قوم کا مستقبل خطرے میں!

قوم کا مستقبل خطرے میں!
قوم کا مستقبل خطرے میں!

  



معاشرے میں ہیروئن کا نشہ وبا کی طرح پھیل رہا ہے۔ نشہ پھیلنے کی کئی وجوہات ہیں۔ کچھ لوگ اپنی زندگی کی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنے کے لئے نشے کا رخ کرتے ہیں،کچھ صرف تفریح کے طور پر اسے شروع کرتے ہیں اور اس دلدل میں داخل ہونے کے بعد اس میں پھنستے ہی چلے جاتے ہیں،پھر ان کے لئے چھٹکارا حاصل کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔نشہ چاہے ڈپریشن کی وجہ سے کیا جائے یا تفریح کے لئے کیا جائے، دونوں صورتوں میں یہ تباہی کا باعث بنتا ہے اور نہ صرف نشئی کی ذاتی زندگی پر اثرانداز ہوکر اسے تباہ کرتا ہے،بلکہ اس کے خاندان کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ وقت حاضرہ میں ایک بہت خوفناک صورتِ حال یہ پیدا ہوچکی ہے کہ نشہ بیچنے والوں نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کو اس بھٹی کے ایندھن کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔مختلف تحقیقات کے مطابق پاکستان کی یونیورسٹیوں کے تقریباً 45فیصد طلبہ و طالبات مختلف منشیات، جن میں ہیروئن، چرس اور آئس بھی شامل ہے،ان کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں اور اپنے اور پاکستان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں،جو ایک نہایت توجہ طلب بات ہے، مگر یہ جان لیا جائے کہ پاکستان کے نو جوانوں کے مستقبل پر کوئی بھی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہی نوجوان پاکستان کے روشن مستقبل کے ضامن ہیں اور پاکستان کا قیمتی سرمایا ہیں …… اگر سگریٹ کی بات کی جائے تو ہمارے عوام اس کے خطرات سے آگاہ نہیں، اسی وجہ سے آپ کو سکولوں اور کالجوں کے اکثر بچے اس کو فیشن کے طور پر استعمال کرتے ملیں گے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم جس معاشرے میں گزر بسر کر رہے ہیں،اس میں سگریٹ کو نشہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ درحقیقت برائی تب تک ہی برائی سمجھی جاتی ہے، جب اسے معاشرے میں بُرا سمجھا جاتاہے۔

سگریٹ ہمارے جسم کے تمام اعضا کے لئے نہایت خطرناک چیز ہے،مگر افسوس…… اور یہ نشہ سگریٹ تک ہی محدود نہیں، سگریٹ،چرس اور ہیروئن جیسی خطرناک منشیات تک پہنچنے میں پہلے زینے کا کردار ادا کرتا ہے،اس طرح نشئی کی زندگی سگریٹ سے چرس،چرس سے ہیروئن اور آئس تک جا پہنچتی ہے،آئس کے بعد مزید آگے تو کوئی خوش نصیب ہی جاتے ہیں۔اگر کسی نشئی کی ذاتی زندگی کا مشاہدہ کیا جائے تو اس کی زندگی کا منشور صرف ایک ہی ہوتا ہے،یعنی نشے تک رسائی حاصل کرنا اور اس کو اپنی تسکین کے لئے استعمال کرنا۔ اس کو حاصل کرنے کے لئے وہ کسی بھی حد کو پار کر سکتا ہے، چاہے اس کو اس کے لئے بے بہا پیسہ لٹانا پڑے یا اپنے خاندان کو ہی کیوں نہ چھوڑنا پڑے،کبھی کبھار تو گھر کا سازوسامان تک بیچنے کی نوبت آجاتی ہے۔اس غرض سے وہ اپنی زندگی کو تو تباہ کرتا ہی ہے، مگر ساتھ ہی اپنے اہل ِ خانہ کی خواہشات، جذبات اور احساسات کو بھی موت کے گھاٹ اُتار دیتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 80 لاکھ لوگ نشہ استعمال کرتے ہیں، جن میں سے40 لاکھ سے زائد لوگ ہمیشہ کے لئے اس میں پھنس چکے ہیں۔”دی نیوز“ کی ایک رپورٹ کے مطابق نشہ ہر روز 700 لوگوں کی موت کا باعث بنتا ہے،جو دہشت گردی اور مختلف حادثات میں جانوں کے ضیاع سے کہیں زیادہ ہے۔ایک دانشور سے جب نشے کی تعریف پوچھی گئی تو انہوں نے اسے کچھ یوں بیان کیا کہ ”نشہ وقتی سکون اور دیرپا تکلیف کا نام ہے“ ……جو بالکل درست بات ہے۔ المختصر منشیات وہ حسین سراب ہے، جس کے تعاقب میں ایک نوجوان جب چل پڑتا ہے تو اسے بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کا ہر قدم اس کو موت کے قریب کرتا جارہا ہے۔اس سے نکلنا کچھ ایسا ہی ہے، جیسے ہاتھ سے لگائی ہوئی گرہ کو دانتوں سے کھولنا پڑے۔ یہ بظاہر مشکل تو ہے، مگر ناممکن بھی نہیں۔

