ممبئی حملے، ٹرمپ بھی بھارتی زبان بولنے لگے

ممبئی حملے، ٹرمپ بھی بھارتی زبان بولنے لگے
 ممبئی حملے، ٹرمپ بھی بھارتی زبان بولنے لگے

  



بھارت کے ساتھ امریکی مشفقانہ رویے کی ایک مثال سامنے آگئی کہ ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے دس برس مکمل ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا کہ ممبئی دہشت گردحملے کے دس برس مکمل ہونے پر امریکا بھارت کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور انصاف کا خواہاں ہے۔ اس حملے میں 166بے گناہ معصوم افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 6امریکی بھی شامل تھے، ہم کبھی بھی دہشت گردوں کو جیتنے نہیں دیں گے اور نہ ہی وہ کبھی جیتنے کے قریب آئیں گے۔

26نومبر 2008ء کو بھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 166افراد ہلاک جبکہ 100سے زائد شہری زخمی ہوئے تھے، اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد میں ممبئی پولیس کے ایک درجن سے زائد اہلکار بھی شامل تھے۔ 10سال مکمل ہونے پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی پاکستان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ حملوں میں ملوث عناصر کو اب تک سزا نہیں ملی جو ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا کی توہین ہے۔ وہ تمام ممالک بالخصوص پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ لشکر طیبہ سمیت ممبئی حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیوں پر عمل درآمد کرے۔

26 نومبر، 2008ء کو بھارت کے معاشی دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر ممبئی کی مختلف جگہوں پربم دھماکوں اور حملوں کم از کم 166افراد بشمول 22غیر ملکیوں کے جاں بحق اور100سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کی آٹھ کاروائیاں ممبئی کے جنوبی حصے میں ہوئیں، جن میں ہجوم کے لحاظ سے مصروف ترین چھتر پتی شیواجی ٹرمینس نامی ریلوے اسٹیشن، دو فائیو اسٹار ہوٹل جن میں مشہورِ زمانہ اوبرائے ٹرائیڈینٹ اور ممبئی گیٹ وے کے نزدیک واقع تاج محل پیلیس اینڈ ٹاورز شامل ہیں۔ لیوپولڈ کیفے جو سیاحت کے لیے ایک معروف ریسٹورنٹ ہے، کاما اسپتال، یہودیوں کے مرکز نریمان ہاؤس، میٹرو ایڈلبس مووی تھیٹر اور پولیس ہیڈ کوارٹرز، جہاں پولیس کے تین کلیدی منصب دار بشمول انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ، کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا، جبکہ دہشت گردی کا نواں واقعہ ولے پارلے میں ہوائی اڈے کے قریب ایک ٹیکسی میں بم دھماکا تھا۔ یہ چند دہشت گردوں کا کام نہیں، بلکہ ان کاروائیوں میں تقریباًً پچاس سے ساٹھ دہشت گرد ملوث ہیں۔

بھارت نے حسب معمول بغیر دیکھے سمجھے سوچے اس دہشت گردی کا الزام پاکستان ، جہادی تنظیموں، پاک فوج اور آئی ایس آئی پر عائد کر دیا، جبکہ ایک غیر معروف تنظیم بنام دکن مجاہدین نے اعتراف کیا کہ یہ کارروائی دکن مجاہدین نے کی اور وہ اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ 28 نومبر کی صبح ممبئی پولیس نے دعوی کیا کہ تاج محل پر حملہ کرنے والے تین دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا اور انہوں نے اقرار کیا کہ اُن کا تعلق پاکستانی جہادی تنظیم لشکرطیبہ سے ہے۔ بھارتی فوج کے اس وقت کے حاضر سروس کرنل سرکانت پرساد کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کی تحقیقات کر رہے تھے۔

کچھ عرصہ قبل جرمن مصنف ڈیوڈسن نے لندن انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی حملے بھارت کا خود ساختہ ڈرامہ تھا۔ ڈیوڈسن نے بھارت کے مکروہ پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا۔" دی بیٹرائل آف انڈیا " کے مصنف کی لندن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا بھارت نے ممبئی حملے کا ڈرامہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے رچایا تھا۔ ممبئی حملوں سے متعلق ہوش ربا انکشافات اور حقائق پر مبنی تجزیے پر مشتمل یہ کتاب بھارتی پبلشر فروز میڈیا، نیو دہلی کی شائع کردہ ہے۔ مصنف معروف تحقیقاتی صحافی ایلیس ڈیوڈسن کی، جن کا تعلق یہودی مذہب اور جرمنی سے ہے، غیرجانبداری نے سامنے لائے گئے، حقائق کو مصدقہ اور قابل بھروسہ بنا دیا ہے۔2017ء میں سامنے آنے والی اس کتاب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دہلی سرکار اور بھارت کے بڑے اداروں نے حقائق مسخ کئے۔

