حکومت کے100دن کسانوں پر بھاری ، بجلی کھاد ،بیج ڈیزل 40فیصد مہنگا زرعی ترقی کو ریورس گیئر

حکومت کے100دن کسانوں پر بھاری ، بجلی کھاد ،بیج ڈیزل 40فیصد مہنگا زرعی ترقی کو ...

  



ملتان ( سپیشل رپورٹر) نئی حکومت کے پہلے 100دن ملکی زراعت پربھاری گزرنے ہیں ،ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے شعبہ زراعت بارے پالیسی نہ ہونے کے باعث کسان زندہ درگور ہوکر رہ گئے ،ناقص حکومتی چیک اینڈ بیلنس کے باعث کھاد ،بیج ،ڈیزل سمیت زرعی مداخل کی قیمتوں میں پہلے 100دنوں میں 25سے 40فیصد تک اضافہ ،دوسری جانب زرعی اجناس کے مناسب نرخ نہ ملنے سے کاشتکار طبقہ بدحالی کا شکار ہوکر رہ گیا ،نئی حکومتی ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ گنے کی کرشنگ سیزن کی تاخیر کا مسئلہ بھی حل کرنے میں ناکام ہوکر رہ گئی ۔ملک میں زرعی ترقی کو ریوس گیئر لگ گیا ۔تفصیل کے مطابق پاکستا ن تحریک انصاف کی حکومت کوبرسر اقتدار آئے 100دن ہوچکے ہیں اس سلسلہ میں محکمہ زراعت کے حوالے سے اگر حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو کسانوں پر پی ٹی آئی کی حکومت کے پہلے 100دن بھاری ثابت ہوئے ہیں ۔ملک میں آبی قلت کے باعث فصلوں کو سیراب کرنے والی نہریں بند پڑی ہیں جس کے باعث کاشتکاروں کو فصلیں سیراب کرنے کیلئے ٹیوب ویلوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے لیکن حکومت نے اس مد میں کسانوں مد میں کسانوں کو ریلیف دینے کی بجائے بجلی مہنگی کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیزل کے نرخوں میں بھی 30فیصد تک اضافہ کردیا ہے حالانکہ عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں سابقہ کے مقابلے میں 25فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے جس سے کسانوں کو فصلیں سیراب کرنے کیلئے مہنگے ڈیزل اور بجلی سے ٹیوب ویل چلانا پڑ رہے ہیں ۔اسی طرح نئی حکومت کے پہلے سو دنوں میں یوریا کھاد کی قیمت میں 500سو روپے فی بوری ،یوریا کھاد کی قیمتوں میں 400سور وپے فی بوری جبکہ دیگر کھادوں پر بھی اسی تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں کاشتکار طبقہ اپنی فصلوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے کھاد خریدنے کی سکت کھو چکا ہے ۔کھاد کے ساتھ ساتھ تصدیق شدہ بیجوں کے نرخ بھی 25فیصد تک بڑھ چکے ہیں ۔دوسری جانب اگر فصلوں کی پیداوار کے نرخوں کا موازنہ کیا جائے توحکومتی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے پھٹی کے نرخ عالمی منڈی میں زیادہ ہونے کے باوجود کسانوں کو اس تناسب سے فائدہ نہیں پہنچایا جاسکا اور عالمی منڈی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کا تمام تر فائدہ جنر ز اور ایپٹما ہائی جیک کرکے کسانوں کو زندہ درگور کرچکی لیکن حکومت کے کان میں جوں تک نہیں رینگی ۔اسی طرح دھان کے نرخوں پر بھی رائس انڈسٹری کی اجارہ داری نے کسانوں کو "اوقات"میں رکھا ہوا ہے ۔پریشان کن امر یہ ہے کہ ملک کی بڑی نقد آوور فصل کماد کے کاشتکار بھی اپنی فصل تیار کرنے کے بعد شوگر ملز انڈسٹری کی جانب دیکھ رہے ہیں کین ایکٹ کے مطابق ملک میں شوگر ملز انڈسٹری کو یکم نومبر کو کرشنگ سیزن شروع کرنے کا پابند کیا گیا ہے مگرنومبر کا مہنہ ختم ہونے کے باوجود تاحال گنے کی گرشنگ کا سیزن شروع نہیں ہوسکا جس سے گنے کے کاشتکاروں کو اربوں روپے کے نقصان کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے ۔پریشان کن امر یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے حکومت کے پہلے سودنوں میں محکمہ زراعت کے حوالے سے کوئی واضع پالیسی سامنے نہیں آسکی جس کے باعث اپوزیشن لیڈ ر بلاول بھٹو زرداری نے بھی کسانوں کے حق میں تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے ۔کسان تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں راؤ افسر علی ،فیاض الحسن بھٹہ ،ملک انور ،اسد عباس شاہ و دیگر کا کہناہے کہ اگر صورت حال بدستور رہی اور حکومت نے کسانوں کے حوالے سے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو آنے والے دنوں میں ملک بھر میں اٹھنے والی کسان تحریک حکومتی اقتدارکو بہا لے جائے گی ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...