صوبائی دارالحکومت کو فضائی آلودگی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، حکومت تشویش میں مبتلا 

  صوبائی دارالحکومت کو فضائی آلودگی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، حکومت تشویش میں ...

  



لاہور(جنرل رپورٹر) صوبائی دارلحکومت میں فضائی آلودگی کی شرح میں بے تحاشا اضافے نے مستقل خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ صورتحال نے حکومتی سطح پر تشویش پیدا کی تو ایک بار پھر درختوں کی اہمیت کو بھی پوری طرح سے اْجاگر کردیا۔لاہور کو پھر سموگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیاہے جس کی وجہ سے شہریوں کا سانس لینا بھی دو بھر ہوگیا۔ رواں موسم میں تو اِس حوالے سے صورتحال انتہائی سنگین دکھائی دے رہی ہے۔ اس سارے معاملے پر اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر بھی تشویش کا اظہار سامنے آیا ہے۔ یہ تشویش بلاوجہ نہیں کیوں کہ رواں سال متعدد مواقع پر لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 580 تک پہنچ گیا تھا۔ آنے والے وقتوں کے دوران صورتحال میں مزید ابتری کے خدشات بھی موجود ہیں۔ماہرین ماحولیات کے مطابق ایسی صورتحال یہ تقاضا بھی کرتی ہے کہ درختوں کی تعداد کو بڑھایا جائے کیونکہ درختوں کی کمی بھی آلودگی میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔ماہرین کے مطابق فٹ پاتھوں اور شاہراہوں کے قریب بھرپور شجرکاری کی جائے۔ یہاں درخت لگانے سے پیدل چلنے والے سموگ کے اثرات سے کم سے کم متاثر ہوں گے۔آسمان پر گزشتہ روزدن بھر بادلوں اور سورج میں آنکھ مچولی جاری رہی۔شہر کا مطلع جزوی طور پر ابر آلود ہے۔ مخکمہ موسمیات کے مطابق کم سے کم درجہ حرارت 11اور زیادہ سے زیادہ 22ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔ موسم کا احوال بتانے والوں نے آج بھی بادلوں کے برسنے کی پیشگوئی کردی۔دوسری جانب شہر میں سموگ اور دھند کا راج برقرار ہے۔ آلودہ ترین شہروں میں لاہور دوسرے نمبر پر آگیا۔ اوسطاً ایئر کوالٹی انڈیکس 183ہوگیا۔میاں میر کالونی میں 504، اپر مال میں 330 اور لبرٹی میں 263اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا۔ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں 253، گلبرگ کا 246 اور ایئر اپورٹ کے اطراف میں 187اے کیو آئی ہوگیا۔ترجمان موٹروے کے مطابق قومی شاہراہ حد نگاہ 100میٹرہوگئی۔

 فضائی آلودگی 

مزید : صفحہ آخر