حضور نبی اکرم ؐ کی امت پر شفقت ورحمت

حضور نبی اکرم ؐ کی امت پر شفقت ورحمت

  



ازقلم:ڈاکٹر محمد ظفر اقبال جلالی

اللہ تعالی نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے حد نرم دل اور شفیق و مہربان بنایا ہے، وہ اپنی امت کے لئے سراپا رحمت و کرم ہیں، اس کی تکلیف، کسی بھی قسم کی سختی اور شدت انہیں ناگوار گزرتی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: ترجمہ:”یہ اللہ پاک کی خاص رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم دل ہیں“۔(آل عمران: 159)

دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: ترجمہ:”بے شک تمہارے پاس تم ہی میں سے، عظیم الشان رسول تشریف لائے، جو چیز تمہیں مشقت میں ڈالے، وہ انہیں بہت ناگوار گزرتی ہے تمہاری بھلائی کے بہت ہی متمنی ہیں۔ مومنوں پر بہت ہی مہربان و رحیم ہیں“۔(التوب: 128)

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب اطہر میں پیدا کردہ اسی شفقت و رحمت کا اثر تھا کہ صرف نیک اور پرہیزگار لوگ ہی آپ کے پیش نظر نہ تھے، بلکہ گناہ گاروں پر بھی نظر کرم تھی تاکہ وہ رحمت و مغفرت سے محروم نہ رہیں اور فرمانبرداروں کے ساتھ وہ بھی رحمت میں سے حصہ حاصل کر لیں۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ترجمہ:”مجھے شفاعت اور نصف امت جنت میں داخل کرنے کے درمیان اختیار دیا گیا، (کہ چاہے تو آدھی امت بخشوا لیں، چاہے شفاعت کا اختیار لے لیں) میں نے شفاعت کو اختیار کرلیا ہے۔ (اے میرے غلامو!) کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ صرف متقی لوگوں کے لئے ہے؟ نہیں، یہ گناہوں اور خطاؤں کی گندگی میں لتھڑے ہوئے لوگوں کے لئے ہے“۔(ابن ماجہ

حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری امت پیاری ہے، خواہ وہ گناہ گار ہی ہو، اسی لئے شفاعت کو اختیار فرمایا تاکہ انہیں بھی بخشوایا جا سکے۔ اگر آدھی امت کو بخشوا لیتے تو باقی آدھی امت کدھر جاتی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بے یار و مددگار چھوڑنا پسند نہیں فرمایا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مسلم شریف، 2: 248)

ترجمہ:”میری اور میری امت کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے آگ جلائی، تو پروانے اور پتنگے آ کر اس میں گرنے لگے۔ میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر کھینچتا ہوں اور تم اس میں چھوٹ چھوٹ کر گرتے ہو“۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر شفقت ورحمت اور بلند مرتبہ ومقام کے پیش نظر دل وجان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم وتکریم بجالائی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گہری عقیدت ومحبت رکھی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت وکردار کو اپنایا جائے۔جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا میں تشریف لانے سے لے کر قیامت کے دن تک کے تمام مراحل میں امت کو نہ صرف یاد رکھا بلکہ ان کی مغفرت وبخشش کیلئے اللہ تعالی کے حضور شفاعت وسفارش کی۔لہٰذا وفا کا تقاضا ہے کہ ہم بھی نگر نگر،قریہ قریہ،شہر شہر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کے چرچے کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے جشن منائیں جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے فرمایا:

جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا

یاد اس کی اپنی عادت کیجئے

لہٰذا ایمان کی بقا اور کمال کے لئے آقا علیہ السلام کے ساتھ محبت اور ادب کے تعلق کو اس قدراستوار کیا جائے کہ آقا علیہ السلام کے ادب، اطاعت اور محبت میں فنا ہو جائیں۔ ساری خیر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت میں ہے اور سارا شر حضور علیہ السلام سے کٹ جانے میں ہے۔ اْمت جب تک حضور علیہ السلام سے جڑی رہی، وہ خیر کے چشموں سے سیراب ہوتی رہی۔ جب سے ہم ادب مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، محبت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، اتباع مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کٹ گئے تو خیر سے محروم ہوتے ہوئے اور شر کے اندھیروں میں چلے گئے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام محبت کا پیغام ہے۔ یہ پیغام انسانیت کو جوڑنے، امن، بقا، فلاح، بہبود، خیر اور انسانیت کی خدمت، دْکھی لوگوں کے دلوں کا سہارا بننے، پریشان حال لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ دینے اور لوگوں کو اْن کی ضروریات بہم پہنچانے اور خوشیاں دینے کا نام ہے۔ یہ تمام صفات میرے آقا علیہ السلام کا اْسوہ و سیرت ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت بھی کریں اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اْسوہ اور سیرت کی اتباع بھی کریں۔ قرآن مجید، حدیث رسول، سنت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیرت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کا فروغ اور انہیں اپنے کردار میں ڈھالنے میں ہی نجات ہے۔

دنیا آج بھی نبی رحمۃ اللعامین کے عظیم اسوہ کی محتاج ہے اور اگر دنیا امن قائم کرنا چاہتی ہے تو اسے بالآخر اسی طرف آنا پڑے گا،انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احسن طریق پر عمل کرنا ہوگا۔آج دنیا میں جہاں امن ہے وہاں انہی رہنما اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے۔معاشرے میں بسنے والے ہر ذی روح پر رحم اور شفقت کا سلوک کرنا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والوں کو اس پیاری تعلیم پر عمل کرتے ہوئے غریبوں،محتاجوں،یتیموں اور مسکینوں سے حسن سلوک کرنا چاہئے۔عورتوں سے رحم اور شفقت کا برتاؤ ہونا چاہئے اور اسی طرح جانوروں پر ظلم نہیں کرنا،سب کے حقوق ادا کرنے چاہئیں۔تبھی ہمارے اس معاشرہ میں امن قائم ہو سکتا ہے اور ہمارا یہ ماحول جو بد امنی،خوف،ناانصافی اور حق تلفی کا شکار ہے اس میں کچھ بہتری آسکتی ہے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم پْر عزم ہوں اور نیک نیت ہو کر دینی تعلیم اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کریں۔

مزید : ایڈیشن 1