خزانہ ڈیم کے معاملے پر بیورو کریسی اور سینیٹرز میں گرما گرمی

خزانہ ڈیم کے معاملے پر بیورو کریسی اور سینیٹرز میں گرما گرمی

  



اسلام آباد(آئی این پی) وزارت آبی وسائل نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا حکومت کے پاس ڈیمز تعمیر کرنے کیلئے فنڈذ نہ ہونے کی وجہ سے پراجیکٹس رکے ہوئے ہیں کسی حکومت کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ رکے پراجیکٹس کیلئے رقوم کا اجراء کر سکیں نولانگ ڈیمز کی تعمیر کیلئے ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے بلوچستان حکومت سے این او سی مانگا جو تین سالوں سے نہیں دیا جا رہا وزارت کے پاس84پراجیکٹ ہیں جن میں 36بلوچستان کے ہیں مکمل کرنے کے لئے 70ارب روپے درکار ہیں ۔ کراچی کے شہریوں کوپانی کی فراہمی کیلئے 14ارب روپے رکھے گے تھے بروقت منصوبہ مکمل نہ ہونے پر وہ پراجیکٹ 76ارب روپے پر چلا گیاخزانہ ڈیم کی سائیٹ کے معاملے پر چیف سیکرٹری آبپاشی بلوچستان اور سینیٹر ز آمنے سامنے ۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس سینیٹر شمیم آفریدی کی سربراہی میں پارلیمنٹ لاجز میں منعقدہوا ۔ کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان کے صوبہ ماشکیل میں مجوزہ خزانہ ڈیم پر بریفنگ دی گئی ۔ چیف سیکرٹری آبپاشی بلوچستان نے بتایا کہ سینیٹر اعظم خان موسی خیل نے جس جگہ پر ڈیم بنانے کیلئے سائٹ منتخب کی ہے وہ تیکنکی بنیادوں پر ڈیم وہاں نہیں بن سکتا کیونکہ وہ جگہ کسی ماہر نے نہیں عام بندے نے منتخب کی جس پر سردار اعظم خان اور موسی خان میں گرما گرمی ہو گئی انہوں نے کہاکہ انجینئرکس حیثیت سے ڈیم کی جگہ تبدیل کر سکتاہے وہ تو سرکار کا نوکر ہے۔سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہاکہ سیکرٹری کا کام یہ نہیں کہ وہ بحث کرئے بلکہ وہ وضاحت کرئے اس کا کام یہ نہیں کہ وہ سینیٹر ز کو ڈکٹیٹ کرائے ۔ سینیٹر ڈاکٹر جہاززیب جمالدینی نے کہا رقم فیڈرل حکومت کی ہے اس لئے اس میں صوبے اور فیڈرل دونوں کے ماہر رکھے جائیں جو فیصلہ کریں چئیرمین کمیٹی سینیٹر شمیم خان آفریدی نے سیکرٹری آبپاشی سے کہا کہ وہ لہجہ نرم رکھیں ہمارے اراکین جھوٹ برداشت نہیں کرتے اگر تیاری نہیں ہو تو اس ایجنڈے کو اگلے اجلاس پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ اجلاس میں باڑہ ڈٰم اور چینیوٹ ڈیم کے بارے میں اجلاس کو بریف کیا گیا ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...