حکومت کے 100 دن ، بجلی گیس مہنگی ، وزیر اعظم کے کامیاب دورے

حکومت کے 100 دن ، بجلی گیس مہنگی ، وزیر اعظم کے کامیاب دورے

  



لاہور (رپورٹ ، عباس تبسم)تحریک انصاف کی حکومت کو100دن پورے ہو چکے،ان100 دِنوں کی کارکردگی کے حوالے سے اگرچہ حکومت ہر شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے دعوے کر رہی ہے۔حکومتی دعوے اپنی جگہ تاہم اگر حکومت کی کارکردگی کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو بعض شعبوں میں حکومت کی کارکردگی تسلی بخش رہی جبکہ بعض میں وہ بری طرح ناکام ہوئی۔ حکومت جب برسر اقتدار آئی تو اس کو سب سے بڑا چیلنج جو درپیش تھا وہ غیر ملکی ادائیگیوں کے بحران میں گھری معیشت کا تھا۔وزیراعظم عمران چند ہفتوں تک تو اپنی اقتصادی ٹیم اسد عمر اور وزارتِ خزانہ اور اپنے معاونین کو دیکھتے رہے،مگر جب معاملہ ان کے قابو میں آتا نظر نہ آیا تو وزیراعظم خود میدان میں اُترے اور اِس سلسلے میں دورے کے لئے پہلا انتخاب سعودی عرب کا کیا۔ وزیراعظم عمران خان کا پہلا دورہ سعودی عرب اگرچہ زیادہ کامیاب نہ رہا تاہم اپنے دوسرے دورے میں وہ اس مشکل وقت میں سعودی عرب کو پاکستان کی مدد کے لئے قائل کرنے میں کامیاب رہے اور سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کو موخر ادائیگیوں پر تیل دینے کی حامی بھری،بلکہ پاکستان کو تین سال کے لئے 3ارب ڈالر سالانہ دینے پر بھی راضی ہو گیا۔سعودی عرب سے آئے3ارب ڈالر سٹیٹ بینک کے پاس رہیں گے،ان میں سے ایک ارب ڈالر پاکستان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو چکے ہیں،جس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملی اور غیر ملکی ادائیگیوں کے بحران کا مسئلہ بھی حل ہو گیا اور پاکستان نے معاشی بحران پر قابو پا لیا۔ سعودی عرب کی طرف سے مزید ایک ایک ارب ڈالر دسمبر اور جنوری میں پاکستان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوں گے۔اب ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ تحریک انصاف کی حکومت کا100روزہ ایجنڈا کیا تھا اور وہ اس پر کس حد تک عملدرآمد میں کامیاب رہی، تحریک انصاف کی حکومت نے جب 100روز پلان دیا تو اس کے چھ نکات سب سے اہم تھے، جن پانچ برس میں ایک کروڑ ملازمتیں، پچاس لاکھ گھر، ایک ارب درخت لگانا، جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانا، معیشت کی بحالی، زرعی ترقی، خود مختار نیب، غیر سیاسی پولیس اور ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانا شامل ہیں۔قومی سلامتی کی ضمانت، سماجی خدمات میں انقلاب، پانی کا تحفظ، وفاق کا استحکام اور طرزِ حکومت میں تبدیلی بھی100روزہ پلان کا حصہ تھا،100روزہ پلان پیش کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ حکومت صحت، تعلیم اور سیکیورٹی کے نظام کو بہتر کرے گی،سول سروس میں اصلاحات لائی جائیں گی،پولیس کو میرٹ کی بنیاد پر غیر سیاسی بنایا جائے گا، نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کی جائیں گی، نچلے طبقے کا معیارِ زندگی بہتر بنایا جائے گا اور درخت لگائے جائیں گے،100 روزہ پلان پر ہر صورت عملدرآمد کراؤں گا چاہے میری حکومت رہے یا نہ رہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پانچ برس میں ایک کروڑ سے زائد نوکریاں پیدا کی جائیں گی، نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جائے گا، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ٹیکس میں کمی، برآمدات پر چھوٹ اور امدادی پیکیج دیا جائے گا۔ سیاحتی مقامات کو بہتر بنایا جائے گا، گیسٹ ہاؤسز کو ہوٹلوں میں تبدیل کیا جائے گا، 100روز کے اندر چار نئے سیاحتی مقامات دریافت کئے جائیں گے،ایف بی آر میں اصلاحات کی جائیں گی،اب جبکہ حکومت کے 100دن پورے ہو چکے ہیں، تو جہاں تک عملی اقدامات کا تعلق ہے، تو حکومت نے بہت سے شعبوں میں بہتری کے لئے پالیسیاں تو بنا لی ہیں، مگر ابھی تک ان پالیسیوں پر عملدرآمد کا فقدان نظر آ رہا ہے، حکومت اپنی پالیسیوں کو واضح ڈائریکشن تو دے چکی ہے،مگر جہاں تک عملی اقدامات کا تعلق ہے، تو حکومت نے کوئی ایسا بڑا عملی قدم نہیں اُٹھایا تاہم اس کی سمت کا تعین واضح طور پر نظر آ رہا ہے،حکومت کی اپنے100روز میں معاشی بحران سے نکلنے اور احتساب کے عمل پر توجہ زیادہ رہی۔ معاشی میدان میں اگرچہ حکومت سعودی عرب اور چین کی مدد سے بیرونی ادائیگیوں کا بحران حل کرنے میں تو کامیاب رہی، مگر یہ ایک عارضی حل ہے۔ جب تک حکومت بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور گردشی قرضوں کا مسئلہ حل نہیں کرتی اسے ایسی ہی بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑے گا۔ حکومت نے آتے ہی اکنامک ایڈوائزی کونسل قائم کی۔اگرچہ اس کونسل میں عاطف میاں کا نام سامنے آنے پر ایک ہنگامہ اُٹھ کھڑا ہوا اور حکومت کو مجبوراً عاطف میاں کا نام ایڈوائزری کونسل سے نکالنا پڑا تاہم ابھی تک اس ایڈوائزری کونسل کی طرف سے مرتب کردہ معاشی پالیسی سامنے نہیں آ سکی۔ حکومت کی طرف سے پہلے100روز کے لئے کئے گئے بیشتر وعدے پورے نہ ہو سکے۔ اقتصادی اعشاریے کے مطابق شرح نمو معتدل رہی۔مہنگائی میں اضافہ ہوا، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔حکومت کو ورثے میں جی ڈی پی 5.8 فیصد ملی تھی اور امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ2018-19ء کے دوران یہ 6فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ رواں سال مالی بجٹ میں جی ڈی پی کا تخمینہ6.2فیصد لگایا گیا تھا۔ تاہم نومبر کے مہینے میں یہ4فیصد رہی۔حکومت کے پہلے100روز، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا،ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہوئی۔ حکومت کے آنے سے پہلے ڈالر124روپے کا تھا، جو اب134روپے تک پہنچ چکا ہے۔حکومت کے پہلے100روز میں ترسیلات زر میں بھی کمی آئی جو اگست میں4ارب4کروڑ ڈالر تھیں، جبکہ اکتوبر میں اس میں کمی آئی اور یہ دو ارب ڈالر پر آ گئیں۔ حکومت کے ابتدائی100روز میں درآمدات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا جو اگست میں چار ارب 46کروڑ ڈالر تھیں۔ اکتوبر میں بڑھ کر چار ارب 72کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں،اس کے برعکس برآمدات میں واضح کمی ہوئی، حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل برآمدات دو ارب9کروڑ ڈالر تھیں جو اکتوبر میں کم ہو کر دو ارب6کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ مالی سال 2018ء کے لئے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے 10کھرب روپے رکھے گئے تھے، مگر موجودہ حکومت نے کم کر کے6کھرب روپے کر دیا۔ پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے لئے عوام سے وعدے کرنا اور ایک تابناک مستقبل کی تصویر پیش کرنا ہمیشہ سے ایک آسان نسخہ رہا ہے،جس میں معاشی خود انحصاری کا وعدہ ہمیشہ سے پہلے نمبر پر رہتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اقتدار میں آنے سے پہلے ماضی کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے عالمی مالیاتی اداروں اور خاص طور پر آئی ایم ایف سے لئے جانے والے قرضوں پر شدید تنقید کی تھی اور واضح اعلان کیا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے سے بہتر ہے کہ ہم خود کشی کر لیں، مگر شاید حکومت میں آنے کے بعد ترجیحات بدل جاتی ہیں ایسا ہی تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ ہوا اور آہستہ آہستہ ملک کی خراب معاشی صورتِ حال کے بارے میں لوگوں کو بتایا جانے لگا اور بالآخر حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا اعلان کر دیا،جس سے روپے کی قدر اور سٹاک مارکیٹ پر بُرا اثر پڑا اور سٹاک مارکیٹ مسلسل نیچے جانے لگی اور ڈالر کو پَر لگ گئے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت اپنے پہلے 100 روز میں کئے گئے وعدے پورے نہیں کر سکی تاہم حکومت نے ہر شعبے میں اصلاحات کے لئے کمیٹیاں اور ٹاسک فورسز قائم کر رکھی ہیں،جو چند روز تک اپنی اپنی رپورٹس پیش کرنے والی ہیں، جس کے بعد حکومت نہ صرف اپنی پالیسیوں کو درست سمت دینے میں کامیاب ہو سکتی ہے اور جن کاموں کے لئے قانون سازی ضروری ہے، اس سلسلے میں قانون سازی بھی کی جائے گی۔