراہم کی جائے نیز سیلز ٹیکس پر نظر ثانی کے علاوہ گنے کی قیمتوں کو قانونی طریقے سے طے کیا جائے،ایسوسی ایشن کے ممبر وحید چوہدری نے گزشتہ روز بتایا کہ حکومت نے شوگر ملز پر چند شرائط عائد کر رکھی ہیں جن میں چینی کی برآمد کی اجازت بھی نہیں د ی جا رہی جبکہ نادہندہ شوگر ملز کو چینی کی برآمد کی اجازت نہیں ہو گی،انہوں نے مطالبہ کیا کہ شوگر ملز چاہتی ہیں کہ حکومت یہ شرائط ختم کرے،انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ گنے کی قیمت اور چینی کی برآمد کو ڈی ریگولیٹ ہو نے کے ساتھ ساتھ حکومتوں کے کردار کو بھی ختم ہونا چاہئے،پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ چینی کی ایکس مل قیمت 47 روپے فی کلو گرام ہے جبکہ ٹیکس شامل کر کے اس کی قیمت 60 روپے فی کلو گرام تک پہنچ جاتی ہے ،دوسری جانب گنے اور چینی کی قیمتوں میں تضاد کے باعث شوگر ملز میں کرشنگ شروع کرنا نا ممکن ہے،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں نے گنے کی قیمتوں کو 180روپے فی چالیس کلو گرام پر فکس کر دیا تھا جس میں ٹیکسز کی شرح بہت زیادہ ہیں جبکہ چینی کی قیمتیں بہت کم ہیں اور ان حالات میں ہم گنے کی کرشنگ کیسے شروع کر سکتے ہیں اور چینی کی فروخت پر فی کلو گرام15روپے کا نقصان کیسے برادشت کیا جا سکتا ہے جبکہ سبسڈی کی مد میں شوگر ملز کے16ارب روپے ادا نہیں کئے گئے،ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کے ساتھ ہمارے کوئی مسائل نہیں ،ہم نے ان کے 99 فیصد بلز کلیئر کر دیئے ہیں،ہم کاشتکاروں سے موجودہ قیمتوں سے زائد پر گنے کی خریداری چاہتے ہیں لیکن حکومت کو بھی چاہئے کہ ہمیں اچھا ریٹ دے لیکن اس سے قبل چینی کی پیداوار اور استحکام کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں مقامی سطح پر چینی کی اچھی قیمت ادا کی جائے یا پھر سرپلس چینی کی برآمدات کی مد میں سبسڈی فراہم کی جائے،انہوں نے انکشاف کیا کہ 80 فیصد گنے کی قیمت‘10 فیصد ٹیکسز جبکہ باقی10فیصد شوگر ملز کیلئے ہوتے ہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سبسڈی کی مد میں16ارب روپے دے تا کہ واجبات کو کلیئر کیا جا سکے

،انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ ایک مستحکم شوگر پالیسی متعین کی جائے تا کہ ہم سرپلس چینی کی صورت میں چینی کی برآمد کو یقینی بنا سکیں،اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ملوں کو اس بات کا ذمہ دار بنانا ہو گا کہ وہ کمی کی صورت میں اس خلاء کو پورا کریں جس کیلئے ضروری ہے کہ چینی کی قیمت بڑھا کر65روپے فی کلو گرام تک کی جائے تا کہ اس کاروبار کو مستحکم کیا جا سکے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت کو اس سلسلہ میں فیصلہ سازی کرنا ہو گی،دریں اثناء ایسوسی ایشن کے ممبر وحید چوہدری نے کہا کہ ہمیں ہر وقت برآمدات کی اجازت ہونی چاہئے لیکن جب انڈسٹری ایسا کرنے لگتی ہے تو متعلقہ وزارت کی جانب سے کہہ دیا جاتا ہے کہ چینی کی کمی کی وجہ سے قیمتیں بڑھ جائینگی،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے جب بھی کرشنگ سیزن شروع ہوتا ہے بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتیں ہمیشہ کم ہو جاتی ہیں،انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انڈسٹری کیلئے پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی نہ بنایا گیا تو 2020ء میں پاکستان کو چینی درآمد کرنا پڑ سکتی ہے۔

مزید : کامرس


loading...