بھارت ایک قدم بڑھائے ہم دو بڑھائیں گے ، ماضی سیکھنے کیلئے ہوتا ہے رہنے کیلئے نہیں ، نفرت کی زنجیریں توڑنا ہو نگی ، دنیا چاند پر پہنچ گئی ، کیا ہم کشمیر ک مسئلہ حل نہیں کر سکتے : عمران خان

بھارت ایک قدم بڑھائے ہم دو بڑھائیں گے ، ماضی سیکھنے کیلئے ہوتا ہے رہنے کیلئے ...

  



نارووال،سیالکوٹ، لاہور(نمائندہ خصوصی،جنرل رپورٹر،نامہ نگار بیورورپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔تحصیل شکر گڑھ میں واقع گوردوارہ صاحب کے قریب کرتارپور کوریڈور کے سنگ بنیاد کی تقریب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، بھارتی وزیروں پر مشتمل وفد، مختلف ممالک کے سفارتکار، عالمی مبصرین اور سکھ برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔بھارتی نمائندگی وزیر خوراک ہرسمرت کور اور وزیر تعمیرات ہردیپ سنگھ نے کی جب کہ سابق بھارتی کرکٹر و سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیراعلیٰ عثمان بزدار بھی تقریب میں شریک ہوئے۔وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی صرف سیکھنے کے لیے ہوتا ہے، رہنے کے لیے نہیں، پاکستان اور بھارت کے تعلقات کا یہ حال ہے کہ ہم ایک قدم آگے بڑھ کر دو قدم پیچھے چلے جاتے ہیں، جب تک ہم ماضی کی زنجیریں نہیں توڑیں گے، آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔وزیراعظم نے فرانس اور جرمنی کے ماضی کے تعلقات اور جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت کو مشورہ دیا کہ 'اگر فرانس اور جرمنی ایک یونین بنا کر آگے بڑھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں، اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں، ہماری جماعت، ہماری فوج، تمام سیاسی جماعتیں اور سارے ادارے ایک پیج پر کھڑے ہیں، ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور بھارت کے ساتھ ایک مہذب تعلق چاہتے ہیں۔۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا ہے، انسان چاند تک پہنچ چکا ہے،کیا ہم کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کرسکتے؟'ساتھ ہی انہوں نے کہا'کون سا ایسا مسئلہ ہے جو ہم حل نہیں کرسکتے، لیکن اس کے لیے ارادہ اور ایک بڑا خواب چاہیے'۔وزیراعظم نے بھارت سے مضبوط تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'بارڈر کے دونوں اطراف ایسی قیادت چاہیے جو مسئلے کے حل کا ارادہ رکھتی ہو'۔کرتار پور راہداری کے سنگ بنیاد پر سکھ کمیونٹی کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'جو خوشی مسلمانوں کو مدینہ منورہ جانے سے ملتی ہے، میں وہ خوشی آج یہاں موجود شرکاء کے چہروں پر دیکھ رہا ہوں'۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 'اگلے سال جب آپ یہاں آئیں گے تو آپ کو دیکھ کر خوشی ہوگی کہ ہم ہر طرح کی سہولیات فراہم کریں گے'۔اس موقع پر انہوں نے سابق بھارتی کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو کو سراہتے ہوئے کہا کہ 'مجھے ان کی کرکٹ کمنٹری تو یاد ہے لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ سدھو کو صوفی کلام میں بھی اتنی مہارت حاصل ہے، میں اس سے بہت متاثر ہوا ہوں'۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کوریڈور پاک بھارت تعلقات کو بہتر کرنے میں پہلا قدم ہے اور پاکستان امید کرتا ہے کہ جسطرح کاریڈور بنانے میں بھارت نے اچھے جذبات کا مظاہرہ کیا اسی طرح دونوں ممالک دوستی کے تعلقات کو بہتر بنانے میں اپنا کر دار ادا کریں گے ،انہوں نے کہا کہ 70سالوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہی رہے ہیں اس لئے ہمیں ماضی کی زنجیروں کو توڑنا ہو گا ،اوراچھے ہمسایوں کی طرح اپنے تعلقات کو مضبوط بنا نا ہونگے کیونکہ دو نوں ممالک ایٹمی قوت بن چکے ہیں اور آپس میں جنگ کے خطرات نہ ہونے کے برابرہیں اس لئے دوسرا راستہ صرف دوستی ہی ہے میں نے21سال میں کرکٹ کھیلی اور22سال سے سیاست کر رہا ہوں،دل میں ہارنے کا خوف رکھنے والا بڑاکھلاڑی نہیں بن سکتا،جیت کاجذبہ رکھنے والا اور چانس لینے والا ہی کامیاب ہوتا ہے اگرچہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی جنگیں ہوچکی ہیں لیکن اتنا قتل عام نہیں ہوا جتنا جرمن اورفرانس کے درمیان ہواجب وہ دونوں ممالک سب کچھ بھلا کر عوام کی بھلائی اور خطے کی ترقی کیلئے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہو سکتے ہیں تو ہم نفرت کی آگ کو ختم کرکے ایک دوسرے سے دوستی کیوں نہیں کر سکتے؟