نیب کی درخواست مسترد، نواز شریف کو سوالنامہ دیدیاگیا

نیب کی درخواست مسترد، نواز شریف کو سوالنامہ دیدیاگیا

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) احتساب عدالت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیر اعظم نواز شیریف کیخلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب)کے تفتیشی افسر محمد کامران نے کہا ہے کہ نواز شریف کے اپنے بیٹے حسن نواز کی کمپنی میں سرمایہ کاری کے دستاویزی شواہد نہیں، واقعاتی شواہد موجود ہیں، دستاویزی شواہد نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ 302 ملین پانڈ کا سرمایہ لگایا ہی نہیں گیا ، یہ کہنا غلط ہوگا کہ میں کسی بدنیتی سے یہ وضاحت دے رہا ہوں۔دوسری طرف سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس میں تفتیشی افسر پر جرح مکمل کرلی گئی جس کے بعد احتساب عدالت نے نیب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سوالنامہ نواز شریف کو دینے کا فیصلہ سنادیا۔نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو تحریری سوالنامہ فراہم نہ کرنے اور پہلے دفاع کو حتمی دلائل دینے کی درخواست کی تھی تاہم عدالت نے نیب کی دونوں درخواستیں مسترد کردیں۔عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں شواہد کی تکمیل کا بیان دینے کے لیے کل کی تاریخ مقرر کردی اور سابق وزیراعظم کو 62 سوالات دے دیے گئے۔احتساب عدالت میں کل العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ہوگی اور نیب پراسیکیوٹر حتمی دلائل شروع کریں گے جب کہ فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت بھی آج تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

فلیگ شپ ریفرنس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا این آر او کا تو سوچ بھی نہیں سکتا۔ این آر او لینا ہوتا تو لندن سے پاکستان نہ آتے،ہم نے پاکستان کی بہت بڑی خدمت کی ہے‘ دنیا نے ہماری معیشت کے بارے میں مثبت کہا‘ ملک کو اندھیروں سے نکالا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے پاس دبئی میں اربوں روپے کی جائیداد کہاں سے آئی۔ ان کا تو کوئی ذریعہ آمدن بھی نہیں، علیمہ خان نے جائیداد چھپانے پر جرمانہ ادا کیا، یہ این آر او نہیں۔نوازشریف کا کہنا ہے کہ قوم جاننا چاہتی ہے علیمہ خان کی جائیداد کے پیچھے کون ہے، علیمہ خان کے پاس دبئی میں اربوں روپے کی جائیداد کہاں سے آئی، ان کی جائیداد کا منی ٹریل کیا ہے۔نوازشریف نے ہم نے فارن ایکسچینج بڑھایا،چین سے دفاعی‘ معاشی معاہدے کئے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے کاموں کے نتیجے میں ہمیں جیل بھیجا گیا،اتفاق فانڈری 50 کی دہائی میں زرعی آلات بنا رہی تھی، جنہوں نے وہ آلات استعمال کئے وہ گواہ موجود ہیں،لاہور میں پہلی اسپورٹس کنورٹیبل مرسیڈیز میرے لیے منگوائی گئی تھی، والد کے کہنے پر 1967میں عراق ، ایران اور سعودی عرب کا دورہ کیا تھا ، یہ باتیں بتانے کیلئے بہت سے گواہ بیان قلمبند کروانے کیلئے تیار ہو جائیں گے۔ بدھ کو نواز شریف نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا کوئی ایک فیلڈ نہیں ہر میدان میں کارکردگی ہے۔ ملک کو اندھیروں سے نکالا‘ فارن ایکسچینج بڑھایا۔ دنیا نے ہماری معیشت کے بارے میں مثبت کہا تھا۔ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا ہماری حکومت نے نکلوایا۔ اافسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے کاموں کے نتیجے میں ہمیں جیل بھیجا گیا۔ اس صورتحال کے بعد آپ لوگ بلواتے ہیں میں کچھ نہیں بولتا۔ ۔ احاطہ عدالت میں وکلا سے مشاورت کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اتفاق فانڈری 50 کی دہائی میں زرعی آلات بنا رہی تھی اور 60 کی دہائی میں آلات برآمد کرتی تھی۔ ان سب باتوں کے کئی گواہ بھی موجود ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ انھوں نے والد کے کہنے پر 1967 میں عراق، ایران اور سعودی عرب کا دورہ کیا۔ 1962 میں لاہور کی پہلی امریکن شیورلے گاڑی ان کے والد نے خریدی تھی جبکہ لاہور کی پہلی اسپورٹس کنورٹ ایبل مرسڈیز کار ان کے لیے منگوائی گئی تھی۔نواز شریف نے اپنے وکیل خواجہ حارث سے اتفاق فانڈری کے ملازمین کو بطور گواہ پیش کرنے سے متعلق مشاورت کی تو خواجہ حارث نے بعد میں مشاورت سے فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا۔

نوازشریف

مزید : صفحہ اول


loading...