بھارتی عدلیہ انصاف کی فراہمی اور سچائی سامنے لانے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔ ممبئی حملوں کے مرکزی فائدہ کار ہندو انتہا پسندو قوم پرست رہے، کیونکہ ان حملوں کے نتیجے میں ہیمنت کرکرے اور دوسرے پولیس افسران کو راستے سے ہٹایا گیا۔ انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ نہ صرف بھارت بلکہ امریکا اور اسرائیل کے کاروباری، سیاسی اور فوجی عناصرکو بھی اپنے مقاصد پورے کرنے کے لئے ان حملوں کا فائدہ پہنچا جب کہ صحافی ایلیس ڈیوڈسن اپنی تحقیقات میں اس نتیجے پر بھی پہنچا کہ ممبئی حملوں کا پاکستانی حکومت اور فوج کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

گزشتہ دنوں لاہور میں ممبئی حملوں کے حوالہ سے جرمن صحافی Elias Davidsson کی کتاب کا ترجمہ کرنے والے معروف صحافی طارق اسماعیل ساگر کی کتاب ’’26/11 ممبئی حملہ، ہوشربا انکشافات‘‘ کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، لیاقت بلوچ، مجیب الرحمن شامی،اوریا مقبول جان، طارق اسماعیل ساگر، ایثار رانا،سہیل وڑائچ، منیر احمد بلوچ، بشریٰ نواز و دیگر نے خطاب کیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اپنے خطاب میں کہاکہ ممبئی حملوں کا ڈرامہ پاکستانی فوج، آئی ایس آئی اور ملک کو بدنام کرنے کے لئے رچایا گیا۔ بھارتی اداروں نے اجمل قصاب نامی ایک شخص کو گرفتار پکڑا اور دنیا بھر میں ہرزہ سرائی شروع کر دی کہ یہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے، لیکن حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اب بھارتی میڈیا بھی ثابت کر رہا ہے کہ وہ ہندوستانی شہری تھا۔ممبئی حملوں کا یہ ڈرامہ دیکھیں، دس لوگ ایک چھوٹی سی کشتی میں اسلحہ کا انبار لیکر کیسے پہنچے کہ بھارتی ایجنسیوں اور اداروں کو خبر تک نہ ہوئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس سامان پر سٹیکرز پاکستان کے لگے ہوئے تھے۔ یہ افسانہ چلایا گیا۔ سارا ملبہ حافظ محمد سعید اور جماعت الدعوۃ پر ڈال دیا گیا۔ حافظ محمد سعید پاکستانی شہری ہیں، ان پر الزام پاکستان پر الزام ہے۔

جہاں تک اجمل قصاب کے پاکستانی ہونے کا تعلق ہے تو اب خود بھارتی اداروں نے اس کی تصدیق کر دی ہے کہ اجمل قصاب بھارتی شہری تھا۔ بھارتی افسر پرویندرا کْمار نے کیس کی تفتیش کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ نامعلوم افراد کی جانب سے جعلی دستاویزات جمع کروانے پر اجمل قصاب کا ڈومیسائل جاری کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ نامعلوم افراد نے تحصیل بدھونا میں دہشت گرد اجمل قصاب کی تصویر کے ساتھ اکتوبرمیں ڈومیسائل کے لئے درخواست جمع کروائی،جس کے بعد متعلقہ حکام نے دستاویزات اور کوائف کی تصدیق کیے بغیر ہی 21 اکتوبر کو ڈومیسائل جاری کر دیا۔ اس ڈومیسائل میں اجمل قصاب کی جائے پیدائش بدھونا تحصیل درج ہے۔ ڈومیسائل میں اجمل قصاب کے والد کا نام محمد عامر جبکہ والدہ کا نام ممتاز بیگم درج ہے۔ اس سرٹیفیکیٹ کا رجسٹریشن نمبر 181620020060722 ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھارتی دہشت گردی کو بھرپور انداز میں بے نقاب کرے۔ کتاب کے یہودی مصنف نے بہت محنت سے حقائق جمع کئے ہیں اور طارق اسماعیل ساگر نے ترجمہ کرکے پاکستانی قوم کے لئے بہت سہولیت پیدا کر دی ہے۔ اس کتاب میں بہت سے حقائق منظر عام پر لائے گئے ہیں، اس کتاب کا ہر کسی کو مطالعہ کرنا چاہیے۔

مزید : رائے /کالم