بی آر ٹی منصوبہ کی بروقت تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جا ئیگی محمود خان

بی آر ٹی منصوبہ کی بروقت تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جا ئیگی ...

  



پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے خبردار کیا ہے کہ زیر تعمیر پشاور بس ریپڈٹرانزٹ منصوبے کی بروقت تکمیل میں کسی قسم کی مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی ، پہلے سے متفقہ ٹائم لائن اگلے سال تک منصوبہ ہر حال میں مکمل ہونا چاہئے ۔تعمیراتی کام کے معیار اور بروقت تکمیل میں رکاوٹیں ڈالنے پر متعلقہ سرکاری محکموں یا ٹھیکیداروں کا سخت مواخذہ کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں بس رپیڈ ٹرانزٹ منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر تیمور سلیم خان جھگڑا، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، ایس ایس یو کے سربراہ صاحبزادہ سعید، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ محمد اسرار ، سیکرٹری ٹرانسپورٹ ، کمشنر پشاور شہاب علی شاہ، ٹرانس پشاور کمپنی اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام ، کنسلٹنٹس اور ٹھیکیداروں نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو بی آر ٹی کے تینوں ریچز میں کوریڈور سمیت دیگر فیچرز پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بی آر ٹی کے مختلف حصوں اور مختلف کاموں کی تکمیل کیلئے ٹائم لائن سے بھی آگاہ کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مختلف نوعیت کی سہولیات اور اضافی فیچرز پر مبنی صوبائی حکومت کا ایک منفرد منصوبہ ہے ،یہ واحد تھرڈ جنریشن پراجیکٹ ہے جو پشاور کی مجموعی ٹریفک کے مسائل کا مستقل حل ہو گا انہوں نے تنبہہ کی کہ اس منصوبے کی بروقت تکمیل میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔منصوبے کی تکمیل کیلئے ٹائم لائن پر پہلے سے اتفاق ہو چکا ہے ۔مذکورہ ٹائم لائن میں مزید توسیع کی قطعاً گنجائش نہیں،پشاور کے عوام کو بڑی تکالیف کا سامنا ہے اسلئے منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنا کر عوام کو ریلیف دینا ہے۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت نے اس منصوبے کیلئے بین الاقوامی بڈنگ کا راستہ اختیار کیا تھا اور بعد ازاں متعلقہ کمپنیوں اور ٹھیکداروں کو سہولیات دی گئیں اور مسائل کے حل کیلئے طریق کار وضع کیا گیا تاکہ بغیر کسی رکاوٹ کے کام جاری رہ سکے اور منصوبہ وقت پر مکمل ہو۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر مذکورہ ڈیڈ لائن کے اندر منصوبہ مکمل نہیں ہوتا تو وہ متعلقہ سرکاری حکام کے خلاف سخت کاروائی کرنے جبکہ کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کرنے پر مجبور ہوں گے انکی حکومت عوام کہ فلاح پر سمجھوتہ نہیں کرے گی،انہوں نے منصوبے کے تعمیراتی کاموں کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کی ہدایت کی ، انہوں نے اس سلسلے میں مختلف مانیٹرنگ اور نگرانی کی مختلف ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت کی تاکہ ہدایات پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے منصوبے کی وقت پر تکمیل ممکن ہو سکے۔ یہ ٹیمیں کل وقتی طور پر بی آر ٹی کے تعمیراتی کام اور مقررہ وقت پر تکمیل سے حکومت کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھیں گی۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کی بھی ہدایت کی۔

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے شیلٹر ہومز کیلئے پشاور میں پہلے سے دستیاب مراکز میں چار دسمبر 2018تک تمام ضروریات و سہولیات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اور عندیہ دیا ہے کہ مذکورہ شیلٹر ہومز کا دس دسمبر سے پہلے با ضابطہ افتتاح کیا جائے گا۔افتتاح کیلئے وزیر اعظم عمران خان کو مدعو کریں گے ، عمران خان مذکورہ دورہ کے دوران حیات آباد میں صوبائی حکومت کے تیار کردہ برن سنٹر کا افتتاح بھی کریں گے، وزیر اعلیٰ نے پشاور میں تین نئے شیلٹر ہومز کے قیام کیلئے سمری بھی جلد بھیجنے کی ہدایت کی۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں شیلٹر ہومز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نوید کامران بلوچ، سیکرٹری سوشل ویلی، سیکرٹری اوقاف اور کمشنر پشاور نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے پشاور میں شیلٹر ہومز کیلئے پہلے سے دستیاب چار مراکز میں 4 دسمبر تک تمام ضروریات مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ مذکورہ مراکز میں 430 کے قریب بے گھر افراد کو رات کے قیام کی سہولت دینے کی گنجائش ہو گی۔وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ مذکورہ مراکز کو 10 دسمبر سے پہلے بے گھر افراد کیلئے کھول دیا جائے گا اور کہا کہ مراکز کے افتتاح کیلئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مدعو کیا جائے گا جس کے دوران وزیراعظم حیات آباد میں تیار برن سنٹر کا افتتاح بھی کرینگے۔وزیراعلیٰ نے بے گھر افراد کی سہولت کیلئے پشاور کے گنجان آباد علاقوں میں 3 بسیں چلانے کی بھی منظوری دی۔مذکورہ بسیں مسافروں اور دیگر بے گھر افراد کو رات کے قیام کیلئے فقیر آباد اور پجگی روڈ پر واقع شیلٹر ہومز میں لے جانے کیلئے استعمال کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ شیلٹرز ہوم میں قیام پذیر افراد کیلئے خوراک کا انتظام بھی کیا جائے۔انہوں نے ورکنگ وومن کے ہاسٹل کیلئے مجوزہ جگہوں میں سے مناسب ترین جگہ کے تعین کی بھی ہدایت کی۔اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے گداگری کے حوالے سے قانون میں نظر ثانی پر پیش رفت بھی طلب کی جس پر بتایا گیا کہ گداگری کے حوالے سے مذکورہ قانون نظر ثانی کیلئے محکمہ قانون خیبرپختونخوا کو بھیجا جا چکا ہے۔وزیر اعلیٰ نے قانون کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر منشیات کے عادی افراد کیلئے پشاور کے بڑے ہسپتالوں میں بیڈز مختص کرنے کے حوالے سے حکومتی ہدایات پر پیش رفت طلب کی ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر بڑے ہسپتال میں کم از کم دس بیڈز مختص ہونے چاہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ متعلقہ محکمہ نشے کے عادی افراد کو ہسپتالوں کو ریفر کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو ہر قسم ریلیف دینے کیلئے تمام تر ممکن وسائل کو بروئے کار لائیگی اور غریب عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ بے گھر افراد کیلئے شیلٹر ہومز کے قیام کے سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان کے وژن پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سنٹرل جیل پشاور کا اچانک دورہ کیا ۔ صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔وزیر اعلیٰ کا اس نوعیت کا یہ پہلا دورہ تھا جس میں سنٹرل جیل پشاور میں قیدیوں اور انکے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ دورے کا مقصد سنٹرل جیل پشاور میں میل اور فی میل قیدیوں کی حالت ، صحت، خوراک، تعلیم،صفائی، قیدیوں کو مناسب ماحول، ان تک ملاقاتیوں کی رسائی اور دوسرے مسائل کا جائزہ لینا تھا۔ اچانک دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے میل ، فی میل اورنوعمر قیدیوں کے بلاکس، ہسپتال، کینٹین ،لائبریری، سٹور رومز اور ویٹنگ رومز کا معائنہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے ملاقاتیوں سے ان کے مسائل دریافت کئے۔ اس موقع پر ملاقاتیوں نے وزیراعلیٰ کو بنیادی نوعیت کے سہولیات کی ناپیدی سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ملاقاتیوں کو مناسب ماحول فراہم کریں اور انہیں ملاقات تک رسائی اور ان کے بنیادی مسائل فوراً حل کریں۔محمود خان نے جیل کے اندر صفائی کے ناقص انتظامات پر برہمی کا اظہار کیااور اس کے فوری حل کیلئے موقع پر ہدایات جار ی کیں۔وزیراعلیٰ نے قیدیوں کو علاج معالجے اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت،اُنہوں نے جیل میں ادویات کا مکمل بندوبست کرنے کے علاوہ بجلی کے متبادل نظام کی بھی ہدایت کی تاکہ قیدیوں کے ساتھ ملاقاتیوں کا سلسلہ جاری رہ سکے ۔ وزیراعلیٰ نے چھوٹے پیمانے پر جرائم کے مرتکب قیدیوں کی قانونی معاونت کی بھی ہدایت کی ۔ اُنہوں نے نئی عمارت کے فیز ون کیلئے فنڈز کی ڈیمانڈ بھیجنے کی بھی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہماری حکومت بلا تفریق ہر فرد کو اس کے بنیادی حقوق اور انصاف کی فراہمی ممکن بنائے گی ۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ ہر شہری کو تعلیم ، انصاف، صحت اوربنیادی حقوق فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔محمود خان نے قیدیوں کیلئے تیارکی گئی خوراک کا معائنہ کیا اور خود بھی خوراک کے معیار کو چیک کیا۔ وزیراعلیٰ نے جیل سپرٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ قیدیوں کو تمام انسانی حقوق حاصل ہیں اس میں کوتاہی ناقابل قبول ہے۔ صوبائی حکومت غریب اور بے آسرا قیدیوں اور حوالاتیوں کو انصاف تک رسائی ممکن بنانے کیلئے قانونی مدد فراہم کریگی ۔ چیئرمین ڈیڈک سوات فضل حکیم خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے سی ایم سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کی ملاقات میں سوات کے مختلف عوامی مسائل ومشکلات اور فلاح وبہبود کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیر اعلیٰ نے چیئرمین ڈیڈیک کے اس استدلال سے اتفاق کیا کہ عوام کی اولین ضرورت بہتر صحت ہے اور اس مقصد کیلئے ضلع بھر میں طبی مراکز کو میڈیکل سٹاف اور جدید آلات سے لیس کرنے کے علاوہ سیدو گروپ آف ہاسپٹلز کو زیادہ سے زیادہ فعال بنانا وقت کا تقاضا ہے فضل حکیم خان نے بتایا کہ ضلع کے علاوہ پورے مالاکنڈ ڈویژن میں مختلف حادثات اور آفات کی صورت میں زخمیوں اور مریضوں کو براہ راست سیدو ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے جس کیلئے اتنی ہی زیادہ سہولیات کی ضرورت ہے اس سلسلے میں ہسپتال پر عام مریضوں کا بوجھ کم کرنے کے لئے مقامی طبی مراکز کی سطح پر ریفرل سسٹم کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ عمومی امراض میں مبتلا مریضوں کا علاج مقامی طور پر ہو اور لوگوں کی سفری مشکلات اور اخراجات کی بچت کے علاوہ سیدو ہسپتال پر مریضوں کا رش بھی کم ہو وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ اس ضمن میں زمینی حقائق کے مطابق ٹھوس اقدامات کئے جائینگے اور سوات میں دیگر ہیلتھ یونٹوں کو جدید اور فعال بنانے کے علاوہ سیدو ہسپتال کو حقیقی معنوں میں جدید ٹیچنگ و آراستہ و پیراستہ ہسپتال بنایا جائیگاانہوں نے چیئرمین ڈیڈک کی نشاندہی پر دیگر جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کا یقین بھی دلایا انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ مینگورہ شہر کے ساتھ ساتھ سوات کی تمام تحصیل اور ٹاؤن و دیہی سطح کے بازاروں کو تجاوزات سے پاک کیا جائیگا تاکہ وہاں ٹریفک کی آمدورفت بہتر بنانے کے علاوہ کاروبار کی زیادہ بہتر سہولیات عوام کو مقامی سطح پر مہیا ہوں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...