اس کا نام بھی شہزاد ہی ہے

اس کا نام بھی شہزاد ہی ہے
اس کا نام بھی شہزاد ہی ہے

  



کتاب زیست کا ایک ورق۔”ابو ابو! وہ۔۔۔وہ! وہ ناں! آنٹیاں آپ کو اندر بلا رہی ہیں“۔ میں ذرا دیر کے لئے الجھن کا شکار ہوا۔ کتابیں، کاغذ قلم ایک طرف رکھے اور برخوردار عبدالرحمن کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ گمان تھا کہ اسے کوئی غلط فہمی لاحق ہوئی ہے؛ ”کون سی آنٹیاں بیٹا؟“ مجھے تعجب ہو رہا تھا کہ شاید۔۔۔؟ ”ابو جی! وہی درس والی آنٹیاں، وہی جو اندر درس میں بیٹھی ہیں۔“ 26 فروری 1997ء کی خاصی خُنک شام تھی۔نماز مغرب کے بعد میں اپنے کمرے میں کچھ کام کرنے لگ گیا۔ دوسرے کمرے میں محلے کی خواتین کا اجتماع شروع ہوا ہی تھا کہ برخوردار کے توسط سے بلاوا آگیا، جوخاصے اچھنبے کی بات تھی۔ میں حیرت زدہ کہ پردہ دار خواتین مجھے اندر کیوں بلا رہی ہیں، بات کچھ انہونی سی تھی۔ نوسالہ عبدالرحمن اس سے زیادہ متعجب کہ معمولی سی بات ابو کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی۔ اتنے میں اہلیہ نے بآواز بلند پکارا: ”ذرا ادھر آئیے۔“ اب تو حیرت اور بڑھ گئی۔ ”کیا ہے؟ کوئی مسئلہ ہے کیا؟“ ساتھ ہی میں دو چار قدم چل کر ان کے دروازے کے قریب پہنچ گیا۔ آواز کے قرب سے دیگر خواتین کو اندازہ ہو گیا کہ سبھی الجھن کا شکار ہیں۔ ایک دو آوازیں آئیں کہ آپ خود باہر چلی جائیں، اہلیہ باہر آ گئی۔

پتہ چلا ایک سولہ سترہ سالہ لڑکی کپڑوں کی ایک پوٹلی کے ساتھ ہمارے گھر میں داخل ہوئی، ہفتہ وار درس ہو رہا تھا۔ اس لئے اہلیہ نے اسے بھی دیگر خواتین کے ساتھ لا بٹھا یا۔ گم سم، انجان خلاؤں میں گھورتی بچی کچھ نہ بتانے پر مصر۔ مطالبہ ایک ہی کہ مجھے ایک رات بسر کرنے دیں کل میں کہیں چلی جاؤں گی، بس آج کی رات، پلیز آنٹی آج کی رات! گاہے رونے لگ جاتی۔درس تو جاری رکھا گیااور باہر میں اور اہلیہ اس لڑکی پر گفتگو کرنے لگے کہ کیا کیا جائے؟ جان نہ پہچان میں تیرا مہمان۔ دو ایک منٹ کے بعد ہم نے یہی نتیجہ نکالا کہ اسے مسز رشید صاحبہ کے حوالے کر دیا جائے۔ہمارے مکان کے عین سامنے ڈاکٹر رشید اعوان صاحب پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ اس کی اہلیہ، یوں سمجھ لیجئے، ہماری یہ بہن محلے کی غیرسرکاری اور غیرمتنازعہ کونسلر تھیں۔ وہ بھی درس میں تشریف فرما تھیں۔ دونوں خواتین نے دو ایک اور ساتھیوں کو ملا کر ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا اور اس لڑکی کو کمیشن کے حوالے کر دیا۔ محلے کے دیگر مردوں کو علم ہوا تووہ بھی آ کر ہماری تفتیش میں شریک ہو گئے۔ درس ختم ہو گیا، مغرب گزر کر عشاء ہو گئی، عشاء کے بعد شب بھیگنے لگی اورانجان خلاؤں میں گھورتی بچی کچھ نہ بتانے پر مصر۔مسز رشید نے اس کے لب و لہجے اور گفتگو سے اندازہ کر لیا کہ لڑکی انہی کے علاقے ایبٹ آباد کے کہیں گردونواح کی ہے۔ ہمارے محترم بزرگوار حفیظ صاحب (مرحوم) بھی تفتیشی افسر بن کر میدان میں آئے اور یہاں تک کھوج لگا لیا کہ اس کا باپ واہ میں کہیں ملازم ہے۔ ان دنوں اسلام آباد میں تازہ تازہ ویمن پولیس اسٹیشن بنا تھا۔ ڈاکٹر رشید صاحب بولے: ”اجی شہزاد صاحب کس چکر میں آپ پڑ گئے ہیں؟ چلئے اٹھ کر اسے ویمن پولیس کے حوالے کر آتے ہیں۔ قصہ ختم اور کیا؟ جی ہاں!“ حفیظ صاحب مرحوم نے سختی سے اس خیال کی مخالفت کی۔ ”ڈاکٹر صاحب! یہ پولیس کے پاس گئی تو پھر گئی۔“

