سب سے عظیم محنت کش

سب سے عظیم محنت کش

  



حضور سرور کائناتﷺ رہتی دُنیا تک آنے والے انسانوں کے لئے ہادی اور رہنما بنا کر بھیجے گئے۔ اس لئے یہ امر لازم تھا کہ آپ ؐ کی حیات طیبہ میں دُنیا بھر کے انسانوں کے لئے ہر اعتبار سے اور ہر پہلو کے لئے واضح مثالیں موجود ہوں اور انہیں آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کیا جائے۔ باری تعالیٰ نے آپ ؐ کی زندگی کو دین اسلام کے ماننے والوں کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ ایک مصلح کامل، ایک سپہ سالار، ایک مقنن و منصف اور ایک انسان کامل کی حیثیت سے آپ ؐ جملہ خوبیوں کے مالک تھے۔ ایک محنت کش کی حیثیت سے آپ ؐ کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ؐ نے زندگی بھر شدید محنت کر کے اپنے مشن کی تکمیل کی۔ یہ وہ محنت تھی جس میں آپ ؐ نے اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے سلسلے میں کہیں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ جو کچھ آپ ؐ کو حکم دیا گیا وہ سب کچھ آپ ؐ نے کر دکھایا، چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ آپ ؐ اللہ کے دین کی دعوت لے اُٹھے، تو آپ ؐ کو انتہائی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، گالیاں سنیں، پتھر کھائے، گھر سے نکالے گئے، معاشرتی بائیکات کیا گیا، لیکن صبرو استقلال اور عزم وہمت کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھا، کسی قسم کی تحریص و ترغیب آپ ؐ کو اس مشن سے نہ ہٹا سکی۔ دن بھر تبلیغ دین کے علاوہ دوسری عبادات بھی سرانجام دیتے۔ پھر ان کارکنوں کی تربیت بھی کی، جنہیں دُنیا بھر میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لئے مسلسل تربیت کی ضرورت تھی۔

ایک ذمہ دار کی حیثیت سے آپ ؐ نے دن رات کام کیا اور دُنیا والوں سے اس کا اجر نہ مانگا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کے حقوق کا آپ نے تحفظ فرمایا اور محنت سے کمائے ہوئے رزق کو پسند فرمایا اور محنت سے کمانے کا درس دیا۔ ارشاد فرمایا، محنت سے کمانے والا اللہ کا دوست ہے۔ یوں تو مختلف قسم کی محنت سے حصول رزق کیا جاتا ہے، لیکن ہاتھوں سے کمائی ہوئی روزی کو آپ ؐ نے افضل ترین قرار دیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا ”کبھی کسی نے ہاتھوں کی کمائی سے بہتر کھانا نہیں کھایا اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام لوہے سے زر ہیں اور ہتھیار بنایا کرتے تھے“۔ معلوم ہوا کہ ہاتھوں سے محنت کشی کرنے والا اللہ اور اُس کے حبیب کو زیادہ پسند ہے۔

محنت کشوں سے اس تعلق کی بنا پر حضور اکرمﷺ نے اللہ کے حضور محنت کشوں کا وکیل بننے کا اعلان فرمایا کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا اعلان ہے کہ قیامت کے روز مَیں تین قسم کے آدمیوں سے جھگڑا کروں گا اور مَیں جس سے جھگڑوں گا اسے مغلوب کر کے چھوڑوں گا۔

٭…… وہ شخص جس نے میرے نام پر عہد کیا پھر اس کو توڑ ڈالا۔

٭…… وہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو فروخت کیا۔

٭…… وہ شخص جس نے کسی محنت کش کو کام پر لگایا، اُس سے پورا کام لیا، لیکن اس کی اُجرت ادا نہ کی۔

حضور اکرمﷺ نے محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا! کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ اُمت مسلمہ کو محنت کشی کا درس دیتے ہوئے آپ ؐ نے اُن کے ساتھ مل کر کام کیا اور بعد میں آنے والوں کے لئے قابل عمل نمونے چھوڑے۔ مدینہ منورہ میں جب مسجد نبوی تعمیر کی گئی تو عام مسلمانوں کے ساتھ آپ ؐ کبھی پتھر اُٹھا کر لاتے اور کبھی گارا۔ روایت ہے کہ سامان تعمیر آپ ؐ بڑے شوق و جذبے کے ساتھ اُٹھا کر لاتے اور یہ رجز پڑھتے، یعنی اے اللہ کامیابی صرف آخرت کی کامیابی ہے۔ اے اللہ انصار اور مہاجرین دونوں کی مغفرت فرما۔

اِسی طرح غزوہ ئ خندق کے موقعے پر جب مشرکین مکہ اور دوسرے قبائل کا ایک بڑا لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا چاہتا تھا۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت سلیمان فارسی ؓ کے مشورے سے مدینے کی ایک جانب پانچ گز گہری خنددق کھونے کا فیصلہ فرمایا جو20دن میں مکمل ہوئی۔ اس کام میں جملہ مسلمانوں کے ساتھ آپ ؐ نے بھی بنفس نفیس شرکت فرمائی، حالانکہ اُن دنوں مدینہ میں غلے کی کمی کے باعث اکثر لوگوں کو کھانا نہیں ملتا تھا اور وہ اپنے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔ خنددق کھودتے ہوئے صحابہ کرام ؓ کی ایک جاعت کو سخت دشواری پیش آئی، جب اُن کے راستے میں ایک سخت چٹان آ گئی جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہ آتی تھی، حضور اکرمﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ ؐ اس مقام پر تشریف لائے اور کدال سے ایک زور دار ضرب لگائی، پتھر میں چنگاریں نکلیں۔ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا، مجھے یمن کی کنجیاں دے دی گئی ہیں۔ دوسری بار ضرب لگائی تو پتھر میں سے پھر جنگاریاں نکلیں۔ آپ ؐ نے فرمایا مجھے شام کی کنجیاں بھی عطا کی گئی ہیں اور پھر تیسری ضرب پر چٹان پاش پاش ہو گئی۔ مسلمانوں نے نعرہئ تکبیر بلند کیا۔ بعض منافقین نے یہ بات کہی، کہ خندق کھود کر اور محصور ہو کر تو اپنا دفاع کر رہے ہیں۔ یہ کیسے ہو گا کہ شام و یمن ہمارے قبضے میں آ جائیں؟ لیکن جلد ہی آپ ؐ یہ پیش گوئیاں پوری ہو گئیں اور شام و یمن کے علاقے اسلامی سلطنت کی حد ود میں آ گئے۔ ایک غزوہ سے واپسی پر حضور اکرمﷺ نے ایک جگہ قیام کیا۔ کھانا پکانے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ صحابہ کرام ؓ نے تمام کام آپس میں بانٹ لئے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ مَیں جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کر کے لائں گا۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپ آرام فرمائیں ہم لکڑیاں لے آئیں گے۔ آپ ؐ نے فرمایا نہیں مجھے اپنے حصے کا کام کرنے دو، چنانچہ آپ ؐ نے لکڑیاں جمع کرنے اور انہیں اُٹھا کر لانے کا کام کیا۔ حضور اکرمﷺ نے زندگی بھر شدید محنت و مشقت کی، لیکن اس کا مقصد دُنیاوی زندگی کے لئے آسائشیں جمع کرنا ہر گز نہ تھا، بلکہ اس مشن کی تکمیل تھی جس کے لئے آپ ؐ کو دُنیا میں بھیجا گیا۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1