آشیانہ سکینڈل ،شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 9دن کی توسیع

آشیانہ سکینڈل ،شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 9دن کی توسیع

  



لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اورقومی اسمبلی میں حزب اختلاف میاں شہبازشریف کو 6 دسمبر تک مزید جسمانی ریمانڈپر نیب کے حوالے کر دیاہے۔میاں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنان گدھا بھی ساتھ لے آئے،کارکن ڈونکی راجہ کی سرکار نہیں چلے گی کے نعرے بھی لگاتے رہے۔گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہبازشریف کو 7روزہ راہداری ریمانڈ کے بعد احتساب عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، احتساب عدالت کے جج نجم الحسن بخاری نے کیس کی سماعت کی،نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا راہداری ریمانڈ کی وجہ سے تفتیش نہیں ہو سکی،مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے، میاں شہباز شریف کے خلاف کچھ مشکوک بینک ٹرانزیکشن ملی ہیں،مشکوک بینک ٹرانزیکشن پرمیاں شہباز شریف کو سوالنامہ بھجوایا گیاتاہم ٹرانزیکشن کے بارے میاں شہبازشریف کی جانب سے بھیجا گیا جواب تسلی بخش نہیں ہے،6 کروڑ روپے کے تحائف قریبی عزیزوں کو دیئے جبکہ ان کی اس سال آمدنی اڑھائی کروڑ تھی،6 کروڑ روپے کہاں سے آئے ،ابھی یہ معاملہ تفتیش طلب ہے،میاں شہباز شریف نے 2011 میں تحائف دیئے مگر وہ گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا، جس پرعدالت نے ریمارکس دئیے کہ شہباز شریف کے 2011 ء کے پیسوں سے آشیانہ ہاوسنگ سکینڈل کا کیا تعلق ہے؟ہو سکتا ہے کہ اپنی آمدنی ظاہر کرنے سے پہلے انہوں نے تحائف تقسیم کر دیئے ہوں اور شوگر مل کو کیوں شامل کیا گیاہے، نیب کے وکیل نے بتایا کہ رمضان شوگر مل کیس آشیانہ کیساتھ ساتھ چل رہا ہے، مشکوک ٹرانزیکشن ہوئی ہیں، کیس میں دیگر افراد کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں، 19 تاریخ کو شہباز شریف کو سوالنامہ دیا گیا، شہباز شریف کے ذاتی اکاونٹ کی ٹرانزیکشن کی معلومات لینی ہیں، شہباز شریف نے سوالات کے جواب کیلئے وکیل سے مشاورت کی استدعا کی تھی، شہباز شریف کی ایک سال کی آمدنی اڑھائی کروڑروپے تھی اور 6 کروڑ روپے کے گفٹ دیئے، شہباز شریف کے اثاثوں کی انکوائری چل رہی ہے، شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ نیب 11 ماہ سے تفتیش کر رہا ہے، عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ کب سے اکاؤنٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں،جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ میاں شہباز شریف کے 2011ء سے 2017ء کے اکاؤنٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں، میاں شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ نیب بتائے کہ کیا اکاؤنٹ میں کوئی ایسی ٹرانزیکشن ہے جسے کرپشن سے جوڑا جا سکے، اپوزیشن لیڈرکو حراست میں رکھ کرایسی جائیداد کی دستاویزات مانگ رہے ہیں جو سالوں پہلے بک چکی ہیں، انگلینڈ کی جائیداد فروخت کرکے تحائف دئیے کون سا جرم کیا،شہبازشریف کے وکیل امجدپرویز نے کہا کہ شہباز شریف نے تمام اثاثے ظاہر کئے ہوئے ہیں،نیب کہتا ہے کہ شہباز شریف نے کچھ چھپایا ہے، یہ تو خود سرکار ہیں خود ریکارڈ نکلوا کر دیکھ لیں وکیل شہباز شریف نے کہا اگر نیب کو کوئی معلومات درکار ہیں تو اس کے لئے ریمانڈ ضروری نہیں، 55 روزہ جسمانی ریمانڈ کے باوجود نیب میاں شہبازشریف کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی ،مزید ریمانڈ نہ دیا جائے،فاضل جج نے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ کتنے دن کا ریمانڈ ہو چکا ہے،نیب کے پراسیکیوٹر وارث علی نے بتایا کہ 54 دن کاریمانڈ ہو چکا ہے، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ جج صاحب 55 دن کا ریمانڈ ہوچکا ہے، عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد میاں شہباز شریف کو 6 دسمبر تک مزید جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کر نے کاحکم دے دیاہے ۔علاوہ ازیں شہباز شریف کی آمد کے موقع پراحتساب عدالت کی سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی،پولیس کی جانب سے متعدد سکیورٹی حصار قائم کر کے سائلین،وکلاء کو عدالت کی طرف جانے سے روک دیاگیا،عدالت میں جانے سے روکنے پر وکلاء اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی اورتلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ،احاطہ عدالت میں موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور وکلاء نے نعرے بازی کی۔دوسری طرف احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے درمیان اچانک ملاقات ہو گئی۔ میاں شہباز شریف اور راجہ پرویز اشرف کی چند منٹ کی ملاقات بھی ہوئی جس میں راجہ پرویز اشرف نے شہباز شریف سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ آپ کیسے ہیں؟ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میں ٹھیک ہوں ،آپ بس دعاکریں۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...