ان دنوں موبائل فون نہیں ہوا کرتے تھے، دوسرے روایتی فون بڑی کثرت سے ملنے لگے تھے۔ ہمیں بھی مل چکا تھا، میں نے فون لا کر جناب حفیظ صاحب اور ڈاکٹر رشید صاحب کے آگے رکھ دیا۔ دوسرے کمرے میں موجود تین رکنی ”ویمن کمیشن“ سے وقفے وقفے بعد موصولہ معلومات کی روشنی میں ہم تینوں نئے ولولے کے ساتھ فون کرنے لگ جاتے۔ کوئی لگ بھگ رات دس بجے تک ہمارے پاس جمع شدہ معلومات کا خلاصہ یہ تھا کہ دُردانہ(نام بدل دیا گیا ہے) نام کی یہ لڑکی ایبٹ آباد کے گردونواح میں کہیں کی رہنے والی ہے۔ باپ واہ میں کام کرتا ہے، لیکن فی الوقت اس کی تعلیم اور دیگر وجوہ کے باعث لڑکی اپنے ایک بھائی کے پاس ایبٹ آباد میں رہتی ہے۔ دن کو پڑھائی ختم کر کے واپس آتی تو راستے میں بیس بائیس سال کا لڑکا اسے کھڑا ملتا۔ کچھ دن تو اس نے دھڑکتے دل سے اسے نظرانداز کیا۔ پھر جو پگھلنا شروع ہوئی تو وہ پگھلتی ہی چلی گئی۔ مجھے اشتیاق پیدا ہوا کہ ایسا کیوں ہوا۔ نظریں نیچی کرتی، شرماتی، لجاتی اس نوعمر لڑکی کا جواب سنیے اور کوشش کیجئے کہ اپنے زیرکفالت اس عمر کی تمام مخلوق پر نظر رکھیں۔ ”جی وہ مجھے بِلو کہتا تومجھے اچھا لگتا تھا۔“ یہ کہہ کر وہ لاپروائی سے مسکرانے لگی۔ ”تو پھر“؟ میں نے استفسار کیا۔”تو انکل بس میں سن لیتی اور خوش ہو جاتی اورکیا بس۔ اس طرح انکل وہ ناں، کوئی مہینہ گزر گیا۔ پھر اس نے مجھے ”بلورانی“ کہنا شروع کیا۔میں نے انکل وہ ناں! جواب میں مسکرانا شروع کر دیا۔“

ماں فوت ہو چکی تھی۔ باپ دوسرے شہر میں، بھائی دن بھر کام کاج پر اور بھابی کے گھر سے باہر کہیں ذرا دور جانے اور موقع ملنے پر لڑکی نے اسے گھر پر بلانا شروع کر دیا کہ میل ملاقات کے لئے یہی سب سے اچھی جگہ تھی۔ آگے کی باتوں میں کوئی نیاپن نہیں ہے اور نہ میں افسانہ نگاری کر رہا ہوں۔ بس وہی ساتھ جینے مرنے کے وعدے وعید، ظالم سماج سے بغاوت۔ ”تو بی بی اب واپسی کی کوئی صورت“ کمیشن کی ایک معزز رکن نے اس سے استفسار کیا۔ وہ جواب کیا دیتی، پچھلے چار گھنٹوں سے اس کا ایک ہی وظیفہ تھا ”مجھے ایک رات بسر کرنے دیں، کل میں کہیں چلی جاؤں گی“۔ پوٹلی میں دو تین جوڑے کپڑے، میلے اور دھلے دونوں۔ تلاشی لینے پر اس سے ایک سو سترہ روپے برآمد ہوئے جو کمیشن نے فی الحال ”بحق سرکار“ ضبط کر رکھے تھے۔ وقوعے والے دن اس کی بھابی کہیں گئی ہوئی تھی۔ دونوں گھر میں تھے کہ بھابی کسی وجہ سے اچانک واپس آ گئی، بھانڈا پھوٹ گیا۔ منتیں سماجتیں کہ بھائی کو نہ پتہ چلے، وہ تو مجھے جان سے مار دے گا۔ مذاکرات کچھ کامیاب،کچھ ادھورے سے چل ہی رہے تھے کہ بھابی کو غسل خانے میں جانا پڑا۔ ادھر وہ لڑکا بھی باہر ہی کہیں منڈلا رہا تھا۔ موصوفہ نے اشارہ کر کے اسے بلایا۔ دونوں نے لمحاتی ”فیصلہ“ کیا، طے یہ ہوا کہ لڑکی اپنے مذکورہ جمع جتھے کے ساتھ ابھی اسی وقت گھر چھوڑ کر اسلام آباد کہیں رات گزارے۔ اگلے دن صبح 8 بجے کراچی کمپنی ویگن اڈے پر دونوں ملیں گے، یعنی لڑکا اگلے دن آئے گا۔ وہاں سے دونوں ٹرین پر کراچی جا کر اطمینان سے، اور ظالم سماج سے دور زندگی گزاریں گے۔

