پی پی کا یوم تاسیس اور مستقبل!

پی پی کا یوم تاسیس اور مستقبل!
پی پی کا یوم تاسیس اور مستقبل!

  



پاکستان پیپلزپارٹی کے قیام کو پچاس سال ہو گئے اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بار یوم تاسیس کو مظلوم کشمیریوں کے نام کیا ہے اور پرسوں اس حوالے سے ایک بڑی تقریب مظفرآباد میں ہو گی۔ اس کے لئے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان سے بھی عہدیدار اور کارکن شرکت کریں گے۔ بلاول بھٹو کا خطاب بھی خصوصی ہو گا۔

یوں تو پاکستان پیپلزپارٹی پر کئی دور آئے اور گئے لیکن ان دنوں یہ جماعت کچھ زیادہ ہی مشکل میں ہے۔ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے علاوہ خورشید شاہ جیسے اہم رہنما بھی جیل میں ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ آج کل یوں بھی پارٹی کے حلقوں میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا موازنہ کیا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف علاج کے لئے لندن جا چکے ہیں اور یہاں آصف علی زرداری کراچی منتقل نہیں ہو سکے ہر روز ان کے حوالے سے کرپشن کی کہانی سامنے آتی یا دہرائی جاتی ہے۔ سندھ میں یہ پارٹی برسراقتدار ہے لیکن وہاں بھی چین نہیں کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے سر پر بھی نیب کی تلوار لٹکی ہوئی ہے جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس سے ان کی بنتی نہیں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم حلیف جماعتیں ہیں، حال ہی میں ان حضرات نے بیٹھ کر اپنے مسائل طے کر لئے ہیں اور وفاق کی طرف سے فنڈز براہ راست کراچی کو دے کر سندھ حکومت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔یہ یوم تاسیس انہی حالات کی وجہ سے اہمیت اختیار کر گیا کہ پیپلزپارٹی اپنی بقاء کی لڑائی بھی لڑ رہی ہے۔2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں یوں بھی نمائندگی کے حوالے سے سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

جہاں تک پیپلزپارٹی کے حلقوں اور اس کے ہمدردوں کا تعلق ہے تو وہ سب بھی پریشان ہیں کہ جو توقعات بلاول بھٹو سے وابستہ کی گئی تھیں وہ بھی پوری نہیں ہو رہیں اور بلاول کی اٹھان اپنی جگہ رہ گئی۔نیب کے مقدمات کی وجہ سے جو گھیرا تنگ ہوا وہ مجبور کرتا ہے کہ بلاول بھی اپنے حال تک رہیں۔ اگرچہ بلاول کے خیالات بڑے ترقی پسند اور لبرل ہیں اور ان کی آمد سے پارٹی کے لبرل اور ترقی پسند حضرات بھی مطمئن تھے کہ بلاول ایک ایسا لیڈر ثابت ہو گا جو پارٹی میں موجود تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلے گا۔

یوم تاسیس کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو نظر آتا ہے کہ اس جماعت کے خود اپنے حوالوں سے بھی کئی اہم موڑ آئے ہیں اور عروج و زوال سے بھی گزری ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جب ایوبی کابینہ سے باہر نکل کر سیاسی میدان میں آئے تو ان کو بہت پذیرائی ملی اور یہ ان کی کشمیر کے حوالے سے ایک زبردست تقریر کے باعث بھی تھی کہ انہوں نے ایک ہزار سال تک لڑنے کا نعرہ لگایا تھا، ذوالفقار علی بھٹو کو ابتداء ہی سے جو حضرات ملے اور ساتھ آئے وہ ترقی پسند تھے۔ طلباء میں امان اللہ خان، احمد رضا قصوری، راشد بٹ (مرحوم) جیسے پرجوش نوجوان تھے کہ وکلاء نے بھی بہت پذیرائی کی۔ راشد بٹ اور ان کے سب دوستوں نے بھٹو کو مال روڈ کے ریسٹورنٹ میں بلایا تو منصور احمد ملک ایڈووکیٹ نے ان کو ضلع بار روم میں آنے کی دعوت دی اور انہوں نے یہاں بھی خطاب کیا۔ پھر جے اے رحیم اور معراج محمد خان بھی پہلے آنے والوں میں تھے چنانچہ جو پہلا منشور تیار ہوا اس کے چار بنیادی نکات میں سوشلزم ہماری معیشت ہے کا نعرہ بھی تھا اور اس نے محروم طبقات کو بہت متاثر کیا تھا، ان میں مزدور، کسان اور ورکنگ کلاس کے لوگ شامل اور یہی حضرات پیپلپزپارٹی میں ریڑھ کی ہڈی تھے، جنہوں نے بھٹو کو مغربی پاکستان سے اکثریت دلا دی تھی اور اسی کی بنیاد پر وہ موجودہ پاکستان میں برسراقتدار آئے تھے، ان کے اقتدار میں آتے آتے اگرچہ سوشلزم اسلامی سوشلزم اورپھر اسلامی مساوات بن گیا تھا، اس کے باوجود ان محروم طبقات نے پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا جن کو بھٹو نے زبان دی تھی اور پھر بھٹو بھی اپنے اصولوں ہی کی خاطر تختہ دار پر جھول گئے تھے۔

عوام نے بھٹو کی جان کے صدقے ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کو ایک نہیں دو مرتبہ اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا لیکن محاذ آرائی نے پورے نظام ہی کو بدقسمت بنادیا تھا، حتیٰ کہ ایک طرف محترمہ کے بھائی مرتضیٰ بھٹو ان کے اپنے دور میں پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے تو دوسرے بھائی شاہ نواز بھٹو پیرس میں پراسرار موت کا شکار ہو گئے۔ آج تک نہ تو مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا کوئی نتیجہ سامنے آیا اور نہ ہی شاہ نواز بھٹو کی موت کے راز پر سے پردہ اٹھا اور پھر وہ وقت بھی آیا جب خود محترمہ بے نظیر بھٹو نے 2001ء میں جلاوطنی اختیار کرلی۔ آصف علی زرداری بھی اس دور میں باہر رہے، محترمہ کا قیام دوبئی میں تھا اور تینوں بچوں نے ابتدائی تعلیم وہاں سے حاصل کی اور پھر لندن جا کر سند حاصل کی۔

خود محترمہ بے نظیر بھٹو بھی سازش کا شکار ہو کر اللہ کو پیاری ہوئیں اور 27دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ راولپنڈی کی عقبی سڑک پر ان کو شہید کیا گیا، اس سے پہلے اکتوبر میں وہ اس خودکش حملے میں محفوظ رہی تھیں جو ان کی کراچی آمد پر ہوا تھا۔یہ مختصر ہے۔ تفصیل سے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اس وقت اسی پر اکتفا کرنا ہے کہ آصف علی زرداری کی ”پاکستان کھپے“ اور بعدازاں مفاہمت سے پانچ سالہ دور اقتدار بھی کام نہ آیا اور اب کہا جاتا ہے کہ پس پردہ قوتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو ہیرو سے زیرو بنا کر موجودہ حکمرانوں کو کامیاب دیکھنا چاہتی ہیں لیکن جو کچھ آج ان سے ہو رہا ہے اس سے ساری امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں اور جمہوریت ہی کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔ان حالات میں یوم تاسیس کی یہ تقریب بہت اہم ہے اور اس کی کارروائی سے اندازہ ہو گا کہ پیپلزپارٹی کا مستقبل میں کیا منصوبہ ہے اور اسے کتنی پذیرائی ملے گی۔

مزید : رائے /کالم