وہ وقت جب حضرت جعفر صادقؓ نے زیر لب کچھ پڑھنا شروع کیا تو اچانک سوکھے درختوں پرتازہ کھجوریں نمودار ہوگئیں 

وہ وقت جب حضرت جعفر صادقؓ نے زیر لب کچھ پڑھنا شروع کیا تو اچانک سوکھے درختوں ...
وہ وقت جب حضرت جعفر صادقؓ نے زیر لب کچھ پڑھنا شروع کیا تو اچانک سوکھے درختوں پرتازہ کھجوریں نمودار ہوگئیں 

  

علامہ عبدالرحمن ملا جامی رحمت اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب شواہد النبوت میں بیان کرتے ہیں کہ ایک راوی کا بیان ہے کہ ہم حضرت جعفر صادقؓ کے ساتھ حج کیلئے جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کھجور کے سوکھے درختوں کے پاس ٹھہرنا پڑا۔ حضرت جعفر صادقؓ نے زیر لب کچھ پڑھنا شروع کر دیا جس کی مجھے کچھ سمجھ نہ آئی۔ اچانک آپؓ نے سوکھے درختوں کی طرف منہ کرکے فرمایا ’’اللہ نے تمہیں ہمارے لئے جو رزق و دیعت کیا ہے اس سے ہماری ضیافت کرو‘‘ 

میں نے دیکھا کہ وہ جنگلی کھجوریں آپؓ کی طرف جھک رہی تھیں جن پر ترخوشے لٹک رہے تھے۔ آپؓ نے فرمایا’’ آؤ اور بسم اللہ کر کے کھاؤ‘‘ میں نے آپؓ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کھجوریں کھا لیں۔ ایسی شیریں کھجوریں ہم نے پہلے کبھی نہ کھائی تھیں ۔اس جگہ ایک اعرابی موجود تھا۔ اس نے کہا’’ آپ جیسا جادوگر میں نے کبھی نہیں دیکھا‘‘آپؓ نے فرمایا ’’ ہم ہر گز جادوگر نہیں ۔ایمان والوں کا اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے اور جب وہ مانگتے ہیں تو اذن الٰہی سے یہ آرزو پوری ہوتی ہے ‘‘

مزید : روشن کرنیں