بیمار کمپنیوں اور صنعتوں کی بحالی  کیلئے ضوابط 2019 ء جاری

بیمار کمپنیوں اور صنعتوں کی بحالی  کیلئے ضوابط 2019 ء جاری

  



اسلام آباد(آن لائن) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) نے کارپوریٹ بحالی ایکٹ 2018 کے تحت بیمار کمپنیوں اور صنعتوں کی بحالی کے کام کا آغاز کرنے کیلئے ایکٹ کی دفعہ 41  کے تحت کارپوریٹ بحالی ضوابط 2019 کا اجراء کر دیا ہے۔ ان ضوابط میں بیمار صنعتوں اور کمپنیوں کی بحالی کے ماہرین کے پینل کی تشکیل، پینل میں شامل ہونے کیلئے ایسے ماہرین کی اہلیت اور طریقہ کار، ان کے معاوضوں اور ماہرین کیلئے ضابطہ اخلاق وغیرہ کو وضح کیا گیا ہے۔کارپوریٹ بحالی ایکٹ 2018 کا مقصد دیوالیہ پن کا شکار کمپنیوں کو اپنے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کیلئے قانون سازی فراہم کرنا تھا۔ اس ایکٹ کے کی دفعہ 6 کے تحت ایک کمپنی یا ایکٹ دفعہ (q)(1)2 کیتحت قرض دہندگان قرض کے معاملہ پر ثا لثی کے حکم کیلئے عدالت میں درخواست دائرکر سکتے ہیں، عدالت متعلقہ فریقین کو شنوائی کا موقع فراہم کرنے کے بعد کمپنی کی بحالی کے منصوبے کیلئے ایس ای سی پی کی جانب سے دیوالیہ کمپنیوں کی بحالی کیلئے تشکیل دئیے گئے ماہرین کے پینل میں سے کاکسی ایک ماہر کے بطور ثالث تقرر کا حکم صادر کر ے گی لہٰذاکارپوریٹ بحالی ایکٹ کے مطابق، ایس ای سی پی کی جانب سے جاری ان ضوابط میں ایسے ماہرین / افراد کی جانب سے اس پینل میں شامل ہونے کیلئے درخواستوں کاطریقہ کار اورمعیار اہلیت /نااہلی کا معیار و دیگر تفصیلات اور شرائط متعین کی گئیں ہیں۔ ان ضوابط میں ماہرین برائے دیوالیہ کے معاوضوں کے تعین کا طریقہ کاراور ماہرین برائے دیوالیہ کے معاوضوں اور کارپوریٹ بحالی ایکٹ (سی آر اے) کے تحت تعینات کی گئی انتظامیہ کو فیس اور قابل ادائیگی اخراجات کے تعین کا طریقہ کار بھی فراہم کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سی آر اے کی دفعہ (3)5کے مطابق ان ضوابط میں ماہرین برائے دیوالیہ کیلئے ضابطہ اخلاق کا بھی تعین کیا گیا ہے جوکہ مذکورہ ماہرین سیدیانت داری،خودمختار اور پیشہ ورانہ طریقے سے کام کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ 

ضوابط جاری

مزید : صفحہ آخر