بھارت کو کشمیریوں کی شناخت ختم نہیں کرنے دینگے: صدر آزاد کشمیر 

بھارت کو کشمیریوں کی شناخت ختم نہیں کرنے دینگے: صدر آزاد کشمیر 

  



مظفرآباد(این این آئی)صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کو کسی بھی صورت کشمیری شناخت ختم نہیں کرنے دیں گے۔ کشمیر ی ہر حالت میں اپنی جنگ جیتیں گے عالمی برادری بھارت  کو کشمیر ی عوام پر فوجی جبر سے روکے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر پر فعال نہیں ہے مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کے باعث اگر دو ایٹمی طاقتوں میں جنگ ہوئی تو خطہ کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کا بھی نقصان ہوگا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں حالات کو نارمل دکھانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے اس کے لئے وہ مختلف حربے استعمال کر رہا ہے، گزشتہ روزانسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اور پالیسی ریسرچ فورم کے تحت انٹرنیشنل کشمیر سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ سیشن سے سیکرٹری جموں وکشمیر لبریشن سیل منصور قادر ڈار، ڈاکٹر خالد رحمن، پروفیسر ڈاکٹر راجہ وین زانبرگ، مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی سید افتخار گیلانی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق، ڈپٹی سپیکر سردار عامر الطاف، وزیر صحت ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان، وزیر خوراک سید شوکت شاہ، وزیر ٹرانسپورٹ ناصر حسین ڈار، وزیر اے کے ایم آئی ڈی سی چوہدری شہزاد محمود، وزیر صنعت و ترقی نسواں محترمہ نورین عارف، وزیر لائیوسٹاک چوہدری محمد اسماعیل، آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی عبدالرشید ترابی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل فرحت علی میر، وائس چانسلر اے جے کے یونیورسٹی ڈاکٹر محمد کلیم عباسی، وائس چانسلر مسٹ ڈاکٹر حبیب الرحمن،ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس فہیم عباسی، سیکرٹری جموں وکشمیر لبریشن سیل منصور قادر ڈار، سیکرٹری صدارتی سیکرٹریٹ محمد ادریس عباسی، سیکرٹری اطلاعات، سیاحت و آئی ٹی محترمہ مدحت شہزاد، سیکرٹری سیرا زاہد عباسی، محکمہ جات کے سربراہان، خواتین، سول سوسائٹی کے نمائندے بھی موجود تھے۔ افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سے نکال کر اسے یک طرفہ اندرونی معاملہ بنانا چاہتا ہے۔ 5اگست سے قبل وہ اس کو صرف باہمی مسئلہ کہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں عوام کی آواز دبانے کے لئے ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔اس نے 1947سے اب تک 5لاکھ کشمیر یوں کو شہید کیا ہے اور 1990کے بعد سے 1لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا۔ صدر نے کہا کہ ہندوستان نے  جموں وکشمیر کا جعلی نقشہ جاری کیا اسے ریاست کے اسٹیٹس سے میونسپل ٹیریٹری میں تبدیل کیا اور اب وہ حالات کو نارمل دکھانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔  صدر مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں ترقی کا جھوٹا جھانسہ دیکر اور ایک سیاسی کلاس پید ا کرنے کی کو شش کر رہا ہے وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے وہ چاہتا ہے کہ جو کچھ اس نے مقبوضہ کشمیر میں کیا ہے اس پر پاکستان اور دنیا کوئی ردعمل نہ دے اور بھارت کے جرائم کو مان لیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہندوستان کو کشمیریوں کی نسل کشی سے روکے، انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر نہیں چھوڑ جاسکتا اس مسئلہ کے باعث اگر جنگ ہوتی تو اڑھائی ارب لوگ متاثر ہوں گے۔ 

سردار مسعود

مظفرآباد  (این این آئی)وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ کشمیر کا سلگتا ہو مسئلہ علاقائی امن کے لیے شدید خطرہ ہے۔ کشمیری بھی انسان ہیں ان کے بھی حقوق ہیں۔ہر کشمیری اپنی آخری سانس تک اپنے حق خودارادیت کیلئے لڑے گا۔پاکستان چھوٹا نہیں 22 کروڑ کا ملک ہے اس کو کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا،ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، امن کے علاوہ بھی دوسرا آپشن ہے۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے انسٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اور پالیسی اینڈ ریسرچ فورم جموں وکشمیر کے زیر اہتمام منعقدہ ”انٹرنیشنل کشمیر سیمینار“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی کشمیریوں کی شناخت چھیننا چاہتا ہے، کانگرس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں۔ہمیں کشمیر کی وجہ سے عزت ملی ہے ورنہ آبادی اور رقبہ پاکستان کے کئی اضلاع سے کم ہے،کشمیر کے حوالے سے میری کوئی سیاست نہیں، مودی نے دھوکے میں 5 اگست والا واقعہ کیا، ٹرمپ کو ثالثی کے جال میں پھنسایا، ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ کبھی امریکی ثالثی قبول نہیں کرنی چاہیے،پورے پاکستان کو کرکٹ نا بنائیں۔ہم نے بہت سارے مواقع ضائع کیے،تمام لوگوں کو ساتھ لیکر چلیں گے آزادکشمیر کے لوگ اکٹھے ہو کر کھڑے ہونگے تو اس پار اچھا پیغام جائیگا۔کشمیربھارت کا کبھی حصہ نہیں رہا ہمارا کلچر ہماری تہذیب اس سے الگ ہے مودی آر ایس ایس اس کے کلچر کو ثقافت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ہندوستان یاسین ملک کو پھانسی دینا چاہتا ہے مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی مگر وہ آج بھی کشمیریوں کے ہیرو ہیں۔آزادکشمیر کی کسی جیل میں کوئی سیاسی قیدی نہیں۔کشمیری اپنی آخری سانس تک لڑتے رہیں گے۔ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام اس مسئلہ کے بنیادی فریق ہیں جبکہ اقوام متحدہ بھی اس مسئلے میں فریق ہے۔آزادکشمیر کے لوگوں کو مکمل آزادی جبکہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن اور وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ہر 7اشخاص پر ایک فوجی مسلط ہے۔ 1989سے لیکر اکتوبر 2019ء  تک وہاں 96ہزار افراد شہید ہوئے ہیں۔ 23ہزار خواتین بیوہ،11ہزار خواتین کی عصمت دریاں کی گئیں اور1لاکھ بچے یتیم ہوئے۔ ہندوستان نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں AFPSA اور PSA جیسے کالے قوانین کا نفاذ کررکھا ہے جو اس کی قابض فورسز کو شہریوں پر تشدد،قتل عام، خواتین کی بے حرمتی اورشہریوں کو اغواء کرنے میں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جولائی2016سے اب تک 10ہزار جوان پیلٹ گن کا نشانہ بن چکے ہیں اور147نوجوان مکمل طور پر اپنی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں جن میں 17ماہ کی معصوم بچی حبہ بھی شامل ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ تین سالوں میں 10ہزار سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی رپورٹس درج ہوئی ہیں جبکہ مقبوضہ وادی کے 6اضلاع میں 6ہزار سے زائد گمنام قبروں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس میں مختلف ملکوں سے بھی سکالرزبھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر راگنر وین زوانے، ڈاکٹر عاصمہ خواجہ، پروفیسر یشپال ٹنڈن، ڈاکٹر اکس کلاٹزڈز، ڈاکٹر حالل ٹوکر، فرزانہ یعقوب، سید محمد علی، خالد رحمان، افتخار گیلانی، ڈاکٹر فضل ہادی وظیم، ڈاکٹر سید محمد انور، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل آزادکشمیر فرحت علی میر اور راجہ سجاد خان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں سینئر وزیر حکومت آزادکشمیر چوہدری طارق فاروق، وزرا ء حکومت سید شوکت علی شاہ، چوہدری محمد اسماعیل، ناصر حسین ڈار، چوہدری محمد شہزاد، سیکرٹریز حکومت،وائس چانسلرز،سربراہان محکمہ جات اور طلباء و طالبات سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ کشمیریوں کو بھی امن سے محبت ہے لیکن اس وقت تک امن کا قیام ممکن نہیں جب کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہو جاتا۔ بیس کیمپ کی حکومت پورے جموں وکشمیر کی نمائندہ حکومت ہے۔

راجہ فاروق حیدر

مزید : صفحہ آخر