امریکہ نے خطے میں پاکستان کی بجائے بھارت کو سٹریٹجک پارٹنر چن لیا ، ہم غلامی کا طوق نہیں پہنیں گے :وزیر خارجہ

امریکہ نے خطے میں پاکستان کی بجائے بھارت کو سٹریٹجک پارٹنر چن لیا ، ہم غلامی ...
 امریکہ نے خطے میں پاکستان کی بجائے بھارت کو سٹریٹجک پارٹنر چن لیا ، ہم غلامی کا طوق نہیں پہنیں گے :وزیر خارجہ

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خار جہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ دشمن نے ہم کو تنہا کرنے کی کوشش کی، امریکہ فیصلہ کرچکا ہے کہ خطے میں اسکا سٹریٹیجک پارٹنر پاکستان نہیں بھارت ہے ، غلام کا طو ق نہیں پہنیں گے ، افغانستان اور بھارت کے ساتھ امن کے بغیر خوشحالی اور بیروز گاری کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں تحریک انصاف کی حکومت کی 100روزہ کارکردگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے دشمن نے ہم کو تنہا کرنے کی کوشش کی اور سابق حکومت نے بھی اس سلسلے میں بالواسطہ کردار ادا کیا ، تحریک انصا ف کی حکومت آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے میری ذمہ داری لگائی اور میں نے دفتر خا رجہ کو پہلے سے زیادہ فعال کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دفترخا رجہ کو موثر اور مضبوط بنانے کافیصلہ کیا ، تنہائی سے نکلنے کیلئے ہم نے ماہر ین پر مشتمل ایڈ وائزی کونسل بنانے کا فیصلہ کیا اور وزیر اعظم کی ہدایت پر خارجہ پالیسی کی ترجیحات کواز سر نو مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، اس سلسلے میں پہلے ترجیح ہمسایہ ممالک میں امن کو دی گئی اور افغانستان پر توجہ مرکوز کی گئی ،میں افغان صدر سے کہتا ہوں کہ آپ جس مسئلے پر چاہتے ہیں کہ ہم سے بات کریں ہم پوری کوشش کریں گے کہ افغانستان کی مددکر سکیں۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم کی ہدایت پر پہلے افغانستان گیا اور وہاں کے حکومت سے ملا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مشرق سرحد پر ہمارا ہمسایہ بھارت ہے ،تر قی امن کے بغیر ممکن نہیں، بھارت اور افغانستان کے ساتھ امن کے بغیر خوشحال اور بیر وزگاری کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میںوزیر اعظم عمران خان نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کوخط لکھا اور یہ طے کیاگیا کہ نیویارک میں پا ک بھارت وزرائے خا رجہ ملاقات کریں لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا ؟میں یہ تو نہیں کہتا کہ سشما سوراج ملاقات کرنے سے شرما گئیں لیکن اندرونی سیاست کی وجہ سے وزرائے خارجہ ملاقات نہ ہوسکی اورپھر دنیا نے دیکھا کہ عمران خان نے کرتار پور کی گگلی پھینک دی اور بھارت کوبادل ناخواستہ اپنے دو وزراکو پاکستان بھیجنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا تیسرا ہمسایہ ہے ، بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلقات خراب ہوں لیکن ہم نے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے ہیں اور اس سلسلے میں میری ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ دوملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

وزیر خا رجہ نے کہا کہ چین ہمارا ہمسایہ اور دوست ملک بھی ہے اور بہت سے لوگوں نے اس حوالے سے شکوک شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی کہ حکومت سی پیک پر ترجیحات کا از سر نو جائزہ لے رہی ہے لیکن ہم عمران خان کی سربراہی میں سی پیک کے اگلے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کی پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب اور عرب امارات سے ہمارے تعلقات سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے اور ہماری ترجیح تھی کہ ان ممالک سے ہم اپنے تعلقات درست کریں ، عمران خان کے دوروں کی وجہ سے سعودی اور عرب اور امارات کے ساتھ ہمارے تعلقات میں سرد مہری کا خاتمہ ہوا اور ان ممالک کی طرف سے ہمیں معاشی پیکجز بھی ملے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ فیصلے کرچکاہے کہ اس خطے میں اس کا سٹریٹیجک پارٹنر پاکستان نہیں بلکہ بھارت ہے او ر ہم نے اس بات کے تناظر میں امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا تعین کرناہے اور سب نے دیکھا ہے کہ جب ٹرمپ نے ٹوئٹس کی تو پاکستان سے عمران خان نے بھی تیر چلایا، ہم امریکہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں لیکن غلامی کا طوق نہیں پہنیں گے ، غلامی کی زنجیریں ہم 1947میں توڑ چکے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت کفایت شعاری سے کام لے گی ، قوم جانتی ہے کہ جیسے ہی ہماری حکومت آئی گستاخانہ خاکوں سامنے رکھتے ہوئے اسلام آباد پر یلغار کی گئی اور کہا گیا کہ ہم پورے ملک کو بند کردیں گے جس پر ہم نے عالمی سطح پر موقف اپنایا اورکہا کہ ناموس رسولﷺ پر کوئی بات برداشت نہیں کریں گے، یہ مسئلہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے بیک آواز ہوکر اٹھایا اور ہالینڈ میں بھی اٹھایا گیا جس پر اس مردود کی جانب سے گستاخانہ خاکے نشر کرنے پر پابندی لگائی گئی اور یورپی یونین نے بھی فیصلہ دیا ۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں کشمیریوں کوپیغام دینا چاہتا ہوں جو ظلم و بربریت کا شکار ہیں کہ تم تنہا نہیں بلکہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اس سال پانچ فروری کو میں تمام پارٹیوں کودعوت دیتا ہوں کہ آﺅ اس پانچ فروری کو ہم لندن میں مل کر کشمیر ڈے منائیں گے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...