رہائشی عمارتوں میں اسکول قائم کیے جاسکتے ہیں ،انتخاب عالم سوری

رہائشی عمارتوں میں اسکول قائم کیے جاسکتے ہیں ،انتخاب عالم سوری

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے صدر انتخاب عالم سوری نے کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ آرڈنینس 2001کے تحت رہائشی عمارتوں میں اسکول قائم کیے جاسکتے ہیں۔ اسکولوں کے خلاف کو ئی کارروائی کی گئی قانون کا سہارالیا جائے گا۔سندھ حکومت اسکولوں کو سہولتیں فراہم کرے، مشکلات پیدا کرنے سے گریزکیاجائے۔یہ بات انہوں نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہی۔انتخاب عالم سوری نے کہا کہ نجی اسکولز تعلیم کا 75فیصد حکومتی بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں ،رہائشی عمارتوں کے نام پر اسکولوں کے خلاف کارروائی سے تعلیم پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوں گے۔اسکولوں کو سہو لتیں دینے کے بجائے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگل گورنمنٹ آرڈنینس 2001میں اسکول ،کالجز اورکوچنگ سینٹرز کو رہائشی عمارتوں میں کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔اس آرڈنینس کے مطابق تمام ادرارے قانونی طور پر کام کررہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے بے روزگاری کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔سندھ حکومت نے کو ئی کارروائی کی تو بڑی تعداد میں اسکول بند ہوجائیں گے اورطلبہ کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جائے گا ،انتخاب عالم سوری نے کہا کہ سکولوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کی صورت میں ہیومن رائٹس نیٹ ورک نئی نسل اور شہریوں کے حق کے خاطرقانونی راستہ اختیار کرے گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...