اور فیصلہ نہ سنایا جا سکا

اور فیصلہ نہ سنایا جا سکا

  



اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جس کی سربراہی چیف جسٹس اطہر من اللہ کر رہے تھے،سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے الزام میں قائم خصوصی عدالت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ نہ سنائے۔ مذکورہ عدالت نے اپنی کارروائی مکمل کرتے ہوئے 19 نومبر کو اعلان کیا تھا کہ وہ28 نومبر کو فیصلہ سنا دے گی۔یہ خصوصی عدالت مختلف ہائی کورٹس کے تین ججوں پر مشتمل ہے، جس کی سربراہی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کر رہے ہیں۔اس خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔کوئی بھی ہائی کورٹ اس(اپیل) کی سماعت کی مجاز نہیں ہے۔خصوصی عدالت نے جنرل(ر) پرویز مشرف کی عدالت سے مسلسل غیر حاضری اور بیان ریکارڈ نہ کرانے کی وجہ سے انہیں اشتہاری قرار دیا تھا، اور ان کے وکیل کو بھی اپنے موکل کی پیروی سے روک دیا تھا۔اِس سے پہلے24اکتوبر کو تحریک انصاف حکومت کی وزارتِ داخلہ نے پراسیکیوشن ٹیم کو تحلیل کر دیا تھا۔وزارتِ داخلہ ہی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں خصوصی عدالت کے حکم کے خلاف درخواست دائر کی تھی، اور استدعا کی گئی تھی کہ اسے فیصلہ سنانے سے روک دیا جائے۔جنرل(ر) پرویز مشرف کے وکیل نے بھی اسی عدالت میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے اپنا حق ِ وکالت بحال کرنے کی استدعا کی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فریقین کو سن کر فیصلہ دے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارتِ داخلہ نے جو جنرل پرویز مشرف کے خلاف شکایت کنندہ تھی،اور اس شکایت ہی کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا تھا،اب عملاً وہ موقف اختیار کر لیا، جو صفائی کے ساتھ مخصوص تھا۔ خصوصی عدالت کی تشکیل اور اس کی سماعتوں پر ایسے اعتراض عائد کیے جن سے مقدمے کی ساخت ہی کمزور ہو جائے۔وزیر قانون اور وزیر داخلہ دونوں جنرل پرویز مشرف کے حلقہ ئ قربت سے تعلق رکھتے ہیں۔اول الذکر تو زیر بحث مقدمے ہی میں ان کے وکیل ِ صفائی تھے،اور ثانی الذکر ان کے دور میں انتہائی اہم مناصب پر فائز رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے، لیکن استغاثہ جب صفائی کی ذمہ داری بھی ادا کرتا ہوا نظر آئے تو پھر اپیل کون کرے گا۔یہ واضح نہیں ہے۔ممکن ہے اس مقدمے کا کوئی ابتدائی درخواست گذار یا کسی بار ایسوسی ایشن کا کوئی عہدیدار یہ اقدام کر گذرے۔ فی الحال کئی مبصرین کی رائے ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ ٹھپ ہو گیا ہے۔ اگر اسے دوبارہ الف، ب سے شروع کرنے کی کوشش کی گئی تو شاید یہ ”ی“ تک کبھی نہ پہنچ پائے۔یہ مقدمہ مسلم لیگ(ن) کے دورِ حکومت کا ایک بڑا اقدام تھا، 2013ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد(سابق) وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے اس کے اندراج کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت قائم کی گئی تھی، جس میں مختلف اعلیٰ عدالتوں کے تین جج شامل تھے۔ مختلف وجوہات کی بنا پر اس عدالت کے چار سربراہان تبدیل ہو چکے ہیں، لیکن معاملہ اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ پایا۔ ملزم جنرل پرویز مشرف صرف ایک بار عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ان پر فردِ جرم عائد کی گئی۔ مارچ2016ء میں وہ طبی وجوہ کی بنا پر بیرون ملک چلے گئے۔ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کر دیا گیا تھا۔ وہ دن جائے اور آج کا آئے انہوں نے واپسی کا سفر اختیار نہیں کیا۔ان کے وکیل وعدے کرتے رہے، ان کی سیکیورٹی کے نام پر تقاضے کرتے رہے، لیکن ملزم نے اپنا بیان ”سکائپ“ پر ریکارڈ کرانے کی حامی بھری نہ خود عدالت میں آنے کا نام لیا۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دستور شکنی (جسے دستورِ پاکستان نے انتہائی غداری قرار دیا ہے) کا مقدمہ چل رہا ہے، اور وہ بھی2007ء میں کئے گئے اقدام پرکہ اس سے پہلے دستور کو جتنی بار سبو تاژ کیا گیا،اور حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی راج قائم کیاگیا،عدالتوں نے اس پرمہر توثیق ثبت کر دی یا پارلیمینٹ نے اسے ”معاف“ کر دیا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کا1999ء کا اقدام محفوظ قرار پا چکے ہیں۔ان کی وجہ سے کوئی کارروائی ممکن ہوئی نہ اب ہو سکتی ہے۔ جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کو سپریم کورٹ نے بالاتر از دستور کہتے ہوئے انہیں ”غاصب“ قرار دیا تھا، اُس وقت یحییٰ خان کا اقتدار ختم ہو چکا تھا، لیکن وہ بقید حیات تھے۔1973ء کے دستور کے نفاذ کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے ان کے خلاف کسی کاروائی کی ضرورت محسوس نہ کی، دستور شکنی کی سزا دلوانے کے لیے مقدمہ چونکہ وفاقی حکومت ہی درج کرا سکتی ہے، اس لیے جنرل یحییٰ کو کٹہرے میں نہ لایا جا سکا۔ بھٹو مرحوم نے اسے مناسب نہیں سمجھا۔جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر1999ء میں نواز شریف حکومت کا خاتمہ کر کے اقتدار سنبھالا، تو سپریم کورٹ کے ججوں کو نیا حلف دلوانے کی کوشش کی۔ چیف جسٹس اور ان کے متعدد رفقا کے انکار پر انہیں سبکدوش کر دیا گیا۔نیا حلف اٹھانے والے ججوں کی عدالت نے 1999ء کے اقدام کو جواز عطا کر دیا، بعدازاں منتخب ہونے والی پارلیمینٹ نے بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔لیکن جنرل پرویز مشرف پہلے آرمی چیف تھے،جنہوں نے دوسری بار دستور سے کھلواڑ کیا،انہیں دوسری بار صدارت کے منصب کے حصول میں عدلیہ رکاوٹ بنتی نظر آ رہی تھی،اس لیے انہوں نے ایک بار پھر دستور معطل کر کے ججوں کے خلاف کارروائی کر ڈالی۔اس اقدام پر نہ سپریم کورٹ کی مہر لگ پائی،اور نہ پارلیمینٹ نے اس کی ”معافی“دی،چنانچہ وہ پھنس گئے۔ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا،جو ابھی تک فیصلے پر نہیں پہنچ سکا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تازہ حکم نامے کے نتیجے میں کتنی تاخیر ہوئی، کیسے معاملہ آگے بڑھے گا یا پیچھے ہٹے گا، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ قانون کو طاقت بنانے کی خواہش رکھنے والے اہل ِ وطن مستقبل کی طرف آنکھیں ہی لگا سکتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