پنجاب اسمبلی کے کیلنڈر کا تاخیر سے اجرا، نااہلی بے نقاب

پنجاب اسمبلی کے کیلنڈر کا تاخیر سے اجرا، نااہلی بے نقاب

  



لاہور (ناصرہ عتیق سے)سودن اور چار اسمبلی اجلاس گزرنے کے بعد کیلنڈر جاری، تیاری اور منظوری کے دوران افسروں کی نا تجربہ کاری سامنے آ گئی۔قواعد انضباط کار صوبائی اسمبلی پنجاب 1997 کے قائدہ 33 اے کے مطابق ہر پارلیمانی سال کا آغاز ہونے پر حکومت سپیکر کو اسمبلی کے اجلاسوں کا کیلنڈر فراہم کرنے کی پابند ہے تاکہ پورے پارلیمانی سال بھر اجلاس اس کیلنڈر کے مطابق منعقد ہوسکیں۔19 اگست کو پنجاب اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے فوری بعد کیلنڈرکی تیاری اور منظوری کے مراحل شروع ہو گئے تھے مگر اب جاکر سالانہ کیلنڈر کی منظوری دے دی گئی ۔ محکمہ قانون و پارلیمانی امور پنجاب کے انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق جب مذکورہ فائل وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دفتر سے منظوری کے بعد واپس موصول ہوئی تو ان افسران کی حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ دو ماہ سے فیلڈ میں زیر گردش فائل پر پنجاب اسمبلی کے آئندہ اور مجوزہ پانچویں اجلاس کی تاریخ 12 نومبر تھی جبکہ حیران کن طور پر وزیر اعلیٰ سے منظور شدہ یہ سمری 14 نومبر کو موصول ہوئی تھی۔ اس صورت حال کو محکمہ قانون و پارلیمانی امور اور پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کے بعض ذمہ دار سینئر افسران نے اختیارات اور قواعد کو ایک طرف رکھتے ہوئے دوبارہ سمری وزیر اعلیٰ کو بھجوانے کے بجائے اختیارات نہ ہونے کے باوجود وقت کے ضائع اور قباحتوں سے بچنے کیلئے اسے اپنی سطح پر ہی درست کر لیا۔اس نئے منظور شدہ سالانہ کیلنڈر کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کا آئندہ اجلاس پیر 3 دسمبر 2 بجے بعد از دوپہر طلب کر لیا گیا ۔ یہ اور اسی طرح کے دیگر معاملات کے باعث پنجاب سول سیکرٹریٹ کی راہداریوں اور دفاتر میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں تعینات افسروں کی پیشہ ورانہ اہلیت، تجربہ، مہارت اور دلچسپی کے معیار پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...