نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ غریب کی پہنچ سے باہر؟

نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ غریب کی پہنچ سے باہر؟
 نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ غریب کی پہنچ سے باہر؟

  



دِل تو کر رہا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے نام پر اٹھائے جانے والے طوفان پر لکھا جائے، سی پیک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر امریکہ کی طرف سے آنے والے شدید ردعمل پر لکھا جائے،دِل کر رہا تھا دشمن ِ دین کی نیندیں حرام کرنے والی پاک فوج کے خلاف تازہ ترین سازشوں کے تانے بانے پر بات کی جائے، دِل تو کر رہا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی شخصیت کو متنازع بنانے والوں کو بے نقاب کیا جائے، دِل تو کر رہا تھا کہ اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا تاثر دینے والے الیکٹرونک میڈیا کی دو عملی اور سوشل میڈیا کی ڈھٹائی پر لکھا جائے،دِل تو کر رہا تھا کہ انڈین میڈیا کی طرف سے پاک فوج کے خلاف جاری مہم جوئی کا تذکرہ کیا جائے،طویل سوچا و بچار کے بعد دودھ میں ڈلوائی گئی مدھانی کے ڈراپ سین کے بعد تمام امور التوا میں ڈال دیئے ہیں۔

نیا پاکستان منصوبہ پر لکھنے کا فیصلہ کیا ہے،موجودہ حکومت کا مقبول عام بیانیہ میں کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ایک کروڑ نوکریاں دینے اور 50لاکھ غریب خاندانوں کو گھروں کی فراہمی کی شکل میں چھت کی فراہمی کا نعرہ ہے مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی پر گامزن صحافی حضرات کے مطابق تو50 لاکھ گھروں کا خواب شرمندہئ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ اس کی وجوہات میں بنیادی وجہ وزیراعظم کی ٹیم کی نااہلی کو قرار دیا جاتا ہے، مَیں ذاتی طور پر یہ چاہتا ہوں نالائق قرار دیئے جانے والے وزرا میں سب برابر نہیں ہیں۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ پر گزشتہ چھ ماہ سے بڑی تندہی سے کام ہو رہا ہے۔ بلوچستان،سندھ، خیبرپختونخوا کی تو خبر نہیں البتہ پنجاب میں اس پر بڑی سنجیدگی سے کام جاری ہے، ہاؤسنگ منصوبے کے لئے جگہ کی تلاش پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کی تجاویز زیر بحث ہیں اس میں پنجاب کے ہاؤسنگ کے وزیر میاں محمود الرشید اور نوجوان رہنما تحریک انصاف عاطف میو دن رات سرگرم ہیں۔

15ماہ میں جتنا کام ہو جانا چاہئے تھا وہ نہیں ہو سکا،اس کی وجوہات تلاش کی جانی چاہئے۔ البتہ آج کے کالم میں جس سنجیدہ مسئلے کو اٹھانا ہے وہ ہے غریبوں کو گھر دینے کا خواب تو بہتربن ہے، عملی طور پر جو منصوبہ سامنے آیا ہے اس سے لگتا ہے حکومت کے سامنے غریبوں کو اپارٹمنٹ کی فراہمی کی آڑ میں کمائی کا پروگرام ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے50لاکھ گھروں کا اعلان تو تھا کہ گھر نہ رکھنے والوں کو چھت کی فراہمی اور گھروں کی فراہمب بھی انتہائی معقول قیمت پر اور آسان ترین اقساط میں۔ملتان میں گھروں کی بجائے اپارٹمنٹ کی فراہمی کے حوالے سے سامنے آنے والی قیمتوں اور اقساط نے کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ملتان میں 250 اپارٹمنٹ کے منصوبے کے لئے اعلان کیا ہے، 25سے30ہزار ماہانہ کمانے والے گھر/ اپارٹمنٹ کے لئے درخواست دے سکتے ہیں، 2مرلہ کا اپارٹمنٹ ہو گا، 2مرلہ پر چار اپارٹمنٹ بنیں گے۔

ایک اپارٹمنٹ کی قیمت29لاکھ25ہزار ہو گی، اپارٹمنٹ کے لئے درخواست دینے والوں کو فارم کے ساتھ10ہزار روپے دینا ہوں گے،6لاکھ ڈاؤن پیمنٹ دینا ہو گی،67ہزار روپے ماہانہ قسط دینا ہو گی،سارا عمل36ماہ کا ہو گا، 36اقساط میں 30لاکھ روپے کی ادائیگی کرنے والوں کو ایڈوانس میں دیئے گئے10ہزار روپے آخری قسط میں ایڈجسٹ ہوں گے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دو مرلہ پر بننے والے چار اپارٹمنٹ سے حکومت کو ایک کروڑ 20لاکھ روپے حاصل ہوں گے۔نئے پیمنٹ شیڈول سے جن سوالات نے جنم لیا ہے ان میں پہلا سوال یہ ہے۔کمر توڑ مہنگائی میں جہاں غریب خاندانوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام بچوں کے لئے مشکل ہو گیا ہے، چھ لاکھ ڈاؤن پیمنٹ کا انتظام کرنا غریب مزدور کے لئے آسان ہے۔اگر سمجھ لیں چھ لاکھ کا انتظام بھی کر لیا گیا ہے، 67ہزار روپے ماہانہ قسط کی ادائیگی25 سے30ہزار کمانے والا کہاں سے کرے گا۔ تین سال میں 2 مرلہ میں 550 سکوائر فٹ کے بنے ہوئے اپارٹمنٹ ملے گے۔

وزیراعظم پاکستان سے بالعموم اور صوبائی وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید سے بالخصوص درخواست کرنی ہے،دو مرلہ اپارٹمنٹ30لاکھ میں کا پیمنٹ شیڈول تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ایک سازش لگ رہی ہے، ملکی معیشت کی حالت زار تو جیسی تیسی ہے اس پر بحث مقصود نہیں ہے، عام آدمی کی حالت زار کیا ہے اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 15ماہ میں تو کچھ نہیں ہوا،اگر ہوا ہے تو دو مرلہ 550سکوائر فٹ کا اپارٹمنٹ30لاکھ کا، 6لاکھ کی ڈاؤن پیمنٹ کے ساتھ67ہزار ماہانہ قسط پر تو قابل عمل نہیں ہے، غریب عوام سے پہلے ہی بڑے مذاق ہوتے آ رہے ہیں،اس جان لیوا مذاق کو روکیے۔

مزید : رائے /کالم