اب بات یہ ہے کہ اس وبا سے بچا اور نکلا کیسے جائے؟…… سب سے پہلی ذمہ داری والدین کی ہے، ان کو چاہئے کہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں،کیونکہ اکثر لوگ نوجوانی میں ہی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ صرف اپنے بچے کو ہی نہیں، بلکہ اس کے حلقہ احباب کو بھی پرکھا جائے کہ ان میں سے کوئی اس وبا کا شکار تو نہیں۔کہا جاتا ہے کہ ”تخم تاثیر صحبت کا اثر“ یعنی انسان کی صحبت جیسی ہوتی ہے اس کا کردار بھی اسی طرح کا ہوجاتا ہے،یہ جانچ پڑتال اس کے بچاؤ کا سب سے پہلا قدم بن سکتی ہے،پھر دوسری ذمہ داری حکومت کی ہے کہ اس کے نقصانات سے معاشرے کو آگاہ کیا جائے۔ وہ افراد جو اس کو بیچنے میں کسی طرح سے بھی ملوث ہیں، ان کو نشان عبرت بنایا جائے، یہ تمام تدابیر اپنی جگہ، مگر یہ بات بھی انتہائی توجہ طلب ہے کہ دُنیا کی 75فیصد ہیروئن افغانستان پیدا کرتا ہے اور پاکستان کا ہمسایہ ملک ہونے کی وجہ سے اس کا 40 فیصد تک پاکستان میں ناجائز طریقوں سے لاکر بیچا جارہا ہے، اِس لئے میری حکومت سے گزارش ہے کہ سرحد پر بھی سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

اندرون پاکستان کی بات کی جائے تو آپ کو نشہ ہر شہر کے ہر محلے اور گلی میں آسانی سے بکتا ہوا نظر آئے گا۔یہ بھی ممکن نہیں کہ پولیس، جس کی اجازت کے بغیر ان کے علاقے میں کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، کی پشت پناہی کے بغیر یہ مکروہ دھندہ اپنے عروج پر ہو،اِس لئے حکومت اور پولیس افسران کو چاہئے کہ پولیس کی ان کالی بھیڑوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے تاکہ باقیوں کو بھی اس سے عبرت حاصل ہو۔تیسری ذمہ داری اساتذہ کرام اور علماء حضرات کی ہے کہ وہ عوام میں اس کے خطرات کے بارے میں آگاہی پھیلائیں۔ آخر میں عمران خان سے گزارش ہے کہ جس یوتھ کے ووٹ کی بنیاد پر انہوں نے تخت سنبھالا ہے، آج اسی یوتھ کو ان کی ضرورت ہے، اِس لئے ان کو چاہئے کہ بحالی ئ صحت کے مراکز بنائے جائیں، جن سے نشے میں مبتلا لوگ رجوع کر سکیں اور اس سے چھٹکارا حاصل کر سکیں اور جو پرائیویٹ لوگ ان کو چلا رہے ہیں، ان کی ہر طریقے سے سپورٹ کی جائے تاکہ جو فراد نشے کی اس لعنت میں مبتلا ہو چکے ہیں، ان کو اس سے نکالا جا سکے اور معاشرے کو مضبوط بنایا جا سکے،کیونکہ مضبوط معاشرہ ہی پاکستان کے مضبوط مستقبل کا ضامن ہے۔

مزید : رائے /کالم