لگتا ہے دوطار کلرک ہی حکومت چلا رہے ہیں ،سپریم کورٹ

لگتا ہے دوطار کلرک ہی حکومت چلا رہے ہیں ،سپریم کورٹ

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) سپریم کورٹ نے ورکرز ویلفیئر فنڈز ڈیپوٹیشن ملازمین کے خلاف کیس میں وفاقی حکومت کو آئندہ ہفتے تک جواب داخل کروانے کا حکم دیدیا ، سینئر جج جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے کہ لگتا ہے دو چا ر کلرک ہی حکومت چلا رہے ہیں، اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے کیا ہو رہا ہے، جواب آنے کے بعد دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں ورکرز ویلفیئر فنڈز ڈیپوٹیشن ملازمین کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت وکیل صفائی ایڈووکیٹ وصی ظفر نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کلریکل غلطی ہے، فیصلے میں درخواست گزار کا نام بھی ڈیپوٹیشن ملازمین کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ بعض دفعہ مقدمے کو اس لیے نہیں کھینچتے کہ حکومت کیلئے شرمندگی نہ ہو، وفاقی حکومت حکومت چلاتی ہے یا دو چار بندے، مجھے لگتا ہے دو چار کلرک ہی حکومت چلا رہے ہیں، اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے کیا ہو رہا ہے۔جسٹس عظمت سعید نے حکم دیا کہ عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے تک جواب داخل کرائیں، جواب آنے کے بعد دیکھیں گے کیا کرنا ہے، کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کیلئے ملتوی کردی گئی ۔دوسری طرف سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کے خلاف آئی جی تبادلہ کیس کی سماعت مقرر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، سی ڈی اے اور اعظم سواتی کو نوٹس جاری کر دیئے۔ سپریم کورٹ کا 3رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گی۔

مزید : صفحہ آخر