حکومت پہلے 100روز میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ ایفانہ کر سکی ، عارضی حل سب سیکرٹریٹ کا قیام بھی تنازعہ کا شکار

حکومت پہلے 100روز میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ ایفانہ کر سکی ، عارضی حل ...

  



لاہور( شہزاد ملک سے ) تحریک انصاف کی حکومت اپنے وعدے کے مطابق پہلے 100 روز مکمل ہونے پر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میں کامیاب نہ ہو سکی،اس حوالے سے نکالا گیا عارضی حل سب سیکرٹریٹ بھی تنازعات کا شکار ہوگیا، بڑے بڑے سیاسی خاندان مزاری،دریشک، لغاری،بزدار، خاکوانی،شاہانی، قریشی، مخدوم، جٹ آرائیں آمنے سامنے آگئے، سب سیکرٹریٹ ملتان یا بہاولپور پر بڑے سیاسی خاندانوں کی ر سہ کشی شروع ہو گئی جبکہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا نعرہ تحریک انصاف کے گلے کی ہڈی بن گیا، (ن) لیگ سے علیحدگی اختیار کرنیوالے 42 اراکین اسمبلی پر مشتمل جنو بی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنما بھی عوام کے دباؤ کے پیش نظر حکومت سے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کر تے دکھائی دے رہے ہیں ۔ معتبرذرائع نے ’’ پاکستان‘‘ کو بتایا پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے اس ضمن میں اب تک محض صرف ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو ابھی تک اپنی سفارشات ہی تیار نہیں کرسکی۔ 12 رکنی ایگزیکٹو کمیٹی میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری،سمیع اللہ چوہدری، سرد ا ر شہاب الدین،سردار جاوید اختر،نواب منصور احمد خاں، انور احمد خاں، جاوید اقبال شامل ہیں جبکہ اس کی سربراہی ق لیگ کے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کے بھائی طاہر بشیر چیمہ کر رہے ہیں۔عام انتخابات میں تحریک انصاف کی مرکز اور پنجاب میں حاصل کردہ کامیابی میں اہم کردار مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کرکے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانیوالے 42 اراکین اسمبلی نے کیا جس میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے سیاسی خاندانواں کے افراد مخدوم خسرو بختیار،ملتان سے رانا قاسم نون،ڈیرہ غازی خاں سے سردار عثمان بزدار، بہاولنگر سے سمیع اللہ چوہدری اور طاہر بشیر چیمہ،راجن پور سے سینئر سیاستدان میر بلخ شیر مزاری اور دیگر شامل تھے۔ان خاندانوں نے بعد میں 9 مئی 2018 کو تحریک انصاف کیساتھ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے وعدے پر معاہدہ کیا اور محاذکو تحریک انصاف میں ضم کرنے کا اعلان کیا، حکومت کے قیام کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بز د ا ر نے 20 اکتوبر کو جنوبی پنچاب کے عارضی حل کیلئے سب سیکرٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کیا اور جہانگیر ترین نے ملتان کو اس کیلئے موزوں قرار دیا جس پر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے جٹ اور آرائیں اراکین نے سب سیکرٹریٹ بہاولپور میں بنانے کا مطالبہ کردیا ،دوسری جانب ڈیرہ غازی خا ن ، ملتا ن، رحیم یار خاں سے تعلق رکھنے والوں نے ملتان کو سب سیکرٹریٹ بنانے کا مطالبہ کر دیا، ان بڑے سیاسی خاندانوں کی رسہ کشی میں تحریک انصاف کیلئے سب سیکرٹریٹ کا قیام بھی مسئلہ بن گیا ہے جبکہ اتحادی جماعت ق لیگ کھل کر اس کی مخالفت کرنے سمیت بہاولپور کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کرر ہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو جہاں سب سیکرٹریٹ کے قیام کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے وہیں اسے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے جو اس کے پاس نہیں ،آئین کے آرٹیکل 342 کے تحت نئے صوبے کے قیام کیلئے متعلقہ صوبے ، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے قراردادیں پاس ہونا ضروری ہیں جس کے بعد نئے صوبے کے قیام کیلئے کمیشن تشکیل دیا جائیگا جو نئے صوبے کے وسائل، وفاقی محصولات میں حصہ، پانی کی صوبائی تقسیم سمیت دیگر معاملات کا تعین کرئگا۔ اس صورتحال میں تحریک انصاف کو مطلوبہ اکثر یت حاصل نہیں۔ جنوبی پنجاب کی محرومیوں اور ارکان کے تحفظات کے باعث حکومت نے عارضی حل کیلئے سب سیکرٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کیا تھا جو اب بڑے بڑے سیاسی خاندانوں کی چپقلش کی نظر ہوتا ہوا آرہا ہے۔

جنوبی پنجاب

مزید : صفحہ اول


loading...