داتا دربار خود کش دھماکہ میں ملوث دہشتگرد کو 22مرتبہ سزائے موت کا حکم جاری 

داتا دربار خود کش دھماکہ میں ملوث دہشتگرد کو 22مرتبہ سزائے موت کا حکم جاری 

  



لاہور(نامہ نگار)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے داتا دربار دھماکہ کے سہولت کارمجرم محسن خان کو 22 بار سزائے موت،ایک بار عمر قید اور4لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کاحکم سنادیاہے،عدالت نے محسن خان کوانسداد دہشت گردی کی دفعہ 7  اے ٹی اے کے تحت 11 بار اور دفعہ 302 کے تحت 11 بار موت کی سزاسنائی ہے۔یاد رہے کہ رواں سال 8 مئی کو داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب خود کش حملہ ہوا تھا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت 11 افراد شہید،30 افراد زخمی ہوئے تھے،عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم 4 لاکھ روپے جرمانہ متاثرین کو جبکہ 40،40ہزار روپے دیت 24 زخمیوں کو بھی ادا کرے گا،سانحہ داتا دربار کیس میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عبدالروف وٹو نے دلائل دیئے،عدالت کو بتایا گیا کہ محسن خان کے خلاف سی ٹی ڈی کی مد مدعیت میں مقدمہ درج کیاگیا،سرکاری وکیل نے کہا کہ محسن کا تعلق چارسدہ کے علاقے شبقدر سے ہے اور اس نے خود کش حملہ آور کو سہولت کاری فراہم کی تھی،خود کش حملہ آور کی شناخت صدیق اللہ مہمند کے نام سے ہوئی،خودکش حملہ آور صدیق اللہ اور محسن خان  6 مئی کو طور خم کے راستے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور دونوں 8 مئی کو لاہور آئے تھے جہاں انہوں نے داتا دربار کے قریب ایک مکان میں رہائش اختیار کی،گرفتار ی کے وقت خود کش حملہ آور کے سہولت کار سے بارودی مواد بھی برآمد ہوا تھا جب کہ ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے، خود کش حملہ آور کے سہولت کار سے بارودی مواد بھی برآمد ہوا تھا،عدالت نے وکلاء کے دلائل اور ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر مذکورہ بالاسزا کاحکم جاری کردیاہے، یادرہے کہ8 مئی  8 بج کر 45 منٹ کے قریب داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب خود کش حملہ ہوا تھاجس میں پولیس اہلکاروں سمیت 11 افراد شہید جبکہ 30 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

سزائے موت

مزید : صفحہ آخر