اڑن طشتری مار گرانے پر روسی فوجی پتھر بن گئے تھے، خفیہ دستاویزات میں انکشاف

اڑن طشتری مار گرانے پر روسی فوجی پتھر بن گئے تھے، خفیہ دستاویزات میں انکشاف

  



واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) خلائی مخلوق کے وجود کے متعلق مختلف آراء پائی جاتی ہیں لیکن اب امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی خفیہ دستاویزات سے خلائی مخلوق کے متعلق ایک تہلکہ خیز انکشاف سامنے آ گیا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق دستاویزات سے پتا چلا ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں روسی افواج نے خلائی مخلوق کی ایک اڑن طشتری مار گرائی تھی۔ اس کے جواب میں خلائی مخلوق نے روسی فوجیوں پر حملہ کیا اور روسی کے کوئی فوجی پتھر کے بن گئے۔ یہ واقعہ انٹارکٹکا میں واقعے ایک روسی فوجی اڈے پر پیش آیا۔دستاویز کے مطابق انٹارکٹکا میں واقع کئی فوجی اڈوں پر سرخ، سبز اور زرد رنگ کی اڑن طشتریاں منڈلاتی رہیں۔ ان میں سے ایک بہت نیچے آ گئی جسے ایک ملٹری یونٹ کے فوجیوں نے نشانہ بناڈالا۔ یہ فوجیوں کے قریب ہی زمین پر گر گئی اور اس میں سے خلائی مخلوق کے پانچ افراد باہر نکل آئے۔ ان کے قد چھوٹے، سر بہت بڑے اور بڑی بڑی سیاہ آنکھیں تھیں۔طشتری کے ملبے سے نکلنے کے بعد یہ پانچوں ایک دوسرے کے قریب آئے اور تمام یکجا ہو کر ایک گول سی چیز بن گئے۔ پھر اس چیز سے تیز آوازیں آنے لگیں اور اس کی رنگت بہت زیادہ سفید ہوتی چلی گئی اور چند سیکنڈ کے اندر یہ گول وجود بہت بڑا ہو گیا اور دھماکے سے پھٹ گیا جس سے انتہائی روشن لائٹ نکلی اور قریب موجود 23فوجی، جو یہ منظر دیکھ رہے تھے، پتھر کے بن گئے۔دو فوجی جو ایک آڑ میں کھڑے تھے اور اس روشنی کی زد میں نہ آئے، وہ محفوظ رہے۔ دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ بعدازاں خلائی مخلوق کی باقیات اور پتھر بن جانے والے فوجیوں کو ماسکو میں واقع ایک خفیہ سائنسی تحقیقاتی ادارے میں منتقل کر دیا گیا۔ 1991ء میں اس وقت کے روسی صدر میخائیل گورباچف نے خود اس واقعے پر مبنی دستاویز ضائع کی تھی تاہم سی آئی اے نے اس کی کاپی حاصل کر لی۔ اس کے بعد میخائیل گورباچف نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ ’’خلائی مخلوق واقعی وجود رکھتی ہے اور ہمیں اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لینا ہو گا۔‘‘

روسی فوجی پتھر

مزید : صفحہ آخر


loading...