’’گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں ‘‘ مودی کے یاروں کی تعداد میں اضافہ

’’گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں ‘‘ مودی کے یاروں کی تعداد میں اضافہ

  



تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

لوگ خودساختہ جلاوطنیاں اختیار کرتے ہیں۔ نواز شریف نے وطن کے اندر ہی خودساختہ چپ سادھ رکھی ہے اور سیاسی و غیر سیاسی موضوعات پر اظہار خیال سے گریز کرتے ہیں، اگر ان کا دل چاہے تو وہ حضرت علامہ اقبالؒ کا یہ شعر گنگنا کے خاموشی توڑ سکتے ہیں۔

گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں

یا ں اب مرے راز داں اور بھی ہیں

ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں تو تقریباً ہر حکمران نے کی ہیں، یہ الگ بات کہ تعلقات معمول پر کبھی نہیں آئے، اکثر کشیدہ اور بعض اوقات کشیدہ تر ہی رہے۔ اگر نواز شریف یہ چاہتے تھے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں اور ان بہتر تعلقات کی وجہ سے اگر باہمی تجارت بھی بڑھتی ہے تو یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے تو اس ’’کار گناہ‘‘ میں دوسرے لوگ بھی تو شامل رہے ہیں۔ اپنے دوسرے دور حکومت میں انہوں نے واجپائی کو دورۂ لاہور کی دعوت اسی لئے دی تھی، لیکن خیرسگالی کی ان کوششوں کو پسند نہیں کیا گیا۔ دوسری مرتبہ افغانستان میں تعمیر کی جانے والی پارلیمنٹ بلڈنگ کا افتتاح کرنے کے بعد وزیراعظم مودی نے واپس دہلی جاتے ہوئے مختصر وقت کے لئے لاہور میں قیام پسند کیا۔ اتفاق سے یہ 25 دسمبر کا دن تھا، جو نواز شریف کی سالگرہ بھی ہے، مودی کے اس دورے پر یار لوگوں نے تشکیک کے پردے پھیلا دئیے اور دیکھتے ہی دیکھتے نواز شریف کو مودی کا یار کہا جانے لگا، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تو اس نعرے کے ساتھ آزاد کشمیر پہنچ گئے کہ ’’مودی کا جو یار ہے، غدار ہے، غدار ہے‘‘ ریاست میں الیکشن ہو رہے تھے اور نوجوان و پرجوش بلاول کا خیال تھا کہ یہ سودا آزاد کشمیر میں ہاتھوں ہاتھ بکے گا اور نواز شریف کی جمااعت الیکشن ہار جائے گی لیکن کشمیریوں نے اس کا الٹا اثر لیا، بالکل غالب کی طرح جس نے اپنے محبوب سے کہا تھا کہ بزم ناز غیر سے خالی ہونی چاہئے جس پر محبوب نے غالب ہی کو بزم سے اٹھا کر ثابت کر دیا کہ ’’غیر‘‘ دراصل وہ ہے جو دوسروں کو غیر سمجھ رہا تھا، کشمیریوں نے پیپلز پارٹی کو بری طرح ہرایا اور عملاً یہ بتا دیا کہ مودی کا یار کون ہے لیکن اس کے باوجود نواز شریف کے سیاسی مخالفین انہیں مودی کا یار ثابت کرنے پر ادھار کھاتے رہے اور اکثر یہ نعرہ لگایا کرتے تھے، لیکن اب حالات نے پلٹا کھایا ہے تو ہر کوئی بھارت سے بہتر تعلقات کی بات کرنے لگا ہے اور بات یوں کی جا رہی ہے جیسے یہ کوئی ایسا خیال ہو جو اس کے ذہن رسا میں آیا ہو اور اس سے پہلے کسی دوسرے کو نہ سوجھا ہو، کچھ لوگوں کا طرز عمل تو یہ ہے جیسے وہ بھارت سے دوستی کا سہرا اپنے سر سجانے کے لئے بے قرار اور بے چین ہوں۔ کرتارپور کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھنے والے وزیراعظم عمران خان بھی خوش ہیں جنہوں نے ابھی زیادہ دن نہیں گزرے، مودی کو چھوٹے ذہن کا آدمی قرار دیا تھا، لیکن لگتا ہے اب اسی چھوٹے آدمی سے بڑی بڑی باتیں کی جائیں گی۔ پاکستان اور بھارت دونوں سارک کانفرنس کے رکن ہیں، اس تنظیم کی آخری سربراہ کانفرنس اسلام آباد میں ہونے والی تھی جو مودی کے اچانک انکار کے باعث ملتوی ہوگئی تھی، تنظیم کے کئی دوسرے رکن ملکوں کو بھی مودی نے اپنا ہمنوا بنا لیا تھا اور یوں یہ کانفرنس نہ ہوسکی تھی، اس کے بعد بھی آج تک اس لئے انعقاد نہیں ہوسکا کہ تنظیم کے چارٹر کے مطابق جس ملک میں شیڈول کانفرنس التوا کا شکار ہو، جب تک اس میں انعقاد نہیں ہو جاتا، اس وقت تک کسی دوسرے ملک میں کانفرنس نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے اس وقت سارک کانفرنس سکتے کی حالت میں ہے اور آگے نہیں بڑھ رہی، حالانکہ بہت سی تنظیمیں جو اس کے بعد تشکیل پائیں، بہت آگے بڑھ گئیں ’’برکس‘‘ اس کے بعد بنی اور انتہائی فعال ہوگئی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا کردار بھی بہت متحرک ہے، لیکن پاک بھارت تعلقات کا سایہ سارک کانفرنس پر کچھ اس طرح سایہ فگن ہے کہ نہ یہ سایہ ہٹتا ہے اور نہ ہی تنظیم کے کردار میں کوئی تحرک پیدا ہوتا ہے۔ اب پاکستان اور بھارت اگرچہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن بن گئے ہیں اور اس تنظیم میں چین اور روس جیسے رکن ممالک کے اثر و رسوخ کے باوجود پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر جمی ہوئی برف نہیں پگھل سکی، حالانکہ اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد یہی ہے کہ اس کے رکن ممالک باہمی تعلقات کو بہتر سے بہتر بنائیں گے، لیکن یہاں پاکستان اور بھارت کا معاملہ یہ ہے کہ تعلقات کی سرد مہری کم ہونے میں نہیں آرہی، ابھی چند دن پہلے ہی پاکستان نے صاف طور پر کہا کہ کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ کرنے والوں کو بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کی معاونت حاصل تھی، ایسے میں تعلقات آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں۔ اگر ان میں بہتری مقصود ہے تو ایک ہی مرتبہ بیٹھ کر سارے گلے شکوے دور کرلینے چاہئیں لیکن امریکہ نے افغانستان میں بھارت کو جو ’’وسیع تر‘‘ کردار دیا ہے اس سے کام لے کر بھارت افغانستان کی حکومت کو پاکستان کے خلاف اکساتا رہتا ہے۔ کابل اور افغانستان کے دوسرے شہروں میں بھارت نے جو ترقیاتی منصوبے شروع کر رکھے ہیں اور ٹاٹا کی بنی ہوئی جو بسیں کابل شہر میں دوڑتی رہتی ہیں اور جو طالب علم تعلیم کے لئے نئی دہلی کا رخ کرتے ہیں، ان سب کے پردے میں بھارت، افغان باشندوں کو پاکستان کے خلاف اکساتا رہتا ہے، اگر آپ کابل سے نکلنے والے فارسی اور انگریزی کے اخبارات کا چند دن تسلسل کے ساتھ مطالعہ کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان میں کس قدر زہریلا پروپیگنڈہ پاکستان کے خلاف ہوتا ہے۔ ایسے ہی پروپیگنڈے کی وجہ سے افغان حکمرانوں کا لہجہ بھی پاکستان کے خلاف تلخ ہوتا رہتا ہے، جس کا اظہار کبھی سرحد پر فائرنگ کی صورت میں ہوتا ہے اور کبھی زیر تعمیر باڑ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کابل میں بھارتی کردار صرف پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے اور اسے دباؤ میں رکھنے تک محدود ہوکر رہ گیا ہے اور غالباً امریکہ بھی یہی چاہتا ہے کہ اس دباؤ کی وجہ سے پاکستان اس کے مطالبات مان جائے۔ ان حالات میں جب تک پاک بھارت تعلقات بہتری کی جانب گامزن نہیں ہوتے اور بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ ختم نہیں کرتا، اس وقت تک ’’کرتارپور کوریڈور‘‘ سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہوسکتیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ سکھ اب بلا روک ٹوک کرتار پور صاحب گوردوارہ آجاسکیں گے، کیا معلوم اس کے پردے میں گورداس پور سے کچھ اور لوگ بھی آجائیں، جو سکھ نہیں ہیں، لیکن اگر بغیر ویزے آنے کی سہولت سے وہ بھی اپنے آپ کو مستفید ہونے کا مستحق بنانا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو ’’کلین شیو سکھ‘‘ ظاہر کرنے میں کیا حرج ہے۔ دنیا میں بھیس بدل کر ایسے بہت سے کام پہلے بھی ہو رہے ہیں، اب ایک اور راستہ کھل جائے گا تو بھیس بدلنے کا نیا طریقہ بھی تو سامنے آجائیگا، اس کوریڈور سے یہ تو پتہ چل ہی گیا کہ پاکستان میں ’’مودی کا یار‘‘ صرف نواز شریف نہیں ہے اور بھی بہت سے لوگ اپنی ٹوپی میں یہ کلغی سجائے ہوئے ہیں۔ نواز شریف کو مبارک ہو کہ ابھی مودی کے یاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اب اس انجمن میں تنہا نہیں ہیں۔

مزید : تجزیہ