حفیظ صاحب اور ڈاکٹر رشیدصاحب، کہ دونو ں ایبٹ آباد سے ہیں، مسلسل فون گھما گھما کر اتنے کامیاب ہو گئے کہ ایبٹ آباد اس کے محلے تک پہنچ گئے۔ ظاہربات ہے، ابھی تک محلے میں کسی کو پتہ نہیں تھا۔ لڑکی کا بھائی اسے تلاش کرنے شہر سے باہر آبائی گاؤں گیا ہوا تھا کہ شاید ڈر کے مارے وہاں چلی گئی ہو۔ ہم سب کی قسمت نے یاوری کی، رات گیارہ بجے وہاں لڑکی کے ماموں سے رابطہ ہوا۔ اس نے لڑکی کے بھائی سے بات کرائی۔ اب بھائی کا جواب سنیے، ہم سب تو سن کر سناٹے میں آ گئے۔ ”شہزاد صاحب! صبح لڑکی کو لے کر آپ ایبٹ آباد فلاں جگہ آ جائیں، آپ بالکل فکر نہ کریں۔ آنے جانے کا کرایہ میں دوں گا، گارنٹی شہزاد صاحب،کرایہ ہمارے ذمہ!“ یہ سن کر حفیظ صاحب کی آنکھیں تو شعلے اگلنے لگیں۔ ڈاکٹر رشید صاحب کی مسکراہٹ اور مسکراہٹ میں چھپے پیغام کا ترجمہ بلاغت کے اصولوں پر تو پورا نہیں اترے گا، لیکن ترجمہ اس کے علاوہ بنتا ہی نہیں۔ ”ہور چُوپو! شہزاد صاحب،آپ سے کہا بھی تھا کہ اسے ویمن پولیس کے حوالے کریں، ہور چُوپو!“ دونوں میری طرف مستفسرانہ نظروں سے جواب کے منتظر تھے۔ میں نے فوری فیصلہ کرتے ہوئے لڑکی کے بھائی سے فون پر مخاطب ہو کر کہا: ”برخوردار! کاغذ قلم لے کر میرے گھر کا پتہ تحریر کرو۔ ہم صبح ساڑھے آٹھ بجے تک آپ کا انتظار کریں گے۔ ہم سب نے صبح اپنے اپنے دفتروں میں جانا ہوتا ہے۔ اس کے ایک منٹ بعد ہم لڑکی کو لے کر نکل جائیں گے، آپ نے آنا ہوا تو ویمن پولیس اسٹیشن پر سیدھے وہیں آ جائیں۔“

میری کتاب زیست کا یہ ایک ورق ہے، اسے جو عنوان چاہے دے دیں۔ میں تو اسے والدین کی لاپروائی اور عدم توجہی سے موسوم کروں گا۔ نچلے اور متوسط طبقے کے ایک حصے کا بڑا المیہ یہ ہے کہ اسباب زیست کی تلاش میں ان بے چاروں کو کچھ اور سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ یہ ان طبقات کے ایک معصوم سے حصے کا المیہ ہے۔ ان میں ایسے والدین بھی ہوتے ہیں جن کی اپنی دلچسپیوں کے مرکز و محور ان کے اپنے دوست احباب، سیاسی جماعتیں، تبلیغی جماعت میں مصروفیت،انقلابی سرگرمیاں، معاشرتی اصلاحی کام،بیلوں کی دوڑ، بٹیر بازی، مرغوں کی لڑائی اور اس طرح کے دیگر متعدد مشاغل ہوا کرتے ہیں۔ یہ قصہ میں نے آپ کو اس د ور کا سنایا ہے کہ جب موبائل اور اسمارٹ فون سیٹ نہیں ہوا کرتے تھے۔ آج والدین کے مشاغل اور دلچسپیاں ذرا فرق کے ساتھ جوں کی توں ہیں، لیکن اولاد کو فریق مخالف کے ساتھ رابطے کے ناقابل یقین وسائل ہاتھ آ چکے ہیں۔کوئی دن نہیں جاتا کہ اخبار میں خبر پڑھنے کو نہ ملتی ہو کہ ”وڈیو بنا کر بلیک میل کر رہا ہے۔“ گھر کی چار دیواری ہی وفاقی و صوبائی حکومت ہوتی ہے،یہی پارلیمان ہے،یہی آزاد عدلیہ ہے۔ والدین سیاست، تبلیغ اور دیگر غیرنصابی دلچسپیوں کو ترک کر کے داخل در و دیوار ہو جائیں،گھر کو معاشرتی اصلاح، سیاسی سرگرمیوں اور تبلیغ کا محور بنائیں تو جرائم کا تناسب خاطر خواہ کم ہو سکتا ہے۔

