لاہور پارکنگ کمپنی کیس ، حافظ نعمان کی درخوست اخارج ، ہائیکورٹ سے گرفتار

لاہور پارکنگ کمپنی کیس ، حافظ نعمان کی درخوست اخارج ، ہائیکورٹ سے گرفتار

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس محمد طارق عباسی اور مسٹرجسٹس مرزا وقاص رؤف پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق ایم پی اے حافظ نعمان کی لاہور پارکنگ کمپنی کیس میں درخواست ضمانت خارج کردی،جس کے بعد نیب نے حافظ نعمان کولاہور ہائی کورٹ کے احاطہ سے گرفتارکرلیا،حافظ نعمان مئی 2018ء سے عبوری ضمانت پر تھے ،درخواست کے اخراج کے ساتھ ہی ان کی عبوری ضمانت منسوخ ہوگئی جس کے بعد انہیں گرفتارکرلیا گیا۔عدالت عالیہ نے لاہور پارکنگ کمپنی کے سابق سی ای او تاثیر احمد اور سابق ایم ڈی عثمان قیوم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں بھی خارج کر دیں۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو حافظ نعمان کے وکیل کے جونیئرنے عدالت کو بتایا کہ سینئر وکیل کسی اور عدالت میں مصروف ہیں ،عدالت مقدمہ زیر التواء مقدمات کی فہرست میں ڈال دے ،حافظ نعمان کے وکیل کی عدم پیشی پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ کا موکل 24 مئی سے قبل از گرفتاری درخواست ضمانت کے مزے لوٹ رہا ہے ،بنچ کے سربراہ نے عدالت میں موجود حافظ نعمان سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ بہت پیارے لاڈلے ہیں جو آپ کے کیس کا قیامت تک انتظار کریں ،آپ نے عدالتوں کو مذاق سمجھ رکھا ہے جائیں ،دو منٹ میں اپنا وکیل لے آئیں ورنہ آپ کی درخواست پر فیصلہ کر دیں گے ۔حافظ نعمان کے وکیل اسد منظور بٹ کچھ دیر بعد عدالت کے روبرو پیش ہوگئے اور دلائل دئیے کہ ان کے موکل کمپنی کے پہلے اعزازی سربراہ تھے اور صرف رسمی طور پر بورڈ اجلاس میں حصہ لیتا رہے، وکیل نے دعویٰ کیا کہ کہ حافظ نعمان نے لاہورپارکنگ کمپنی سے کسی بھی مد میں ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا اور قانون کے مطابق ٹھیکہ دیا ،وکیل نے بتایا کہ حافظ نعمان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ حافظ نعمان کی وارنٹ گرفتاری 30 جون 2018 کو جاری ہوئے اور نیب اس معاملے پر تفتیش اس سے بھی پہلے کی کر رہا ہے تو بتائیں سیاسی انتقام کیسے ہوا، ہاں اگر وارنٹ گرفتاری اب جاری ہوتے تو آپ کا نقطہ نظر مضبوط ہوتا اور آپ کو اس نقطہ پر سنا جا سکتا تھا ،حافظ نعمان کے وکیل نے مزید دلائل دئیے کہ لاہور پارکنگ کمپنی کا سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سے معاہدے کے تحت لوکل گورنمنٹ نے پارکنگ کے لئے سائیڈز فراہم کرنی تھیں ،جس پر لاہور پارکنگ کمپنی کمپنیوں سے ٹھیکے پر پارکنگ کا جدید نظام متعارف کروانا تھا سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے مکمل سائیڈز فراہم کی ہی نہیں تو جدید پارکنگ کا نظام کہاں نافذ کرتے ،بنچ کے رکن جسٹس مرزا وقاص رؤف نے قراردیاکہ نجی کمپنیوں کا قیام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوکل گورمنٹ کام ٹھیک نہیں کر رہی ،نیب پراسکیوٹر فیصل بخاری نے درخواست گزار کے وکیل کی مخالفت کی اور عدالت کو بتایا کہ حافظ نعمان نے من پسند افراد کو پارکنگ کا ٹھیکہ دیا اور قومی خزانے کو نقصان پہنچایا، نیب نے بتایا کہ 246 مقامات سے صرف 33 مقامات پر جدید پارکنگ نظام قائم کیا گیا ،پارکنگ کمپنی کے افسران نے ایسی کمپنی کو ٹھیکہ دیا جس نے جعلی دستاویزات پیش کیں اور کمپنی کے ساتھ بہت نرم شرائط پر معاہدے کئے گئے ،نیب پراسکیوٹر نے بتایا کہ حافظ نعمان کی اس معاملے پر خاموشی بطور سربراہ مجرمانہ غفلت ہے ،نیب وکیل نے نشاندہی کی کہ حافظ نعمان اور دیگر ملزمان نے ٹھیکوں کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے بھی منظوری نہیں لی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا۔

،نیب وکیل نے بتایا کہ نیب کے زیر حراست لاہور پارکنگ کمپنی کے دیگر ملزمان پلی بارگین کے تحت 6 کروڑ کی رقم قومی خزانے میں جمع کروانے کو تیار ہیں جس پر بنچ کے سربراہ نے ریمارکس دئیے کہ پلی بارگین والوں نے کچھ کیا ہے تو پیسے جمع کروا رہے ہیں اگر گھپلوں میں ملوث نہ ہوتے تو کیوں جیب سے قومی خزانے میں پیسے جمع کرواتے اور زندگی بھر کے لئے فراڈ کا سرٹیفیکیٹ وصول کرتے،نیب نے بتایا کہ 30 جون کو حافظ نعمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں،ٹرائل عدالت میں ملزموں کا حتمی چالان پیش کر دیا گیا ہے اور ٹرائل عدالت کے روبروباضابطہ سماعت جاری ہے، حافظ نعمان کئی ماہ سے قبل از گرفتاری ضمانت پر ہیں معاملے پر حافظ نعمان کی گرفتاری ضروری ہے لہذاء عدالت قبل از گرفتاری درخواست ضمانت خارج کرے ،لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے فریقین کے دلائل مکمل۔ہونے پر حافظ نعمان کی عبوری ضمانت مسترد کر دی جس کے بعد نیب نے حافظ نعمان کو گرفتار کر لیا. نیب نے حافظ نعمان کو لاہور ہائیکورٹ سے نیب آفس منتقل کر دیا گیا اور آج 29نومبر کو احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔

حافظ نعمان گرفتار

مزید : علاقائی


loading...