تحریک انصاف نے مرکز میں پہلی بار حکومت سنبھالی، اِس لئے اس کی100روزہ کارکردگی توقع سے مختلف نہیں،کیونکہ وہ اقتدار سنبھالتے وقت مُلک کی اصل معاشی صورتِ حال سے آگاہ نہیں تھی،اس کے باوجود حکومت نے چند شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جب تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتدار آئی تو ادائیگیوں کا بحران عروج پر تھا اور زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے تھے،حکومت نے دوست ممالک کی مدد سے بحران پر قابو پا لیا ہے۔اب حکومت کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ معیشت کی بہتری اور تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لئے کیا پالیسیاں لے کر آتی ہے۔ اگرچہ حکومت کے پاس آئی ایم ایف سے پیکیج لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں،اس کے باوجود حکومت دوست ممالک کی مدد سے اس پوزیشن میں آ گئی ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط کو مسترد کر سکے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ کم برآمدات اور بڑھتی ہوئی برآمدات ہیں۔1980ء کی دہائی میں ہم برآمدات میں بھارت کے ساتھ مقابلہ کرتے تھے، آج بنگلہ دیش اور ویت نام کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ اگر ہم اسی طرح تجارت کے شعبے میں مسابقتی ممالک سے تجارت کا مقابلہ ہارتے رہے تو ڈالر کی قیمت بڑھتی ہی رہے گی۔وزیراعظم عمران خان کی حکومت اپنے 100 روز میں مختلف تنازعات کا شکار رہی، ان میں کہیں تو حکومت کو یوٹرن لینا پڑا اور کہیں اسے خفت اٹھانا پڑی سب سے پہلا تنازع اکنامک ایڈوائزری کونسل کے قیام اور اس میں عاطف میاں کی شمولیت پر پیدا ہوا، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا کی شدید تنقید کے بعد عاطف میاں کا نام واپس لے لیا گیا جس پر احتجاج کرتے ہوئے اکنامک ایڈوائزی کونسل کے 2 اور ارکان کونسل کو چھوڑ گئے، حکومت کی طرف سے پولیس کو غیرسیاسی بنانے کا اعلان کیا گیا جس کے لئے سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی کو وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر بنا کر پولیس نظام میں اصلاحات کی ذمہ داری سونپی گئی، مگر حکومت بننے کے چند روز بعد ہی ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے نے حکومت پر تنقید کے راستے کھول دیئے اس واقعے کی گونج سپریم کورٹ تک پہنچی اور چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا، صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی تلوار لٹکنے لگی، پاکپتن کے ڈی پی او کو جس طرح وزیراعلیٰ ہاؤس بلایا گیا اس سے تحریک انصاف کے بیانیے کو شدید نقصان پہنچا اسی ایشو پر حکومت نے اپنے ہی لگائے ہوئے آئی جی پنجاب طاہر خان کو تبدیل کردیا جس پر ناراض ہوکر ناصر درانی نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، اکتوبر میں وفاقی وزیر،اعظم سواتی کا ٹیلی فون نہ سننے پر آئی جی اسلام آباد کو تبدیل کردیاگیا اس واقعے نے بھی سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا اور سپریم کورٹ کے نوٹس لینے پر نہ صرف حکومت کو خفت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ وفاقی وزیر،اعظم سواتی کے کھاتے کھل گئے، جے آئی ٹی بنی اور ابھی تک ان پر نا اہلی کی تلوار لٹک رہی ہے، پنجاب میں سینٹ کے ضمنی انتخابات سے چند روز پہلے چودھری پرویز الٰہی اور طارق بشیر چیمہ کے جہانگیر ترین کے ساتھ گورنر پنجاب کے حوالے سے تحفظات پر مبنی ویڈیو سامنے آئی تو یہ واقعہ بھی اخبارات، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بنا جو پنجاب میں حکومتی اتحاد میں موجود اختلافات کی تصدیق تھی، عمران خان نے تمام لوگوں کو بلاکر اگرچہ معاملہ حل کرنے کی کوشش کی مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا، بالآخر پنجاب میں سینٹ کی دو نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں اگرچہ تحریک انصاف نے دونوں سیٹیں جیت لیں مگر15 ارکان کی وفاداری مشکوک ہو گئی،کیونکہ نہ صرف مسلم لیگ (ن) کو اپنے ووٹوں سے 3 ووٹ زیادہ ملے بلکہ تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے 13 ووٹ مسترد ہوئے جو ارکان اسمبلی کی طرف سے ناراضگی کا اظہار تھا، طاہر داوڑ کا قتل اور تحریک لبیک کا دھرنا بھی حکومت کو 100 روز میں درپیش بحرانوں میں سے ایک تھا۔

100دن

مزید : صفحہ اول


loading...