،بھارت سے صوبائی وزیر سیاحت و ثقافت سردار نجوت سنگھ سدھوکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں انکی پاکستان آمد پر بھارت کی جانب سے ان پر تنقید کی وجہ نہیں سمجھ سکا۔امن کی آشا کیلئے ہمیں اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ آپ جب بھارت کے وزیر اعظم بنیں تب ہی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم ہو گی بلکہ بھارت کی موجودہ حکومت کو اس حوالے سے بھر پور کوشش کرنی چاہیے اور پاکستان امید کرتا ہے کہ بھارت میں آنے والی حکومت اس اہم مسئلہ پر ضرور غور کرے گی عمران خان نے کہا کہ قدرت نے ہمیں بے شمار وسائل سے مالا مال کیا ہے ،دربار کرتارپور راہداری سے تجارت کو بھی فروغ ملے گا اورغربت کا خاتمہ بھی ہو گا،اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو تو ہمیں آج ہی ارادہ کرنا ہو گا۔ ایمن آباد روڈ سیالکوٹ پر گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی کے نئے کیمپس کے افتتاح کے بعدخطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ فروغ تعلیم پر بھرپور سرمایہ خرچ کرنے کی وجہ سے امریکہ دنیا کی سپرپاور بناہوا ہے اور پاکستان کو بھی سپر پاوربننے کیلئے تعلیم کے شعبہ کی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کرنی ہے جس کیلئے انہوں نے منصوبہ بنالیا ہے جس پر عمل کیا جائے گا ۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ، وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد ، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری ،نورالحق ، صدر تحریک انصاف سینٹرل پنجاب عمر ڈار ، عثمان ڈار ، ڈاکٹر فردوش عاشق اعوان، مرزا دلاور بیگ ، سعید احمد بھلی ،برگیڈئیر(ر) اسلم گھمن اور رکن صوبائی اسمبلی سیدہ فرح اعظمی دیگر بھی موجود تھے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبہ پر خطیر سرمایہ خرچ کیا جارہا ہے اور مستقبل میں تعلیم کے شعبہ پر ہر ممکن سرمایہ خرچ کیا جائے گا اس لئے نجی شعبہ بھی تعلیمی میدان کی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کرے جن کے ساتھ حکومت مکمل تعاون کرے گی ، انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ یونیورسٹیاں اور کالج وسکول قائم کرے کیونکہ پاکستانی قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کیلئے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جن کی حکومت حوصلہ افزائی کرے گی ، وزیر اعظم عمران خان نے نئے کیمپس کا سنگ بنیاد رکھا اور ان کا کہنا تھا کہ اب جنگوں کا دور نہیں ہے بلکہ تعلیم ، صنعت ، کھیلوں اور دیگرشعبوں میں کامیابیاں ہی ملک وقوم کی عزت واحترام کا باعث بنتی ہیں اس لئے پاکستانی قوم کا حوصلہ بھی بلند ہے اور پاکستانی قوم نے ہر شعبہ میں بھرپور محنت کرکے کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ یہ یونیورسٹی دوسو ایکڑ رقبہ پر محیط ہے جس کے نیو کیمپس کی عمارت پر ایک ارب باسٹھ کروڑ ستائیس لاکھ روپے لاگت آئے گی اور منصوبہ میں ایڈمن بلاک، اکیڈمیک بلاک۔ویمن ہاسٹل سٹاف،سٹوڈنٹ ریزیڈنٹ اور لینڈ سکیپنک و دیگرشامل ہیں ،وزیراعظم عمران خان نے یونیورسٹی کے سبزہ زار میں پودہ لگایا۔اور تقریب میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے علاوہ معروف سیاسی سماجی شخصیات اور طالبات بھی شریک تھیں اوریہ منصوبہ تقریبااڑھا ئی سال کے دوران پا یہ تکمیل تک پہنچنے گا۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول


loading...