کرپشن اور سیاست دان

کرپشن اور سیاست دان
کرپشن اور سیاست دان

  



پاکستان میں جب بھی سیاست دانوں کی کرپشن اور بد عنوانی کی بات کی جاتی ہے تو اسے جمہوری نظام کو خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک منطق یہ دی جاتی ہے کہ سیاست دانوں کی کرپشن کے سوالات وہ طبقہ اٹھاتا ہے،جو ملک میں جمہوریت کے مقابلے میں غیر جمہوری قوتوں کا حامی ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں جب فوجی حکمرانوں کے ادوار آئے تو انہوں نے بھی سیاستدانوں کی کرپشن سمیت بد عنوانی کے معاملے کو فوجی مداخلت کا جواز بنا کرپیش کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست دانوں پر کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات عائد کرنا آسان ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر سیاست اور کرپشن کا معاملہ آپس میں اس قدر گٹھ جوڑ اختیار کر گیا ہے کہ اس سے یا تو سیاست کو طاقت دی جا سکتی ہے یا اس کے مقابلے میں کرپشن اور بد عنوانی پر مبنی سیاست کو تقویت مل سکتی ہے۔ سیاست میں وہ طبقہ، جو کرپشن اور بد عنوانی کا شکار ہے،وہ عملی طور پر جمہوریت کو بطور سیاسی ہتھیار اپنے حق میں استعمال کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب بھی کرپشن اور بد عنوانی کو بنیاد بنا کر کوئی سیاست دانوں کا احتساب کرتا ہے تو وہ سیاسی انتظامی کارروائی سمجھا جاتا ہے۔

ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاست دانوں نے اس حد تک کرپشن اور بد عنوانی نہیں کی،جس قدر میڈیا سمیت مختلف فریقین نے سیاسی قوتوں کو بدنام کیا ہے۔ حالانکہ اس کرپشن میں میڈیا کے چند مہرے بھی شامل ہوتے ہیں،لیکن وہ وقت کی نزاکت دیکھتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا مجرم محض سیاست دان یا سیاسی طبقہ نہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ سیاسی طبقہ احتساب اور انصاف کے عمل سے باہر ہے،بلکہ حقیقی معنوں میں سیاسی جماعتوں سمیت ہر طبقہ،ملٹری و سول بیورو کریسی سب ہی نے کرپشن کی گنگا جمنا میں اپنے ہاتھ دھوئے ہیں۔ پاکستان کا بالا دست طبقہ اصولی طور پر اپنے آپ کو احتسابی عمل سے باہر سمجھتا ہے، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اس ملک میں مختلف فریقین یا اداروں کا گٹھ جوڑ ہے، جس نے کرپشن کے معاملے میں سیاسی سمجھوتہ کر کے ملک کے وسائل کو بے دریغ لوٹا ہے۔ سیاست دانوں پر کرپشن اور بدعنوانی کا الزام باقی فریقین کے معاملے میں زیادہ سنگین ہے،کیونکہ اگر سیاسی اور جمہوری قیادت اقتدار میں آ کر اپنے اندر شفافیت پر مبنی نظام قائم نہیں کرے گی تو اس کی ذمہ داری بھی ان کو قبول کرنی چاہئے۔

جہاں تک سول اور ملٹری بیورو کریسی کی کرپشن اور بد عنوانی کا معاملہ ہے تو اس کو بھی ٹھیک کرنا اور ایک درست سمت کا تعین کرنا سیاسی اور جمہوری حکومت کا مینڈیٹ ہوتا ہے۔ لوگوں کو سیاسی حکومتوں سے زیادہ توقعات ہوتی ہیں۔ اول تو وہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اور شفافیت اور تبدیلی کے بڑے بڑے نعروں کی بنیاد پر اقتدار کا حصہ بنتی ہیں۔ اگر اس کے برعکس اقتدار میں شامل افراد اداروں کو سیاسی استحصال کا نشانہ بنا کر جب خود اداروں کو برباد کریں گے یا ان کو اپنے ذاتی مفاد میں استعمال کریں گے تو پھر دوسرے طبقات (عوام) کی اصلاح کون کرے گا؟ اصولی طور پر ہرجمہوری حکومت کو کرپشن اور بد عنوانی پر قابو پانے کے لئے احتساب کمیشن، پبلک اکاؤنٹ کمیٹی، نیب، ایف آئی اے یا کرپشن کے متعلقہ محکمہ جات کو زیادہ شفاف اور خود مختار بنانا چاہئے، اگر واقعی ہماری جمہوری حکومتیں اور حزب اختلاف کی توجہ اداروں کو مضبوط بنانے کی طرف نہ ہوئی تو لوگ کرپشن اور بد عنوانی کے خاتمے کے لئے سیاسی قیادتوں سے مایوس ہو کر پس پردہ قوتوں کی طرف دیکھیں گے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا فوجی تجربہ بھی کرپشن اور بد عنوانی کے خاتمے میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

فوجی قیادت نے کئی بار سیاسی حکومتوں کو کرپشن اور بد عنوانی کے نام پر برطرف کر کے سیاسی نظام کی بساط لپیٹی، لیکن بہت جلد یہ فوجی قیادت بھی اقتدار کے حصول یا لمبی مدت کے لئے اپنی حمائتی قیادتوں سے گٹھ جوڑ کر کے کرپشن اور بد عنونی پر سیاسی سمجھوتہ کرتی رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ماضی میں فوجی حکمرانی کا تجربہ بھی شفاف نہیں رہا۔اس وقت بھی ملک میں جو کرپشن، بدعنوانی، مہنگائی،لوٹ مار، اقربا پروری کی بحث قومی سیاست پر غالب ہے اور حکومت وقت کو لوٹ مار کرنے والوں کو پکڑنے میں بے شمار رکاوٹوں کا سامنا ہے، اس سے بھی وہ سول اور ملٹری تعلقات میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ گزشتہ برسوں میں سیاسی حکومتوں کا ریکارڈ کرپشن اور بد عنوانی کے خاتمے کے لئے کوئی اچھا نہیں، بلکہ یہ شواہد موجود ہیں کہ سیاسی حکومتوں میں شامل افراد اپنے سیاسی و انتظامی اختیارات کی بنیاد پر خود بھی کرپشن کرتے رہے اور دوسروں کو بھی موقع فراہم کر کے کرپشن اور بد عنوانی کا سیاسی جواز پیش کرتے رہے ہیں۔ جو کرپشن اور بد عنوانی کی کہانیاں اب تک ملک میں سامنے آئی ہیں، وہ عملاً جمہوری نظام کے لئے خود بڑی رکاوٹ ہیں۔

کرپشن اور بدعنوانی ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کو قومی ترجیحات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے …… مگر یہ تناظر مولانا صاحب والا نہ ہو، ایک مشکل یہ ہے کہ جب بھی کرپشن اور بد عنوانی کی بات کی جاتی ہے تو صرف سیاست دانوں کی، باقی طبقات اور لوگ کیا کم ہیں، یعنی ہماری جمہوری سیاست کے دعوے دار کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا اپنے اندر ایک سیاسی جواز رکھتے ہیں۔ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاست دانوں کا احتساب ووٹوں کے ذریعے ہو جاتا ہے، جبکہ باقی طبقوں کا نہیں ہونا، اگر باقی لوگوں کا احتساب نہیں ہو رہا تو اس کی ذمہ داری براہ راست سیاسی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ جہاں تک ووٹ بینک کے ذریعے احتساب کی بات ہے تو کیا یہ منطق جائز ہے کہ آپ پہلے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹیں اور الیکشن پر خرچ کریں، جیت جائیں تو موج، ورنہ لوٹی ہوئی دولت پر عیش کریں۔ ووٹ کے علاوہ دوسرا عمل قانون کی حکمرانی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ایک احتساب ووٹر کرتا ہے دوسرا قانون اور انصاف کا نظام تا کہ کوئی کرپشن اور بدعنوانی کے معاملات میں بچ نہ سکے،جو لوگ ملک میں جمہوریت کے ہتھیار کو جواز بنا کر کرپشن پر سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں۔

ان میں دو طبقے شامل ہیں۔ اول اس کو معمولی بات سمجھتے ہیں کہ کرپشن بڑا مسئلہ نہیں اور ہمیں جمہوریت کو بچانے کے لئے کرپشن کی کڑوی گولی کھا لینی چاہئے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے، جو خود سیاسی حکومتوں کی کرپشن پر پردہ ڈال کر خود بھی کرپشن اور بد عنوانی کے نظام کا حصہ بن کر خود بھی ذاتی مفادات کے معاملات کو طاقت فراہم کرتا ہے۔کیا کرپٹ سیاست دانوں سے نہیں پوچھا جا سکتا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ کرپشن اور بد عنوانی کے خاتمے کے اداروں کو اپنے تابع کر کے خود شفاف نظام کا بیڑہ کرتے ہیں، عدالتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانا چاہتے ہیں، کیا پاکستان عوام ان چند خود غرض اور غلط بیانی کرنے اور لوٹ مار کرنے والوں کے ساتھیوں سے پوچھنے کا حق نہیں رکھتے جو باقی پاکستان عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے انصاف اور فیصلے مختلف ہوں۔ سیاست دانوں پر تنقید اسی وجہ سے ہوتی ہے، جو جمہوریت کے نام پر بہت زور دیتے ہیں، وہ ملک میں کرپشن اور بد عنوانی کو ختم کرنے پر زور کیوں نہیں لگاتے۔ یہ لوگ ملک اور معاشرے کا کیوں نہیں سوچتے؟ یہ افراد اور لیڈروں کو ترجیح دے کر ملک اور معاشرے سے دشمنی کر رہے ہیں۔ یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں صرف اپنی لوٹ مار چھپانے کے لئے۔

مزید : رائے /کالم