دھمکی کارگر ثابت ہوئی۔اگلی صبح عین آٹھ بجے ایبٹ آباد سے تین رکنی وفد آ گیا۔ باہر صحن کی دھوپ میں ہم سب بیٹھے، ارکان وفد کے شناختی کارڈ دیکھے، تحریری کارروائی ہوئی، ڈاکٹر رشید اور حفیظ صاحب مرحوم کا نام بطور گواہ ڈالا گیا۔ تمام کارروائی سے بے خبر لڑکی کو اندر سے باہر بلا کر ماموں بھائی وغیرہ کا سامنا کرایا گیا تو اس کی آنکھوں میں دہشت دیکھنے والی تھی۔ چہرہ کورے لٹھے کی طرح سفید اور وجود بیدِمجنوں کی طرح لرزاں و ارزاں! دم دلاسا دے کر اہلیہ نے اس کے سرپر ہاتھ پھیرا۔ پند و نصائح کے ڈونگرے برسانا شروع کئے، تاکہ ”رخصتی“ سے قبل مشرقیت کے تمام لوازم پورے ہوں۔ اس سارے عرصے میں میرے ذہن میں ایک ہی سوال پھُدک رہا تھا۔میں نے اہلیہ سے کہا: ”ذرا اسے واپس، ایک لمحے کے لئے واپس، کمرے میں لے چلو۔“ یہ ایمان تو ہم سب کا ہے ہی کہ رب کائنات کا احسن تقویم شاہکار انسان ہے، لیکن میرے سوال پر لڑکی کے جواب سے میرا اپنا تصور حیات پختہ تر ہو گیا۔ کائنات کی اس بہت بڑی مشین کا نہایت پیچیدہ اور ہمہ جہت حصہ، انسان ہی ہے۔”بی بی کراچی کمپنی ویگن اڈے سے میرا گھر کوئی چھ سات گلیاں دور اوپر ہے۔ اتنی دورمیرے ہی گھر میں آپ کے آنے کا سبب کیا ہے؟“ سہمی ہوئی نظریں اور جھک گئیں۔ ”جی وہ! جی انکل دراصل کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کہاں جاؤں، میں چلتی گئی، چلتے چلتے آپ کا گھر آ گیا۔ ”پھر وہ رک گئی۔ ”ہاں ہاں! بولو آگے بولو۔“ اس نے تھوک نگلااور ذرا چہرہ اوپر کیا: ”وہ جی، وہ دراصل۔۔۔“ وہ پھر رک گئی۔ ”ہاں ہاں، بولو“!پھروہ مسکرانے لگی۔”جی! وہ جی، وہ! آپ کا گھر دراصل گلی میں پہلا گھرتھا، اس کی نیم پلیٹ پر نظر پڑی تو میں نے گھنٹی بجا دی اور کیا؟بس“! یہ کہہ کر وہ لاپروائی سے پھر مسکرانے لگی۔ہم دونوں میاں بیوی مزید الجھ گئے۔ ”نیم پلیٹ پر نظر پڑی تو میں نے گھنٹی بجا دی؟ کیا مطلب؟کیا مطلب؟“۔ وہ مسکرائی، لجائی، کسمسائی پھرایک جملہ ادا کر کے کمرے سے باہر نکلی اور خود کو وفد کے حوالے کر دیا۔ ”جی، وہ دراصل! وہ ناں ”اس“ کا نام بھی شہزاد ہی ہے۔“ کائنات کی اس بہت ہی بڑی مشین کا نہایت پیچیدہ پر زہ انسان ہی تو ہے۔

مزید : رائے /کالم