اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 57

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 57
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 57

  



حضرت شیخ ابا العباس نہاوندی ؒ ٹوپیاں سیا کرتے تھے اور اسی کام سے وہ اپنی گذر اوقات کرتے تھے اور جب تک وہ اپنی بنی ہو ئی ایک ٹوپی فروخت نہیں کرلیتے تھے دوسری ٹوی نہیں سیتے تھے۔

آپ ایک ٹوپی کی قیمت دو درہم سے کم نہیں لیا کرتے تھے۔ ٹوپی فروخت کرنے کے بعد ایک درہم تو اس شخص کو دے دیتے جو سب سے پہلے آپ کے پاس آتا اور ایک درہم کی روٹی خرید کر کسی درویش کے ہمراہ تنہائی میں بیٹھ کر کھالیا کرتے تھے۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 56 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

حضرت شیخ ابو عثمان سعید بن سلامؒ نے اپنے ایک مرید سے پوچھا ’’اگر تم سے کوئی یہ سوال کرے کہ تمہارا معبود کس حالت پر قائم ہے تو تم کیا جواب دو گے؟‘‘

مرید نے عرض کیا ’’میں یہ جواب دوں گا کہ جس حالت پر ازل میں تھا اس پر اب بھی ہے۔‘‘

پھر آپ نے پوچھا ’’اگر تم سے کوئی یہ سوال کرے کہ تمہارا معبود ازل میں کس حالت پر قائم تھا تو تم کیا جواب دو گے؟‘‘

اس نے کہا ’’میرا یہ جواب ہوگا کہ وہ جس حالت میں اب ہے ازل میں بھی اسی حالت پر تھا۔‘‘

آپ نے اس کے جواب پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ’’تمہارا جواب درست ہے۔‘‘

***

حضرت شیخ ابو علی محمد بن عبدالوہاب ؒ کی ہمسائیگی میں ایک کبوتر باز رہتا تھا اور جب وہ کبوتر اڑاتے وقت ان کو کنکر مارنے لگا تو کنکر آپ کی پیشانی پر آکر لگا جس کی وجہ سے آپ لہولہان ہوگئے۔ یہ دیکھ کر مریدین کو بہت غصہ آیا اور انہوں نے قصد کرلیا کہ حاکم کے سامنے کبوتر باز کو لے جاکر سزا دلوائیں گے لیکن آپ نے مریدوں کو منع کرتے ہوئے فرمایا’’اس کبوتر باز کو درخت کی ایک ٹہنی دے آؤ اور یہ سمجھا دو کہ آئندہ سے کنکرمارنے کے بجائے ٹہنی سے کبوتروں کو اُڑایا کرے۔‘‘

***

ایک مرتبہ بیابان میں حضرت سہل بن عبداللہ تستریؒ کو ایک بہت ہی بدحال بڑھیا ملی۔ آپ اس کے حال زار پر بڑے متاثر ہوئے۔ آپ نے اس کی مدد کرنا چاہی تو اس بڑھیا نے ہاتھ اٹھا کر مٹھی بند کرلی اور جب مٹھی کھولی تو اس میں سونا تھا۔ پھر اس نے آپ سے کہا ’’تم جب سے رقم نکالتے ہو لیکن مجھے غیب سے ملتی ہے۔‘‘یہ کہہ کر وہ اچانک غائب ہوگئی اور جب آپ نے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرنا شروع کیا تو دوران طواف دیکھا کہ کعبہ خو دبڑھیا کا طواف کررہا ہے اور جب آپ اس بڑھیا کے نزدیک پہنچے تو وہ بولی۔

’’جو اختیاری طور پر یہاں پہنچتا ہے اس کیلئے طواف کعبہ ضروری ہے لیکن جو اضطراری عالم میں آتے ہیں کعبہ خود اُن کا طواف کرتا ہے۔‘‘

***

نماز جمعہ سے قبل حضرت سہل بن عبداللہ تستریؒ سے کوئی بزرگ ملنے کے لئے آئے تو انہوں نے دیکھا کہ آپ کے نزدیک ایک سانپ کنڈلی مارے ہوئے بیٹھا ہوا ہے اور جب وہ بزرگ اجازت لے کر قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا

’’جو حقیقت آسمان سے ناواقف ہوعتا ہے وہی زمین کی چیزوں سے خوف کھاتا ہے۔‘‘

اتنا کہنے کے بعد آپ نے دوبارہ اس بزرگ سے پوچھا’’نماز جمعہ کے لئے کیا خیال ہے‘‘

انہوں نے کہا ’’مسجد یہاں سے 24 گھنٹے کی مسافت کے فاصلے پر ہے۔‘‘

یہ سن کر آپ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور چشم زدن میں مسجد کے اندر داخل ہوگئے اور نماز کے بعد لوگوں پر نظر ڈالتے ہوئے فرمایا ’’مخلص صاحب ایمان تو بہت قلیل ہیں البتہ کلمہ گو بہت زیادہ ہیں۔‘‘(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 58 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے