مو دی پاکستان نہیں رائیونڈ آتے تھے، پیسو ں کا انتظام نہ کرتے توملک دیوالیہ ہوجاتا :فواد چودھری کا دوہفتوں میں پنجاب پولیس اصلاحات لانے کا اعلان

مو دی پاکستان نہیں رائیونڈ آتے تھے، پیسو ں کا انتظام نہ کرتے توملک دیوالیہ ...
مو دی پاکستان نہیں رائیونڈ آتے تھے، پیسو ں کا انتظام نہ کرتے توملک دیوالیہ ہوجاتا :فواد چودھری کا دوہفتوں میں پنجاب پولیس اصلاحات لانے کا اعلان

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہاہے کہ پنجاب میں دوہفتے میں پولیس اصلاحات سامنے آجائیں گی ، تین ماہ میں پیسو ں کا انتظام نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا ، نریندر مودی پاکستان نہیں بلکہ رائے ونڈ آتے تھے ۔

جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ دوہفتے تک پنجاب پولیس میں اصلاحات کی رپورٹ سامنے آجائیگی ، کے پی میں پولیس اصلاحات ہوچکی ہیں لیکن پنجاب میں چونکہ یہ صوبائی معاملہ ہے ، اس کو پنجاب حکومت پر چھوڑ دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ آگے چل کر جو ماڈل کے پی میں پولیس کاملا ہے وہی ماڈل پنجاب میں بھی نظر آئے گا ، پنجاب ہمارے لئے چیلنج تھا اور پرانے سیٹ اپ کی تبدیلی میں وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو پتہ نہیں تھا کہ اتنے برے حالات ہیں کہ اگر تین ماہ میں پیسو ں کا انتظام نہ ہواتو ملک دیوالیہ ہوجائے گا ، ان حالات پر قابو پانا اہم تھا جو ہم نے کرلیا ہے اور ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیاہے ۔ ان کاکہنا تھا کہ ہم ملائشیا پیسے لینے نہیں گئے بلکہ خسارے پر قابو پانے کیلئے مہاتیر محمد کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کیلئے گئے تھے ، مہاتیر محمد دنیا کہ چند رہنماﺅں میں شامل ہیں جنہوں نے معیشت کوبہتر کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ایک پیغام دینا چاہتے تھے کہ ہمیں ایثار سے کام لیناہوگا ، ابھی حکومت نے بنیاد رکھی ہے، وزیر اعظم کی پاکستان اور عوام کیلئے سوچ ہے اور ہم پوری جذبے سے عوام کی خدمت کیلئے کام کریں گے ۔سشما سوراج کے پاکستان نہ آنے کے حوالے سے سوال پر فواد چودھری نے کہاہے کہ نریندر مودی پاکستان نہیں آتے بلکہ رائیونڈ آتے تھے ، فرق ریاست کے تعلقات اور انفرادی شخصیت کے تعلقات کاہوتاہے ، سشما سوراج جو کہہ رہی ہیں ، اس حوالے سے بھارتی حکومت انڈیا کے اندر ہی تنہا ہوتی جارہی ہے ، اتنی بڑی سکھ کمیونٹی کونظر انداز کرنا بھارت کے لئے بہتر نہیں ہوگا ۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور نریندر مودی کے تعلقات اہم نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات اہم ہیں۔ حکومت نے چین کے ساتھ تعلقات کو نئی نہج پر پہنچایاہے ، ہم کونسے کونسے ثبوت عوام کے سامنے رکھیں ؟انفرادی تعلقات کی اہمیت نہیں ہے ، ادارے کس طرح سے سوچتے ہیں اور ریاست کس طرح سوچتی ہے اس کی اہمیت ہے ، یہ نوازشریف اور عمران خان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی فرق ہے ۔ یوٹرن کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی کو سپیکر پنجاب اسمبلی بنانا حکمت عملی کی پالیسی کہہ سکتے ہیں، ان کواس وعدے کے ساتھ ملایا گیاہے کہ اگر تحقیقات ہونگی تو وہ رکاوٹ نہیں بنیں گے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی