چینی سائنسدان نے حاملہ خاتون کے بطن کے ساتھ ایسا کام کردیا کہ پوری دنیا کو خوفزدہ کردیا

چینی سائنسدان نے حاملہ خاتون کے بطن کے ساتھ ایسا کام کردیا کہ پوری دنیا کو ...
چینی سائنسدان نے حاملہ خاتون کے بطن کے ساتھ ایسا کام کردیا کہ پوری دنیا کو خوفزدہ کردیا

  



بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) ٹیکنالوجی کی جدت انسان کی زندگی میں کئی طرح کی آسانیاں لے کر آئی لیکن اب اس کے ذریعے جنسی روبوٹس کی تیاری سمیت کچھ ایسے کام کیے جا رہے ہیں جنہوں نے انسانیت کو معدومی کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ اب ایک چینی سائنسدان نے ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے خاتون کے پیٹ میں پلنے والے بچے کے ساتھ ایسا کام کر ڈالا ہے کہ سن کر پوری دنیا خوفزدہ ہو گئی۔ میل آن لائن کے مطابق ’ہی جیان کوئی‘ نامی اس سائنسدان نے ہانگ کانگ میں ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس میں بتایا ہے کہ اس نے ایک خاتون کے پیٹ میں پرورش پانے والی دو جڑواں بچیوں کا ڈی این اے ایڈٹ کرکے اس میں ایسی تبدیلیاں کر دی ہیں کہ انہیں کبھی ایڈز کا مرض لاحق نہیں ہو گا۔یہ بچیاں پیدا ہو چکی ہیں اور اب پرورش پا رہی ہیں۔ان بچیوں کے ڈی این اے میں تبدیلی کے بعد آئی وی ایف کے ذریعے ان کے ایمبریو پیدا کیے گئے اور پھر انہیں ماں کے پیٹ میں منتقل کیا گیا۔

ہی جیان کوئی کا کہنا تھا کہ اس نے دوسرا تجربہ بھی کر دیا ہے اوراس بار ایک ماں کے بطن میں بچے کے ڈی این اے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں تاہم اس کا حمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ہی جیان کوئی کے ان تجربات کا سن کر دنیا بھر کے سائنسدان خوف میں ڈوب گئے اور انہوں نے اس کے کام کو سفاکانہ اور ظالمانہ قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے ڈی این اے ایڈٹ کرنے کی روایت اگر چل پڑی تو یہ انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو گئی۔ کسی بھی سائنسدان کو ایسا اقدام ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق ہی جیان کوئی نے یہ تجربات چینی شہر شین ژن میں واقع چلڈرنز ہسپتال اور ہارمونی کیئر وومن میں کیے۔ واضح رہے کہ جینز کو ایڈٹ کرکے بچے پیدا کرنا برطانیہ اور امریکہ سمیت بیشتر ممالک میں ممنوع ہے کیونکہ اس کے ذہنی و جسمانی صحت پر طویل مدتی اثرات کے بارے میں اب تک ماہرین کچھ زیادہ نہیں جانتے اور ان کے خیال میں یہ خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...