لاہور میں ڈاکوؤں اور چوروں کے ساتھ ساتھ نو سر بازو ں کے درجنوں گروہ بھی سرگرم

لاہور میں ڈاکوؤں اور چوروں کے ساتھ ساتھ نو سر بازو ں کے درجنوں گروہ بھی سرگرم

  



لا ہور(رپورٹ : یو نس باٹھ )صوبائی دارالحکومت میں ڈکیتی چوری کی وارداتیں بڑھنے کے ساتھ نوسر بازوں کے بھی درجنوں گروہ سر گرم ہیں ۔جنہوں نے اب تک رواں سال کے دوران 2ہزار سے زائد افراد کو لوٹنے کے علاوہ کئی ایک کو موت کے گھاٹ بھی اتارا ہے ۔گزشتہ 10ماہ کے دوران نوسر بازی کا شکار ہو کر80سے زائد افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ2000سے زائد مردوخواتین ہسپتال پہنچے جبکہ پردیسیوں سمیت مقامی رہائشی بھی کروڑوں روپے مالیت کی نقدی اور دیگر قیمتی سامان سے محروم ہوئے جبکہ رواں سال کے دوران پولیس نوسر بازوں کے کسی ایک گروہ کو بھی گرفتار نہ کر سکی ہے۔رواں سال کے دوران نوسر بازی کا آخری شکار گوجرانوالہ کا تاجر بنا جو خریداری کیلئے شاہ عالمی بازار آیا اور لاکھ سے زائد مالیت کی نقدی اور موبائل سے محروم ہونے کے بعد3دن ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔شہر میں200سے زائد نوسر باز گروہ سرگرم ہیں جن میں سے بیشتر گروہوں نے خواتین کو بھی ساتھ ملا رکھا ہے جبکہ کئی نوسر باز گروہوں نے پیروں اور ملنگوں کے روپ بھی دھار رکھے ہیں۔پولیس اہلکاروں کے روپ میں نوسربازوں کے گروہ کے ہاتھوں ایک تھانیدار بھی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا جو کسی سرکاری کام کے سلسلہ میں لا ہور آیا اور سلام کرنے داتا دربار گیا جہاں نوسر بازوں نے اسے نشہ آور تبرک کھلا کر لوٹا اور وہ ہسپتال میں دم توڑ گیا۔انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق شہر کے12علاقے داتا دربار‘ پیر مکی دربار‘ لاری اڈا‘ بادامی باغ‘ ریلوے سٹیشن‘ ہنجر وال‘ بی بی پاک دامن‘لکشی چوک اور گردونواح کے علاقے‘راوی روڈ‘ نیازی اڈا چوک یتیم خانہ‘بھاٹی دربار اورگڑھی شاہو کے علاقے نوسر بازوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں جہاں نوسربازوں کے200سے زائد مختلف گروہ سرگرم عمل ہیں۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ان میں سے100سے زائد گروہ پولیس اہلکاروں کی سر پرستی میں کام کر رہے ہیں۔داتا دربار‘ پیر مکی دربار‘ دربار بی بی پاک دامن کے علاقوں میں نشہ آور تبرک کھلا کر شہریوں کو لوٹنا معمول بن گیا ہے۔ذرائع کے مطابق شہر کے تمام درباروں پر محکمہ اوقاف کی انتظامیہ کی طرف سے کسی بھی اجنبی سے کوئی چیز لیکر نہ کھانے کے اعلانات کئے جاتے ہیں اس کے باوجود نوسر بازوں کی طرف شہریوں کو ورغلا کر نشہ آور تبرک کھلانے کا سلسلہ جاری ہے شہر میں سرگرم اکثر نوسرباز گروہوں کے سرغنہ پولیس اہلکار بتائے گئے ہیں جو شہریوں کی طرف سے پکڑے جانے پر انہیں دبوچ لیتے ہیں اور تھانہ کے قریب لا کر چھوڑ دیتے ہیں۔اس سلسلہ میں رابطہ کرنے پر ڈی آئی جی آپریشن وقاص نزیرنے بتایا کہ نوسربازوں کی گرفتاری کیلئے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایات جاری کی جاتی ہیں تا ہم نوسر بازی کے کیسز اس وقت رپورٹ ہوتے ہیں جب نوسر باز واردات کے بعد فرار ہو چکے ہوتے ہیں تا ہم پولیس شہر میں سرگرم تمام نوسرباز گروہوں کی گرفتاری کیلئے سرگرم عمل ہے۔

نو سر باز

مزید : صفحہ آخر


loading...